میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"
یہ 11دسمبر 2003ء
کا ذکر ہے۔ سہ پہر کے تین بج رہے تھے۔ تھکے ماندے گلی میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ
سب سے چھوٹی بیٹی یمنیٰ گھر کے دروازے پر اپنی تین پہیوں والی سائیکل پر بیٹھی
گویا انتظار کر رہی تھی۔ ہمیں دیکھتے ہی اُس نے گیٹ سے گھر کے اندر کی طرف منہ
ڈالا اور ایک زوردار نعرہ مارا:
’’ابو آگئے!‘‘
اُس کا یہ نعرہ سن کر عمار اور شمامہ بھی گھر سے نکل آئے۔ عمار میاں نے
(جن کی عمر اُس وقت بارہ برس ہو چکی تھی) اپنے مخصوص سنسنی خیز انداز میں خبر دی:
’’ابو! جنھوں نے آپ کا نکاح پڑھایا تھا، اُن
کو ہارٹ اٹیک ہوگیا ہے‘‘۔
مکمل تحریر >>>
دنیا بھر میں
مسلمانوں کا قتل ِ عام روز ِ ازل سے جاری ہے ۔۔۔۔ شام ، عراق ، یمن ، فلسطین ، برما ، کشمیر
اور افغانستان لہو لہو ہیں مگر پھر بھی مسلمانوں پر ہی دہشتگردی کا لیبل لگایا
جاتا ہے ۔تاریخ شاہد ہے دنیا میں جتنے بھی بڑے بڑے قتل ِ عام ہوئے ہیں ان کے
پیچھے کم از کم مسلمانوں کا ہاتھ نہیں ہے
۔ہم دلیلیں دے دے کر تھک گئے تھے کہ اسلام
امن پسند دین ہے ، پر کوئی مانتا ہی نہیں تھا ۔
۔۔۔۔۔ آسٹریلوی
صلیبی قاتل ” برینٹن ٹیرینٹ“ تمہارا شکریہ کہ تمہاری اس خونخواری نے دنیا کو فکر
کی ایک نئی جہت دی ۔
مکمل تحریر >>>
اقتدار پھولوں کی نہیں کانٹوں کی سیج ہوتا ہے،
اپوزیشن میں بیٹھ کر نعرہ لگانا اور اقتدار میں آکر اصل میں عمل درآمد کروانے
میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ شروع سے جو اعتراض مجھے آپ کے حوالےسے موجود تھا اب
وہ اندیشہ نہیں حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
مکمل تحریر >>>
ویسے آپس کی بات ہے صدر
پاکستان سید ممنون حسین نے سود جائز کردینے کی اپیل اُن علما ءسے کی ہے۔۔۔
مکمل تحریر >>>
ایک پرائمری اسکول معلمہ(Teacher) نے
کلاس کے بچوں کو کلاس ورک دیا کہ وہ ایک مضمون لکھیں کہ وہ (بچے) کیا چاہتے ہیں کہ
:
"ان کا
خدا ان کے لیے کرے۔"
سب بچوں نے مضمون لکھا وہ تمام بچوں کے مضامین اپنے
گھر پر چیک کرنے لگی اس دوران ایک مضمون نے اس کو آبدیدہ کردیا اور بے اختیاری میں
اس کے آنسو نکل آئے۔
مکمل تحریر >>>
عظیم
ہندوستانی بلے باز“سچن
رمیش ٹنڈولکر” نے1989 میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ کا
آغاز کیا تاہم شاید بہت ہی کم لوگ اس بات سے
واقف ہوں کہ انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ اس سے دو سال قبل ہی کھیل لی تھی۔
لیکن
حیران کن بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنا پہلا
میچ اپنے ملک ہندوستان کے لیے نہیں بلکہ ہندوستان
کے خلاف پاکستان کی طرف سے کھیلا تھا ۔
مکمل تحریر >>>
صومالیہ کے مشہور شہر موغادیشو
کے ایک پرائمری اسکول میں اساتذہ اور کلرک بڑے تعجب اور حیرت سے اس کی خوبصورت
آواز میں نغمے سن رہے تھے۔ "غضب کی آواز ہے"ایک نے کہا۔ ہیڈ ماسٹر نے
کہا: "اتنی خوبصورت آواز میں نے کبھی نہیں سنی۔ اس کے پا س لحن داؤدی
ہے"
مکمل تحریر >>>
