میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"

Sunday, December 25, 2011

”جہادی ریمبو سے کامیڈین ڈکٹیٹر “

”ہالی ووڈ کی زیر تکمیل فلم The Dictatorکا پاکستانی تجزیہ
          میری عمر کے پاکستانیوں نے جب آنکھیں کھولیں تو اپنے اردگرد آمریت اور محب ِوطن اور اسلام پسند۔۔مُلا ہی مُلا دیکھے ۔
مکمل تحریر >>>

”سجادہ نشینوں کی پا پوشیاں “

”قیام ِ  پاکستان سے پہلے    اور    قیام ِ پاکستان کے بعد“

ـــــــ قیام ِ  پاکستان سے پہلے  ــــــــ
جون 1857ء کو ملتان چھاؤنی میں پلاٹون نمبر69کو بغاوت کے شبہ میں نہتا کیا گیا اور پلاٹون کمانڈر کو بمع دس سپاہیوں کے توپ کے آگے رکھ کر اڑا دیا گیا۔ آخر جون میں بقیہ نہتی پلاٹون کو شبہ ہوا کہ انہیں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں فارغ کیا جائے گا اور انہیں تھوڑا تھوڑا کرکے تہہ تیغ کیا جائے گا۔
مکمل تحریر >>>

”جرمنوں“ کی سرد جنگ

عوام تو عوام ہے ، چاہے جرمنی کی سرد جنگ لڑتی ہو،یا پاکستان کی کرسی لوٹتی :
نواب اسلم رئیسانی (وزیر اعلیٰ بلوچستان)

اب نوکیا کی جانب سے سمارٹ فونز کے لیےسیمبئین اور میگو آپریٹنگ سسٹمز کی بجائے مائیکروسافٹ ونڈوز فون 7.5 کا انتخاب کیا گیا ہے اور لومیا 800 اس سیریز کا پہلا فون ہے۔
مکمل تحریر >>>

Saturday, December 17, 2011

”نیٹوکا حملہ“ اور پاکستان کا مستقبل

فوج پر نیٹو کے حالیہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر ایک فکر انگیز تحریر
 ایک ایسی قوم جس کی پوری تاریخ عہد شکنی، خیانت، بے وفائی، خود غرضی اور ہوس جیسی صفاتِ رذیلہ سے بھری پڑی ہو،جس کے اجداد مغرب بھر کے جرائم پیشہ افراد، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملعون ٹھہرائے گئے یہود اور اندلس کے مسلمانوں کے دین، نفس و مال کوتاراج کرنے والے عیسائی ہوں، جس کی ٹپکتی رال میں لاکھ ہا سرخ ہندیوں اور افریقیوں کے خون کی سرخی عیاں ہو، صومالیہ ، یمن، افغانستان، عراق جہاں نظر دوڑائی جائے، کروڑہا انسان جس کے ظلم کو آج تک سہہ رہے ہوں، دنیا بھر کے قحط زدہ علاقے جس کی خود غرضی اور ہوس پرستی پر گواہ ہوں،جس کی معلوم تاریخ میں کوئی ایک بھی واقعہ اسکے خیر پر گواہی نہ دے پا رہا ہو،اس پر کوئی اعتماد کرے اور اس سے خیر کی توقع رکھے  تو کیونکر؟
مکمل تحریر >>>

