میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"
Showing posts with label اردو ادب. Show all posts
Showing posts with label اردو ادب. Show all posts

وہ ہمارے تابوت میں آخری کیل ٹھونک گئے

یہ 11دسمبر 2003ء کا ذکر ہے۔ سہ پہر کے تین بج رہے تھے۔ تھکے ماندے گلی میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ سب سے چھوٹی بیٹی یمنیٰ گھر کے دروازے پر اپنی تین پہیوں والی سائیکل پر بیٹھی گویا انتظار کر رہی تھی۔ ہمیں دیکھتے ہی اُس نے گیٹ سے گھر کے اندر کی طرف منہ ڈالا اور ایک زوردار نعرہ مارا:
’’ابو آگئے!‘‘
اُس کا یہ نعرہ سن کر عمار اور شمامہ بھی گھر سے نکل آئے۔ عمار میاں نے (جن کی عمر اُس وقت بارہ برس ہو چکی تھی) اپنے مخصوص سنسنی خیز انداز میں خبر دی:
’’ابو! جنھوں نے آپ کا نکاح پڑھایا تھا، اُن کو ہارٹ اٹیک ہوگیا ہے‘‘۔
مکمل تحریر >>>

خان صاحب ذرا سنبھل کر ۔۔۔ !!!

 اقتدار پھولوں کی نہیں کانٹوں کی سیج ہوتا ہے، اپوزیشن میں بیٹھ کر نعرہ لگانا اور اقتدار میں آکر اصل میں عمل درآمد کروانے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ شروع سے جو اعتراض مجھے آپ کے حوالےسے موجود تھا اب وہ اندیشہ نہیں حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
مکمل تحریر >>>

اے خدا ! مجھے ٹی وی بنادے !!!


 ایک پرائمری اسکول معلمہ(Teacher) نے کلاس کے بچوں کو کلاس ورک دیا کہ وہ ایک مضمون لکھیں کہ وہ (بچے) کیا چاہتے ہیں کہ :
"ان کا خدا ان کے لیے کرے۔"
سب بچوں نے مضمون لکھا وہ تمام بچوں کے مضامین اپنے گھر پر چیک کرنے لگی اس دوران ایک مضمون نے اس کو آبدیدہ کردیا اور بے اختیاری میں اس کے آنسو نکل آئے۔
مکمل تحریر >>>

جاؤ میں نے تمہیں معاف کیا!!!

رات دیر سے سونے کے باوجود آج صبح جلد آنکھ کھل گئی ۔ کھل کیا گئی کھولنا پڑگئی۔میسج کی ٹوں ٹوں نے پریشان سا کردیا جب موبائل فون چیک کیا تو 45 میسج آئے ہوئے تھے۔
مکمل تحریر >>>

:::ملاّ کا احسان عظیم:::

سنگلاخ پہاڑیوں اور خاردار جنگل میں گھرا ہوا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جس میں مسلمانوں کے بیس پچیس گھر آباد تھے۔ ان کی معاشرت، ہندوانہ اثرات میں اس درجہ ڈوبی ہوئی تھی کہ رومیش علی، صفدر پانڈے، محمود مہنتی، کلثوم دیوی اور پر بھادئی جیسے نام رکھنے کا رواج عام تھا۔

مکمل تحریر >>>

کلاسیفائیڈ اشتہارات

آفتاب اقبال کی ”آفتابیاں“سے ماخوذ
مکمل تحریر >>>

پانچ بیویوں کو طلاق !!!

اصمعی نے ہارون الرشیدکو لطیفہ سناتے ہوئے کہا کہ :
”امیر المؤمنین !!!مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ ایک عربی النسل آدمی نے پانچ عورتوں کو طلاق دی ہے ۔
ہارون الرشید نے کہاکہ : آدمی کو تو صرف چارعورتوں  سے شادی کرنے کی اجازت ہے ، پھر اس نے پانچ کو کیسے طلاق دی ؟

مکمل تحریر >>>

امام (رحمۃ اللہ علیہ) کی حاضر جوابی

امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد خاص امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نہایت ذہین اور حاضر جواب تھے۔ان کی حاضر جوابی اور شستہ جوابی زبان زدعام تھی۔
مکمل تحریر >>>

میں باغی ہوں !!!

