میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"
یہ 11دسمبر 2003ء
کا ذکر ہے۔ سہ پہر کے تین بج رہے تھے۔ تھکے ماندے گلی میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ
سب سے چھوٹی بیٹی یمنیٰ گھر کے دروازے پر اپنی تین پہیوں والی سائیکل پر بیٹھی
گویا انتظار کر رہی تھی۔ ہمیں دیکھتے ہی اُس نے گیٹ سے گھر کے اندر کی طرف منہ
ڈالا اور ایک زوردار نعرہ مارا:
’’ابو آگئے!‘‘
اُس کا یہ نعرہ سن کر عمار اور شمامہ بھی گھر سے نکل آئے۔ عمار میاں نے
(جن کی عمر اُس وقت بارہ برس ہو چکی تھی) اپنے مخصوص سنسنی خیز انداز میں خبر دی:
’’ابو! جنھوں نے آپ کا نکاح پڑھایا تھا، اُن
کو ہارٹ اٹیک ہوگیا ہے‘‘۔
مکمل تحریر >>>
ویسے آپس کی بات ہے صدر
پاکستان سید ممنون حسین نے سود جائز کردینے کی اپیل اُن علما ءسے کی ہے۔۔۔
مکمل تحریر >>>
بین الاقوامی شہرت پانے والی ”ملالہ یوسفزئی“ کو امن
کا نوبل ایوارڈ تو نہ مل سکا لیکن ایک
مقامی ویب سائٹ نے ”ملالہ ڈرامہ “ کا بین الاقوامی راز فاش کردیا ۔ ویب سائٹ کی
تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملالہ کا قصہ ”پاکستانی
اور امریکی ایجنسیوں کا تیار کردہ ڈرامہ” تھا ، اس پر حملہ بھی جعلی تھا ۔
مکمل تحریر >>>
سولجر بازارکے علاقے ” ڈولی کھاتا“
میں مندر کا انہدام۔ہندو برادری کی جانب سے مذمت اور
احتجاج۔
صدرپاکستان نے رپورٹ طلب کرلی۔
یکم دسمبر 2012ء، بروز ہفتہ کو ہونے والی اس کارروائی کی خبر جب پاکستانی
اخبارات نے اگلے روز شائع کی تو ایک ہنگامہ اُٹھ کھڑا ہوا۔ ہندوستانی اخبارات نے
بھی اس خبر کو مرچ مصالحہ لگاکر بیان کیا۔ نتیجتاً ایک بار پھر یہ کہا
جانے لگا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جاتا ہے اور پاکستان
ہندوؤں کے لیے غیرمحفوظ ہے۔
مکمل تحریر >>>
”ڈاکٹر طاہر القادری“ ایسی ملکی شخصیت
ہیں جنہوں نے پچھلے تیس سالوں میں بے مذہبی میدانوں میں بے انتہا ترقی کی ہے۔ میاں
برادران کی اتفاق مسجد سے خطیب کا سفر شروع کرنے والے نے آج مینار پاکستان کے
میدان میں بیس لاکھ لوگوں سے خطاب کیا۔
مکمل تحریر >>>
مضمون کا عنوان پڑھ کر آپ
حیران ضرور ہوئے ہوں گے کہ عجیب بے تکا سا گستاخانہ عنوان ہے، لیکن تھوڑا سا تحمل
اور برداشت سے کام لیں کیوں کہ اگر عنوان پڑھ کر ہی آپ دلبرداشتہ ہو جائیں گے
توباقی سارا مضمون ادھورا رہ جائے ، تو دل
پر ہاتھ رکھ کر”استغفار“اور” نعوذ باﷲ“ کی تسبیح کا ورد کرتے ہوئے مضمون کو پڑھنا
شروع کریں،
مکمل تحریر >>>
اگر اس کی جگہ میں ہوتا تو اب تک گوانتا
ناموبے میں ہوتا یا کسی کال کوٹھری میں پھانسی کی سزا کا منتظر ہوتا۔ میرے اہل
خانہ اور دوست احباب کڑی تفتیش کے عمل سے گزر رہے ہوتے۔ میرے سیل فون میں موجود
تمام نمبرز کی جانچ پڑتال ہورہی ہوتی اور سب کے سب بے چارے اس جرم میں کہ میرے
موبائل میں ان کا نمبر saved تھا سخت ذہنی اذیت کا سامنا کررہے
ہوتے۔ وہ بے چارے بھی جو شاید مجھے جانتے تک نہیں۔
میری اس حرکت پر نہ جانے کتنے ٹاک شوز
ہوچکے ہوتے۔ شاید اس جرم کی پاداش میں نیٹو میرے وطن کی اینٹ سے اینٹ بجادیتا یا
پھر میرے اپنے ہی ملک کی سیکورٹی فورسز مجھے عالمی عدالت کے حوالے کردیتیں۔ دنیا
بھر سے میری، میرے عقائد، میرے نظریات کی مذمت کی جارہی ہوتی، مجھے انتہا پسند