Friday, December 16, 2011

16 دسمبر کا پیغام

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے 21 مارچ 1948ءکو بحیثیت گورنر جنرل مشرقی پاکستان کا دورہ کرتے ہوئے ڈھاکا میں یہ اعلان کیا کہ پاکستان کی سرکاری زبان صرف ”اُردو “ہوگی۔ یہ اعلان مشرقی پاکستان کے بنگالی شہریوں کو پسند نہیں آیا۔ بنگالی مسلمان متحدہ پاکستان کی آبادی کا 54فیصد تھے۔ ان کی زبان خطے کی قدیم زبانوں میں سے ایک تھی۔ جبکہ وہ سمجھتے تھے کہ اُردو چند سو سال پرانی نسبتاً ایک نئی زبان ہے جس کو بولنے اور سمجھنے والوں کی تعداد مشرقی پاکستان کے علاقوں میں چند فیصد سے زیادہ نہیں تھی۔ کیونکہ مسلم لیگ کا قیام بنگال کے شہر ڈھاکا میں عمل میں آیا تھا۔ وہاں کے لوگ مسلم لیگ کے منشور اور ایجنڈے سے کماحقہ‘ واقف تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُردو کو پاکستان کی سرکاری زبان بنانے کا اعلان مسلم لیگی قیادت نے قیام ِ پاکستان تک کبھی نہیں کیا تھا اور نہ یہ بات لیگ کے انتخابی منشور کا حصہ رہی ہے اور نہ ہی یہ ایشو تحریک ِ پاکستان کے دوران کبھی سامنے لایا گیا تھا۔ اُنہیں قائداعظم کی نیت اور خلوص پر کوئی شبہ نہیں تھا۔ لیکن یہ خدشہ ضرور تھا کہ بابائے قوم کے اِس اعلان سے اُن کی حق تلفی ہوگی‘ اُن کی زبان دب جائے گی اور اُن کے نوجوان اُردو سے نابلد ہونے کی وجہ سے ترقی نہیں کرسکیں گے۔
مکمل تحریر >>>

Thursday, December 15, 2011

حویلی کا راز


مسلمانوں میں تفرقہ کو فروغ دینے والے
ایک خفیہ برطانوی ادارے کا چشم کشا احوال 
 
”نواب راحت خان سعید خان چھتاری 1940 ءکی دہائی میں ہندوستان کے صوبے اتر پردیش کے گورنر رہے۔انگریز حکومت نے انہیں یہ اہم عہدہ اس لئے عطا کیا کہ وہ مسلم لیگ اور کانگریس کی سیاست سے لاتعلق رہ کر انگریزوں کی وفاداری کا دم بھرتے تھے۔نواب چھتاری اپنی یاداشتیں لکھتے ہوئے انکشاف کرتے ہیں کہ:
مکمل تحریر >>>

بیوی کا عاشق(حصہ دوم)

ایک شوہر کا اپنی بیوی کو خراج تحسین
یہ1997 اکتوبر کی آخر ی رات تھی ۔جوں جوں رات بیت رہی تھی اس کی بے کلی اور بے قراری میں اضافہ ہوتاجا رہا تھا۔ وہ کبھی بیٹھ جاتی اور کبھی ادھر ادھر گھومنے لگتی ۔ اسے طرح طرح کے اندیشے اور خیال آر ہے تھے۔ اس کا دلِ مضطرب مسلسل دعا میں مصروف تھا۔
مکمل تحریر >>>

بیوی کا عاشق(حصہ اول)

 کسی جگہ ایک بوڑھی مگر سمجھدار اور دانا عورت رہتی تھی جس کا خاوند اُس سے بہت ہی پیار کرتا تھا۔دونوں میں محبت اس قدر شدید تھی کہ اُس کا خاوند اُس کے لیے محبت بھری شاعری کرتا اور اُس کے لیے  شعر کہتا تھا۔عمر جتنی زیادہ ہورہی تھی، باہمی محبت اور خوشی اُتنی ہی زیادہ بڑھ رہی تھی۔جب اس عورت سے اُس کی دائمی محبت اور خوشیوں بھری زندگی کا راز پوچھا گیاکہ آیا وہ ایک بہت ماہر اور اچھا کھانا پکانے والی ہے؟یا  وہ بہت ہی حسین و جمیل اور خوبصورت ہے؟یا وہ بہت زیادہ عیال دار اور بچے پیدا کرنے والی عورت رہی ہے؟یا اس محبت کا کوئی اور راز ہے؟
مکمل تحریر >>>

