میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"
Showing posts with label مغربی انتہاپسندی. Show all posts
Showing posts with label مغربی انتہاپسندی. Show all posts

شکریہ ” برینٹن ٹیرینٹ“ شکریہ

 دنیا بھر میں مسلمانوں کا قتل ِ عام روز ِ ازل سے جاری ہے  ۔۔۔۔ شام ، عراق ، یمن ، فلسطین ، برما ، کشمیر اور افغانستان لہو لہو ہیں مگر پھر بھی مسلمانوں پر ہی دہشتگردی کا لیبل لگایا جاتا ہے ۔تاریخ شاہد ہے دنیا میں جتنے بھی بڑے بڑے قتل ِ عام ہوئے ہیں ان کے پیچھے  کم از کم مسلمانوں کا ہاتھ نہیں ہے ۔ہم دلیلیں دے دے کر  تھک گئے تھے کہ اسلام امن پسند دین ہے ، پر کوئی مانتا ہی نہیں تھا ۔
۔۔۔۔۔ آسٹریلوی صلیبی قاتل ” برینٹن ٹیرینٹ“ تمہارا شکریہ کہ تمہاری اس خونخواری نے دنیا کو فکر کی ایک نئی جہت دی ۔

مکمل تحریر >>>

ذہنی مریض

 جن لوگوں نے نیویارک کے ٹاورز سے جہاز ٹکرائےتھے اگر وہ بھی” ذہنی مریض “ ڈکلیئر ہوجاتے تو افغانستان میں لاکھوں جانیں بچ جاتیں لیکن کیا کیا جائے بش جونیئر نے جلد بازی میں کروسیڈ وار ( صلیبی جنگ ) شروع کردی تھی ۔
مکمل  رپورٹ پڑھنے کےلیے ”یہاں“ کلک کیجیے
مکمل تحریر >>>

بھٹو خاندان کا اگلا پلے بوائے شہید !!!


 پی پی پلے بوائے گروپ کے خوبرو جیالے جوان بلاول زرداری نے کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کو مبارکباد کا پیغام دیتے ہوئے جب اس صلیبانہ خواہش کا اظہار کیا  کہ وہ پاکستان میں بھی ایک عیسائی وزیر اعظم دیکھنے کے خواہاں ہیں، تو ایسا گمان ہوا کہ گویا ان میں مصری آمر جنرل عبدالفتاح السیسی اور باراک اوبامہ کی زندہ روحیں حلوت کر چکی ہیں۔
مکمل تحریر >>>

مد و جزر !!!


یونانیوں کا  ’’نیلس‘‘ اور سامیوں کا  ’’نہل‘‘ اب دریائے نیل ہے، جس کے نیلگوں پانیوں میں تلاطم بپا ہے۔ یہ عیسوی تقویم سے بھی 415 سال پہلے کی بات ہے،  یونان کے حکمران خاندان کے خلاف انقلاب بپا کرنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد ملک بدر ہونے والا ہیروڈوٹس پھر دنیا بھر کی سیاحت پر نکل کھڑا ہوا۔ وہی اب علم کی دنیا میں تاریخ نویسی کا بانی کہلاتا ہے۔ اُسی نے دریائے نیل کو ’’مصر کا تحفہ‘‘ کہا تھا۔ دریائے نیل نے انقلابات ِ زمانہ کے کتنے ہی مدوجزر دیکھے اور دکھلائے ہیں۔ اب وہ ایک اور طوفان کا سامنا کررہا ہے۔
مکمل تحریر >>>

مرسی: اسٹیبلشمنٹ کے حلق کا کانٹا !!!

مصر میں آخروہی ہوا، جس کا خدشہ اسی دن سے ظاہر کیا جارہاتھا جس دن ڈاکٹر محمد مرسی نے اقتدار سنبھالا تھا ۔لوگ سوال کررہے ہیں کہ ایسی کون سی قیامت آگئی تھی کہ صرف ایک سال کی مدت میں مصری فوج کو منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کرنا پڑی اور حکومت کا تختہ الٹنا پڑا  ؟؟؟؟
مکمل تحریر >>>

مرسی: خود مختار مصر کے بانی!!!