14 فروری کو دُنیا بھر کی طرح ہمارے یہاں بھی پیر ویلن ٹائن علیہ ماعلیہ کا
عرس سراپا قدس بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ سچ پوچھیے تو صرف ہمارے یہاں سب سے
زیادہ دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ لہٰذا ہم اس کالم کے ذریعے سے اپنے یہاں اِس
عرس شریف کے دُنیا بھر سے زیادہ کامیاب انعقاد پر اپنی پوری قوم کو تہِ دل سے
مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ ’ایں کار از تو آئد و مرداں چنیں کنند‘… بلکہ… ’زناں بھی
چناں کنند‘۔
مکمل تحریر >>>
پی پی پلے بوائے گروپ کے
خوبرو جیالے جوان بلاول زرداری نے کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کو مبارکباد کا
پیغام دیتے ہوئے جب اس صلیبانہ خواہش کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان میں بھی
ایک عیسائی وزیر اعظم دیکھنے کے خواہاں ہیں، تو ایسا گمان ہوا کہ گویا ان میں مصری
آمر جنرل عبدالفتاح السیسی اور باراک اوبامہ کی زندہ روحیں حلوت کر چکی ہیں۔
مکمل تحریر >>>
بہت کم لوگ اس تلخ حقیقت سے واقف ہوں گے کہ پاکستان
کا پہلا صدر مملکت بنایا جانے والا شخص اسکندر مرزا ،اسی بدنام زمانہ ننگ ملت، ننگ
ادم، ننگ دین، غدار میر جعفر کا پڑپوتا تھا ،جس نے قوم و ملت کے سپاہی شیر بنگال
نواب سراج الدولہ سے غداری کر کے انگزیز آقاؤں کی جیت کا راستہ ہموار کیا تھا۔
گورے آقاؤں نے چن چن کر ایسے”با صلاحیت کرداروں ” کو اہم عہدے دلوائے جن میں ان کی
فرمانبرداری اور ملک و ملت سےغداری کے سارے جراثیم موجود ہوں۔
مکمل تحریر >>>
بین الاقوامی شہرت پانے والی ”ملالہ یوسفزئی“ کو امن
کا نوبل ایوارڈ تو نہ مل سکا لیکن ایک
مقامی ویب سائٹ نے ”ملالہ ڈرامہ “ کا بین الاقوامی راز فاش کردیا ۔ ویب سائٹ کی
تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملالہ کا قصہ ”پاکستانی
اور امریکی ایجنسیوں کا تیار کردہ ڈرامہ” تھا ، اس پر حملہ بھی جعلی تھا ۔
مکمل تحریر >>>
یونانیوں کا ’’نیلس‘‘ اور سامیوں کا ’’نہل‘‘ اب دریائے نیل ہے، جس کے نیلگوں پانیوں
میں تلاطم بپا ہے۔ یہ عیسوی تقویم سے بھی 415 سال پہلے کی بات ہے، یونان کے حکمران خاندان کے خلاف انقلاب بپا کرنے
کی کوشش میں ناکامی کے بعد ملک بدر ہونے والا ہیروڈوٹس پھر دنیا بھر کی سیاحت پر
نکل کھڑا ہوا۔ وہی اب علم کی دنیا میں تاریخ نویسی کا بانی کہلاتا ہے۔ اُسی نے
دریائے نیل کو ’’مصر کا تحفہ‘‘ کہا تھا۔ دریائے نیل نے انقلابات ِ زمانہ کے کتنے
ہی مدوجزر دیکھے اور دکھلائے ہیں۔ اب وہ ایک اور طوفان کا سامنا کررہا ہے۔
مکمل تحریر >>>
بنگلہ دیش کی
بھارت نواز شیخ حسینہ حکومت کے طرزِ عمل سے، عوام کے ذہن میں،بہت بڑا یہ سوال پیدا
ہوگیاہے کہ کیا اس نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت،ضعیف العمر عوامی راہنما پروفیسر
غلام اعظم پر مقدمہ چلائے بغیر،ان کی زندگی ختم کرنے کا پروگرام بنالیاہے؟کیونکہ
شواہدبتاتے ہیں کہ ۱۱جنوری ۲۰۱۲ء کو گرفتار ہونے کے بعد سے پروفیسر غلام اعظم کے