Saturday, December 10, 2011

کیا یزید ابن معاویہ ”لعنت“ کے مستحق ہیں؟

یزید کے معاملے میں لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہیں:
دو انتہائیں، اور تیسری راہ وسط ہے۔
          دو انتہاؤں میں سے ایک کا کہنا ہے کہ یزید کافر تھا۔ منافق تھا۔ اسی نے نواسۂ رسول کے قتل کی تمام تر سعی کی، جس سے اس کا مقصد بھی رسول اللہ ﷺ سے اپنا بدلہ نکالنا تھا اور اپنے آباءو اجداد کا انتقام لینا اور اپنے نانا عتبہ اور نانا کے بھائی شیبہ اور ماموں ولید بن عتبہ وغیرہ کے خون کا حساب بے باک کرنا کہ جن کو نبیﷺ نے بدر کے روز علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور حمزہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی تلواروں سے قتل کرایا تھا۔ اِس فریق کا کہنا ہے کہ یزید نے در اصل بدر کے بدلے چکائے تھے اور جاہلیت کے حسابات بے باک کئے تھے۔ اس فریق نے یزید کی زبان سے یہ شعر بھی کہلوائے ہیں:
مکمل تحریر >>>

Friday, December 9, 2011

میں ایک قتل کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔

          میری اب تک کی گمشدگی سے محفوظ یاداشت میں دو تین واقعات ایسے تھے کہ جب وہ سماعت تک پہنچے تو لگا یہ معاشرہ تباہی اور بداخلاقی کی جانب تیزی سے گامزن اور عذاب الہٰی کا اہل ہوچکا ہے۔

مکمل تحریر >>>

اگر آندرے کی جگہ میں ہوتا تو ۔۔۔

          اگر اس کی جگہ میں ہوتا تو اب تک گوانتا ناموبے میں ہوتا یا کسی کال کوٹھری میں پھانسی کی سزا کا منتظر ہوتا۔ میرے اہل خانہ اور دوست احباب کڑی تفتیش کے عمل سے گزر رہے ہوتے۔ میرے سیل فون میں موجود تمام نمبرز کی جانچ پڑتال ہورہی ہوتی اور سب کے سب بے چارے اس جرم میں کہ میرے موبائل میں ان کا نمبر saved تھا سخت ذہنی اذیت کا سامنا کررہے ہوتے۔ وہ بے چارے بھی جو شاید مجھے جانتے تک نہیں۔
          میری اس حرکت پر نہ جانے کتنے ٹاک شوز ہوچکے ہوتے۔ شاید اس جرم کی پاداش میں نیٹو میرے وطن کی اینٹ سے اینٹ بجادیتا یا پھر میرے اپنے ہی ملک کی سیکورٹی فورسز مجھے عالمی عدالت کے حوالے کردیتیں۔ دنیا بھر سے میری، میرے عقائد، میرے نظریات کی مذمت کی جارہی ہوتی، مجھے انتہا پسند ،بنیاد پرست،دہشت گرد  اور نہ جانے کیا کچھ کہا جارہا ہوتا،چاہے وہ میرا اپنا انفرادی یا ذاتی عمل ہی کیوں نہ ہوتا یا پھر میرا پاگل پن ہوتا تب بھی۔
          لیکن چونکہ وہ میں نہ تھا بلکہ کوئی اور تھا اس لئے یہ سب کچھ نہ ہوا، بس ایک خبر ہوئی اور آکر گزر گئی، چند فالو اپس اور بس، ایک خبر کی اہمیت ہی کتنی ہوتی ہے، یہ واقعہ بھی ماضی کا حصہ بن جائے گا، ہمارا میڈیاجب   چاہے تو رائی کا پہاڑ بنادے اور چاہے تو پہاڑ کو رائی بنادے ۔
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

مکمل تحریر >>>

Friday, December 2, 2011

”دانشوری“پہ کون نہ مرجائے اے خدا

          دیکھیے بات کتنی بڑھ چکی ہے۔ پھر بھی کچھ لوگ وقت کے بگٹٹ بھاگتے گھوڑے کے پیچھے پیدل دوڑدوڑکر اُس کی لگام پکڑنے اور اُسے پُرانی ڈگر پر واپس پھیرنے کے چکر میں”سلطان لہولہان“ ہوئے جارہے ہیں۔تو کیا یہ ”رجعت پسندینہیں ہے؟
مکمل تحریر >>>