،بنیاد پرست،دہشت گرد اور نہ جانے کیا کچھ کہا جارہا ہوتا،چاہے وہ میرا اپنا
انفرادی یا ذاتی عمل ہی کیوں نہ ہوتا یا پھر میرا پاگل پن ہوتا تب بھی۔
لیکن چونکہ وہ میں نہ تھا بلکہ کوئی اور
تھا اس لئے یہ سب کچھ نہ ہوا، بس ایک خبر ہوئی اور آکر گزر گئی، چند فالو اپس اور
بس، ایک خبر کی اہمیت ہی کتنی ہوتی ہے، یہ واقعہ بھی ماضی کا حصہ بن جائے گا،
ہمارا میڈیاجب چاہے تو رائی کا پہاڑ بنادے اور چاہے تو پہاڑ کو رائی
بنادے ۔
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز
کرے
مکمل تحریر >>>
دیکھیے بات کتنی بڑھ چکی ہے۔ پھر بھی
کچھ لوگ وقت کے بگٹٹ بھاگتے گھوڑے کے پیچھے پیدل دوڑدوڑکر اُس کی لگام پکڑنے اور
اُسے پُرانی ڈگر پر واپس پھیرنے کے چکر میں”سلطان لہولہان“ ہوئے جارہے ہیں۔تو کیا
یہ ”رجعت پسندی“ نہیں ہے؟
مکمل تحریر >>>
چند دنوں سے دل پر ایک بوجھ سا ہے ، کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا
کروں۔کبھی تو دل چاہتا ہے کہ جامعہ کراچی سے محنت کے ساتھ پڑھ کر حاصل کردہ اپنی
چار ڈگریاں واپس کر دوں،شرم آتی ہے ان ڈگریوں کو دیکھ کر ۔ان پچھلے دنوں میں کئی
بار میں نے اپنی الماری کا قیمتی چیزوں والا خانہ کھولا تو مجھے لگا کہ اس میں
میری قابل فخر ڈگریاں نہیں بلکہ میری شرمندگی کا کوئی سامان رکھا ہوا ہے۔اور پھر
میں نے ڈگریوں سے اور انہوں نے مجھ سے نظریں چرا لیں،وہ بھی شاید خود کو بے وقعت
سی محسوس کر رہی ہیں ۔
مکمل تحریر >>>
پی ایچ ڈی (منافقت )اسپین
رمضان کے شروع ہونے سے پہلے میرے دماغ میں جو بلاگی مواد آرہا تھا رمضان کی آمد کے ساتھ ہی اڑ گیا ، رمضان کی آمد میں میرے دماغ میں کھلبلی ہونے لگی کہ رمضان کیسے گزرتا ہے ، مساجد کی رونقیں اور کچھ رمضان میں اپنے شب و روز کے بارے میں لکھنا چاہیے ۔ لیکن رمضان جہاں برکتیں لاتا ہے وہیں مصروفیات میں اضافہ بھی ہو جاتا ہے لہذا باوجود خواہش کے میں کچھ لکھ نہ سکا ۔ کچھ دن سے عامر لیاقت (منافقِ اعظم )کی ویڈیو پر شور مچ رہا ہے ،
مکمل تحریر >>>
قلم اٹھانے سے پہلے بلند آواز میں کہیں کہ ملک اس وقت نازک حالات سے گزر رہا ہے۔ اگر ملک کا خیال نہیں ہے تو لکھنے سے پہلے اپنے جسم کے نازک حِصوں کے بارے میں سوچیں، ان پر اگر نازک وقت آگیا تو کیا ہوگا؟
مکمل تحریر >>>
صحافیوں کا اسمبلی کے سامنے دھرنا رنگ لایا اور حکومت کو مجبورا تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینا پڑا۔ آج سپریم کورٹ میں پیشی کے دوران ایسے انکشافات ہوئے جن سے یہی شک گزرتا ہے کہ سلیم شہزاد کو شہید کرنے میں خفیہ ادارے والوں کا ہاتھ ہے۔ اس شک کے حق میں مندرجہ ذیل نقاط بہت اہم ہیں:
مکمل تحریر >>>
آج کل ہمارے شہر کراچی کے شہری ”چُن چُن کر قتل“ کیے جارہے ہیں۔ ”شہری؟“ خان معاذاﷲ خان نے چیخ کر تعجب بھرے سوالیہ لہجہ میں مداخلت کی تو ہم سمجھ گئے کہ اُن کی گردن پر جوناریل نصب ہے وہ اب چٹخنے کو ہے‘
مکمل تحریر >>>
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرےنہیں حادثہ دیکھ کر
مکمل تحریر >>>
کچھ عرصہ قبل پاکستان کےمؤقر ترین اخبار کے ادبی صفحہ پر نظر ڈالنے کے کا اتفاق ہوا۔ ایک نظم کی پہلی سطر دیکھ کر ہی طبیعت صاف ہوگئ ۔
مکمل تحریر >>>