صدر مرسی نے طویل آمریت سے نومولود ”مصر“میں اپنی یک سالہ تاریخی جدوجہد میں بے پناہ کامیاب پالیسیوں کے نتیجے میں معاشی ماہرین اور اپنوں و غیروں کو شسدرکردیا ۔انہی کامیابیوں نے یہودی و عیسائی سامراج کی راتوں کی نیندیں اڑا دیں ۔یہودی سامراج نے انقرہ کے بعد قاہرہ بھی اپنے ہاتھوں سے نکلتا دیکھ کر اپنی گٹھیوں میں شامل سازشی عناصر کو ایک بار پھر اسلامی سلطنت کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے لیےمصری   میر جعفر اور میر صادق کے کندھوں پر کمان رکھ کر تیر چلاکر تماش بین بننے کا کامیاب مظاہرہ کردیا ۔دردِ دل رکھنے والے یاد رکھیں سامراج کی یہ وقتی کامیابی سمندر کی جھاگ کی مانند ہے ۔
مکمل تحریر >>>

چل پڑھا !!!

ذرائع ابلاغ ملک و قوم کی طاقت ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں ذرائع ابلاغ کا بڑا حصہ ملک و قوم کی کمزوری بن گیاہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پاکستان میں ابلا غ کے بیشتر ذرائع پورس کے ہاتھیوں کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنی ہی صفوں کو کچل رہے ہیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ پاکستانی قوم مکے اور مدینے کی طرف دیکھ رہی ہے اور پاکستانی ذرائع ابلاغ واشنگٹن ‘ لندن اور نئی دہلی کی طرف رخ کیے کھڑے ہیں۔
مکمل تحریر >>>

تہذیبی تصادم کی مغربی سازش !


فرانس میں اگر کوئی شخص دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودیوں پر ڈھائے جانے والے نازی مظالم کی حقیقت سے انکار کرے یا ان پر شبہ ظاہر کرے تو اسے ”نسل پرستی “پر مبنی جرم قرار دے کر قانونی کاروائی کی جاتی ہے ،
مکمل تحریر >>>

پاکستان کا مطلب کیا؟ ذرا سوچیے!

آج کل ایک ٹی وی پر ایک جملہ بار بار سنایا جارہا ہے بالکل اسی طرح جس طرح کسی زمانے میں حدود آرڈیننس کے خلاف سنایا جارہا تھا۔ ’’ذرا سوچیے‘‘ اور اس سے پہلے کچھ اور کہا اور سنایا جاتا تھا اب کہا جاتا ہے اور پڑھنے لکھنے کے سوا پاکستان کا مطلب کیا۔ پاکستانی قوم نے قیام پاکستان سے پہلے اور اس کے بعد 60 برس تو یہی سبق سنا اور پڑھا ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہٰ الا اللہ لیکن اب بتایا جارہا ہے کہ پاکستان کا مطلب بس صرف پڑھنا لکھنا ہے۔ گویا یہ براہ راست نظریہ پاکستان پر حملہ ہے۔
مکمل تحریر >>>

بلڈنگ واٹ مہم !!!


گیارہ  سال پہلے ستمبر کی گیارہ تاریخ کو نیویارک کے ٹریڈ ٹاورز کی پر اسرار تباہی کے خوفناک واقعے نے دنیا کو جس طرح درہم برہم کر دیا وہ محتاج وضاحت نہیں۔اس واردات کے بعد کسی ثبوت وجواز کے بغیرسپر پاور کا غیظ و غضب دنیا کے سب سے مفلوک الحال ملک افغانستان پر ٹوٹا اور بعد میں عراق کو بھی اسی بہانے برباد کر دیا گیا جبکہ پوری دنیا میں مسلمانوں اور اسلام کو دہشت گردی کا ہم معنی بنادیا گیا۔
مکمل تحریر >>>

امریکی گورباچوف !!!


