میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"

Tuesday, February 14, 2012

* اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ: من گھڑت حدیث*

سعودی عرب کے مشہور مفتی اعظم  شیخ عبداللہ بن البازکی تحقیق اورفیصلہ کہ حدیث أنامدینۃالعلم وعلی بابھا،حدیث نہیں کسی کاگھڑاہوا قول ہے۔

امام عجلونی رحمۃ اللہ علیہ کشف الخفاء میں فرماتے ہیں کہ: یہ حدیث سندکے لحا ظ سے مضطرب اور غیر ثابت ہے۔جیسا کہ امام داراقطنی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب العمل میں فرمایا ہے ۔ اور امام ترمذی فرماتے ہیں یہ قول بطور حدیث کہ نہیں پہچانا گیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی سند صحیح نہیں ۔ نیز حضرت خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے امام یحیی بن معین سے نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ یہ اس قول کو حدیث کہنا سراسر جھوٹ ہے، اس کی کوئی بنیاد نہیں۔
علاوہ ازیں حافظ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے موضوعات (من گھڑت) روایات میں شمار کیا ہے اور حافظ ذہبی وغیرہ نے ان کی تائید کی ہے۔ امام ابوذرعہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس روایت کو نقل کرکے نجانے کتنے لوگوں کو شرمندگی اٹھانی پڑی (اس کے جھوٹا ہونے کی وجہ سے)۔
امام ابوحاتم اور یحیی بن سعید فرماتے ہیں کہ یہ بے بنیاد روایت ہے، اور حافظ ابن دقیق العید نے فرمایا ہے کہ محدثین نے اسے ثابت شدہ تسلیم نہیں کیا۔
(علاوہ ازیں اسی سے ملتی جلتی ایک اور روایت ہے) جسے دیلمی نے اپنی کتاب الفردوس میں نقل کیا ہے لیکن اس کی سند ذکر نہیں کی ۔(جس سے پتہ چلے کہ راوی ثقہ تھے یا نہیں ) اس روایت کے الفاظ یہ ہیں:
أنا مدینۃ العلم وأبوبکرأساسھا وعمر حیطانھا و عثمان سقفھا وعلی بابھا
’’میں علم کا شہر ہوں۔ ابوبکراس کی بنیاد ہیں۔ عمر اس کی دیوار یں ہیں۔ عثمان اس کی چھت ہیں اورعلی اس کا دروازہ ہیں۔‘‘
          اس طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ’’أنا مدینۃ العلم وعلی بابھا ومعاویۃ حلقتھا
 میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں اور معاویہ اس کی کنڈی ہیں۔‘‘ 
امام سخاوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب المقاصدمیں فرماتے ہیں’’خلاصہ یہ کہ یہ تمام روایات ضعیف ہیں اور ان کی الفاظ سند کے لحاظ سے انتہائی کمزور ہیں۔
 علامہ نجم الدین فرماتے ہیں:’’یہ تمام روایات ضعیف اور نہایت درجہ کمزور ہیں۔‘‘
شیخ ابن باز فرماتے ہیں:’’میں کہتا ہوں یہ روایات ضعیف نہیں بلکہ موضوع ہیں۔ (ان کو حدیث کہنا ہی غلط ہے)۔
اقتباس : التحفۃ الکریمۃ فی بیان بعض الأ حادیث الموضوعۃ والسقیمۃ۔
ترجمہ :  حافظ مولانا محمدعمران دہلوی ۔
ادارہ’’سنپ‘‘ موصوف کا ہمہ تن مشکور و ممنون ہے۔
یاد آوری جاری رکھنے کی التماس۔[شکریہ]


1 : : : ----- ((( تبصرے جات ))):

Anonymous said...

یہ تمام تبصرہ جو اآپ نے اس حدیث کو مچ گھڑت ثابت کرنے کے لیے کیا ہے، یہ دراصک درج ذیل حدیث کے لئے
ہے:
میں علم کا شہر ہوں۔ ابوبکراس کی بنیاد ہیں۔ عمر اس کی دیوار یں ہیں۔ عثمان اس کی چھت ہیں اورعلی اس کا دروازہ ہیں۔

جیسا کہ اس تحقیق میں بھی لکھا ہے۔ اس لئے اآپ کا موضوع غلط ہے اور یہ صرف اآپ کی حضرت علی کرماللہ وجہہ سے منافقت ثابت کر رہا ہے اور یہ بھی اآپ نے پڑھا ہی ہوگا
ام المومنين حضرت سلمہ رضي اللہ عنہا فرماتي ہيں کہ :
کان رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم يقول لا يحب عليا منافق ولا يبغضه مومن

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ کوئی منافق علی رضی اللہ عنہ سے محبت نہیں کر سکتا اور کوئی

مومن علی رضی اللہ عنہ سے بغض نہیں رکھ سکتا۔

(جامع الترمذي، 2 : 213)


عن زر قال قال علي والذي فلق الحبة و برالنسمة انه لعهد النبي صلي الله عليه وآله وسلم الي ان لا يحبني الا مومن ولا يبغضني الا منافق

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ چیرا اور جس نے جانداروں کو پیدا کیا رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور صرف منافق مجھ سے بغض

رکھے گا۔

(صحيح مسلم، 1 : 60)


عن ابن عباس رضي الله عنه انه قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم انا مدينة العلم و علي بابها فمن اراد العلم فليات الباب

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں شہر علم ہوں اور

علی اس کا دروازہ ہیں پس جو کوئی علم کا ارادہ کرے وہ دروازے کے پاس آئے۔

1. المعجم الکبير لطبراني، 11 : 55
2. مستدرک للحاکم، 3 : 126 - 127، رح : 11061
3. مجمع الزوائد، 9 : 114

Post a Comment

خوش آمدید