ساتھ جو سلوک کیا جارہاہے وہ نہ صرف غیر قانونی، غیر انسانی اورغیر اخلاقی ہے بلکہ
یہ سراسر ظالمانہ ہے۔
مکمل تحریر >>>
مصر میں آخروہی ہوا، جس کا
خدشہ اسی دن سے ظاہر کیا جارہاتھا جس دن ڈاکٹر محمد مرسی نے اقتدار سنبھالا تھا
۔لوگ سوال کررہے ہیں کہ ایسی کون سی قیامت آگئی تھی کہ صرف ایک سال کی مدت میں
مصری فوج کو منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کرنا پڑی اور حکومت کا تختہ الٹنا پڑا ؟؟؟؟
مکمل تحریر >>>
صدر مرسی نے طویل
آمریت سے نومولود ”مصر“میں اپنی یک سالہ تاریخی جدوجہد میں بے پناہ کامیاب
پالیسیوں کے نتیجے میں معاشی ماہرین اور اپنوں و غیروں کو شسدرکردیا ۔انہی
کامیابیوں نے یہودی و عیسائی سامراج کی راتوں کی نیندیں اڑا دیں ۔یہودی سامراج نے
انقرہ کے بعد قاہرہ بھی اپنے ہاتھوں سے نکلتا دیکھ کر اپنی گٹھیوں میں شامل سازشی
عناصر کو ایک بار پھر اسلامی سلطنت کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے لیےمصری میر جعفر اور میر صادق کے کندھوں پر کمان رکھ
کر تیر چلاکر تماش بین بننے کا کامیاب مظاہرہ کردیا ۔دردِ دل رکھنے والے یاد رکھیں
سامراج کی یہ وقتی کامیابی سمندر کی جھاگ کی مانند ہے ۔
مکمل تحریر >>>
رات دیر سے سونے
کے باوجود آج صبح جلد آنکھ کھل گئی ۔ کھل کیا گئی کھولنا پڑگئی۔میسج کی ٹوں ٹوں نے
پریشان سا کردیا جب موبائل فون چیک کیا تو 45 میسج آئے ہوئے تھے۔
مکمل تحریر >>>
پاکستان میں بسنے والے اور کچھ پاکستان سے بھاگنے والے نام نہاد قائدین آج کل
اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے طرح طرح کے بے سروپا نظریات مسخ شدہ دلائل کے ذریعے اپنے کارکنان کے سامنے سینہ چوڑا کر کے پیش کرتے ہیں ، تاکہ ان
کی ڈیڑھ انچ کی مسجد قائم و دائم رہے ۔
مکمل تحریر >>>
جماعت اسلامی کے سابق
امیر قاضی حسین احمد کی وفات نائب امیر پروفیسر غفور احمد کے انتقال کے بعد دوسرا
بڑا سانحہ ہے۔ سال 2012ء کے آخری ہفتے میں پروفیسر غفور احمد اور سال 2013ء کے
پہلے ہفتے میں قاضی حسین احمد جیسے جماعت اسلامی کے دو بڑے لیڈر دنیا سے رخصت ہونے
سے نہ صرف جماعت اسلامی بلکہ ملک بہت بڑے محب وطن، دیانتدار، باکردار، سچے
سیاستدانوں سے محروم ہوگیا ہے۔
مکمل تحریر >>>
نبی اکرم ﷺ اور ان کے
صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ
کی قبور کی بے حرمتی کرنے کی بار بار کوشش کی گئی۔آپ تینوں مدینہ منورہ میں مسجد
نبوی شریف میں دفن ہیں۔دشمنوں نے باربار کوشش کی کہ ان کے اجسام مبارک کو ان کی
قبروں سے نکال لیا جائے تاکہ مسجد نبوی شریف اور مدینہ منورہ توجہ کا مرکز نہ رہیں
۔
مکمل تحریر >>>
قومیں اپنے
افکار کی بنا پر دنیا میں عروج پاتی ہیں۔ تاریخ میں کسی ایسی قوم کا ذکر نہیں جس
نے اپنے اسلاف، اقدار یا دیانت کے بغیر مقام پایا ہو۔ آج کے ملکی حالات دیکھ کر
مایوسی ہوتی ہے۔ اگر ہم نے اپنے حالات کو ٹھیک نہ کیا تو خدانخواستہ بقول علامہ
اقبال ’’ہماری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں‘‘
مکمل تحریر >>>