جب سے امریکا کی بیس ریاستوں کے شہریوں نے امریکا سے علیحدگی کے لیے عدالت میں درخواست جمع کرائی ہے تو یہ سوال زباں زد خاص و عام ہے کہ کیا امریکا بھی سوویت یونین کے انجام سے دور چار ہوجائے گا؟کیا اوباما امریکا کے گورباچوف ثابت ہوں گے؟امریکا کا المیہ یہ ہے کہ ریڈ انڈینز کے اس ملک پر یورپی گوروں نے غلبہ قائم کیے رکھا اور اس غلبے کے بعد فرزندان زمین یعنی سیاہ فام زیردست اور دوسرے درجے کے شہری ہو کر رہ گئے جبکہ آباد کار گورے برتر اور خطے کے مالک و مختار بن بیٹھے۔
مکمل تحریر >>>

مرگِ انبوہ (Holocaust)

مرگ انبوہ، جسے انگریزی میں Holocaust بھی کہا جاتا ہے دراصل دوسری جنگ عظیم کے دوران قتلِ عام کا شکار ہونے والے تقریباً یہودیوں کی جرمنی کے چانسلرایڈوولف ہٹلر کی نازی افواج کے ہاتھوں مبینہ ہلاکت سے منسوب ہے۔
مکمل تحریر >>>

*قادیانی : یہودی غلام*

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 600سے زائد قادیانی  اسرائیل ڈیفنس فورسز میں مختلف عہدوں پر رضاکارانہ خدمات انجام دے رہے ہیں جب کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے ترجمان کا موقف ہے کہ 
مکمل تحریر >>>

پُراَسرار اَموات

امریکی تحقیقاتی صحافی جیرالڈ پوزنر کی ایک کتاب  Why America Sleptکے کچھ مندرجات پڑھنےکا اتفاق ہوا۔ اس کتاب میں انہوں نے ستمبر 11 کے وقوع پذیر ہونے کی وجوہات اور اس کے بعد کے حالات کا جائزہ لیا ہے۔ مختصراً یہ کہ ان کے مطابق اس واقعے کی ذمہ داری ناقص انٹیلی جنس پر عائد ہوتی ہے۔
مکمل تحریر >>>

گوانتاناموبے جیل کے 10سال مکمل

امریکہ کی بدنام زمانہ گوانتانا موبے جیل کو 10 برس مکمل ہوگئے اور اس کے بند کرنے کے وعدوں کے باوجود وہاں تاحال 171 قیدی کسمپرسی سے زندگی گزار رہے ہیں۔
مکمل تحریر >>>

”جہادی ریمبو سے کامیڈین ڈکٹیٹر “

”ہالی ووڈ کی زیر تکمیل فلم The Dictatorکا پاکستانی تجزیہ “
          میری عمر کے پاکستانیوں نے جب آنکھیں کھولیں تو اپنے اردگرد آمریت اور محب ِوطن اور اسلام پسند۔۔مُلا ہی مُلا دیکھے ۔
مکمل تحریر >>>

”نیٹوکا حملہ“ اور پاکستان کا مستقبل

فوج پر نیٹو کے حالیہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر ایک فکر انگیز تحریر
 ایک ایسی قوم جس کی پوری تاریخ عہد شکنی، خیانت، بے وفائی، خود غرضی اور ہوس جیسی صفاتِ رذیلہ سے بھری پڑی ہو،جس کے اجداد مغرب بھر کے جرائم پیشہ افراد، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملعون ٹھہرائے گئے یہود اور اندلس کے مسلمانوں کے دین، نفس و مال کوتاراج کرنے والے عیسائی ہوں، جس کی ٹپکتی رال میں لاکھ ہا سرخ ہندیوں اور افریقیوں کے خون کی سرخی عیاں ہو، صومالیہ ، یمن، افغانستان، عراق جہاں نظر دوڑائی جائے، کروڑہا انسان جس کے ظلم کو آج تک سہہ رہے ہوں، دنیا بھر کے قحط زدہ علاقے جس کی خود غرضی اور ہوس پرستی پر گواہ ہوں،جس کی معلوم تاریخ میں کوئی ایک بھی واقعہ اسکے خیر پر گواہی نہ دے پا رہا ہو،اس پر کوئی اعتماد کرے اور اس سے خیر کی توقع رکھے  تو کیونکر؟
مکمل تحریر >>>

حویلی کا راز


مسلمانوں میں تفرقہ کو فروغ دینے والے
ایک خفیہ برطانوی ادارے کا چشم کشا احوال 
 
”نواب راحت خان سعید خان چھتاری 1940 ءکی دہائی میں ہندوستان کے صوبے اتر پردیش کے گورنر رہے۔انگریز حکومت نے انہیں یہ اہم عہدہ اس لئے عطا کیا کہ وہ مسلم لیگ اور کانگریس کی سیاست سے لاتعلق رہ کر انگریزوں کی وفاداری کا دم بھرتے تھے۔نواب چھتاری اپنی یاداشتیں لکھتے ہوئے انکشاف کرتے ہیں کہ:
مکمل تحریر >>>

اگر آندرے کی جگہ میں ہوتا تو ۔۔۔

          اگر اس کی جگہ میں ہوتا تو اب تک گوانتا ناموبے میں ہوتا یا کسی کال کوٹھری میں پھانسی کی سزا کا منتظر ہوتا۔ میرے اہل خانہ اور دوست احباب کڑی تفتیش کے عمل سے گزر رہے ہوتے۔ میرے سیل فون میں موجود تمام نمبرز کی جانچ پڑتال ہورہی ہوتی اور سب کے سب بے چارے اس جرم میں کہ میرے موبائل میں ان کا نمبر saved تھا سخت ذہنی اذیت کا سامنا کررہے ہوتے۔ وہ بے چارے بھی جو شاید مجھے جانتے تک نہیں۔
          میری اس حرکت پر نہ جانے کتنے ٹاک شوز ہوچکے ہوتے۔ شاید اس جرم کی پاداش میں نیٹو میرے وطن کی اینٹ سے اینٹ بجادیتا یا پھر میرے اپنے ہی ملک کی سیکورٹی فورسز مجھے عالمی عدالت کے حوالے کردیتیں۔ دنیا بھر سے میری، میرے عقائد، میرے نظریات کی مذمت کی جارہی ہوتی، مجھے انتہا پسند ،بنیاد پرست،دہشت گرد  اور نہ جانے کیا کچھ کہا جارہا ہوتا،چاہے وہ میرا اپنا انفرادی یا ذاتی عمل ہی کیوں نہ ہوتا یا پھر میرا پاگل پن ہوتا تب بھی۔
          لیکن چونکہ وہ میں نہ تھا بلکہ کوئی اور تھا اس لئے یہ سب کچھ نہ ہوا، بس ایک خبر ہوئی اور آکر گزر گئی، چند فالو اپس اور بس، ایک خبر کی اہمیت ہی کتنی ہوتی ہے، یہ واقعہ بھی ماضی کا حصہ بن جائے گا، ہمارا میڈیاجب   چاہے تو رائی کا پہاڑ بنادے اور چاہے تو پہاڑ کو رائی بنادے ۔
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

مکمل تحریر >>>

”دانشوری“پہ کون نہ مرجائے اے خدا

          دیکھیے بات کتنی بڑھ چکی ہے۔ پھر بھی کچھ لوگ وقت کے بگٹٹ بھاگتے گھوڑے کے پیچھے پیدل دوڑدوڑکر اُس کی لگام پکڑنے اور اُسے پُرانی ڈگر پر واپس پھیرنے کے چکر میں”سلطان لہولہان“ ہوئے جارہے ہیں۔تو کیا یہ ”رجعت پسندی“ نہیں ہے؟
مکمل تحریر >>>