(موجودہ پاکستانی نام نہاد جمہوریت کے آلہ کاروں کے نام ”مظلوم پاکستانی“ کی آہ و فغاں)
مکمل تحریر >>>

میری ماں!!! (نظم)

ملک کے دوسرے حصوں سے روزگار کی تلاش میں
” کراچی “آنے والوں کا” آہ و گریہ“ 
مکمل تحریر >>>

مرغا نمبر پانچ

اک  دل  پھینک  عاشق   گیا   معشوق  سے  ملنے  کو
سونے  کی  لاکٹ  بھی  لے  گیا   گفٹ  میں  دینے کو


مکمل تحریر >>>

طالبان(افسانہ)

یوں تو دفتر میں یہ خبر کئی ہفتوں سے گردش میں تھی کہ کامران سمیت سینکڑوں لوگوں کی نوکریاں خطرے میں ہیں مگر جس روز کامران کو برخاستگی کا پروانہ ملا اس دن کامران کو بہت زمانے بعد ایک گہرا صدمہ ہوا۔ اسے یوں لگا کہ جیسے وہ اس دنیا کی سب سے ناکارہ شے ہو۔ برطرفی کا نوٹس ہاتھ میں پکڑانے کے ساتھ اسے محافظوں کی نگرانی میں عمارت کے باہر پہنچا دیا گیا۔ کامران کو اچھی طرح پتہ تھا کہ یہ احتیاط اس لیے کی جاتی ہے کیونکہ ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں جس میں برخاست کیے جانے والے ملازم نے اپنے کمپیوٹر کے ذریعے پوری کمپنی میں وائرس دوڑا دیا یا کسی اور طور سے اپنے اوپر کی جانے والی زیادتی کا انتقام لیا۔ یہ علم رکھنے کے باوجود کامران نے یوں عمارت سے بے دخل کیے جانے پہ اپنی ہزیمت محسوس کی۔
مکمل تحریر >>>

قیمتی تحفہ(افسانہ)۔

آج ہماری شادی کو عرصہ دیڑھ سال ہونے کو ہے۔
اس عرصہ میں کافی نشیب و فراز آئے ۔
مکمل تحریر >>>

کراچی کہانی (نظم)


آؤ !!!  کراچی   کی   تم   کو   سناؤ   کہانی
مکمل تحریر >>>

جو نہ کٹے آری سے ، وہ کٹے بہاری سے !!!

برصغیر پاک و ہند میں طرح طرح کے محاورے استعمال کیے جاتے ہیں ۔کچھ محاورے تو اردو زبان دانوں کی ایجاد ہے اور کچھ دوسری زبانوں سے مستعار لی گئی ہیں ۔ محاورات کی تاریخی پس منظر بھی ہواکرتی ہیں ۔ہم آج جس محاورے کا تذکرہ لیے بیٹھے ہیں ۔ اس کا پس منظر تاریخی بھی ہے اور دلچسپ بھی ۔۔۔۔
مکمل تحریر >>>

وَڈا آیا نیوٹن دا پُتر !!!

مجھے بچپن سے ہی مشینوں سے لگاؤ ہو گیا تھا۔ مجھے یہ یاد نہیں کہ میں نے کب سے مکینکی شروع کر دی تھی لیکن اتنا یاد ہے کہ جب میں کچھ سمجھدار ہوا تو اس وقت سے ہی چیزیں کھولتا اور جوڑتا تھا۔ اور اکثر میں اس میں کامیاب بھی ہو جاتا تھا۔
مکمل تحریر >>>

مجھے پاکستان سے محبت ہے۔

آج کل۔۔۔
بجلی میرے وطن میں آتی کم اور جاتی زیادہ ہے ۔
پھر بھی ۔۔۔
مجھے پاکستان سے محبت ہے ۔
مکمل تحریر >>>

دل تو ہے دل!!!

کچھ ہفتہ قبل ہمارے ایک دوست کے دو صاحبزادے فیض کے کلام کی شرح پوچھنے آئے تھے۔ اس دفعہ دوبارہ تشریف لائے تو شرماتے مسکراتے۔ بلکہ آپس میں ایک دوسرے کو کہنی مارتے ہنستے کھلکھلاتے۔
مکمل تحریر >>>

جنگ اور امن (تاریخی ڈرامہ)

اٹھارہ سو چھپن سے اٹھارہ سو انسٹھ کے درمیان لکھا جانے والا ناول جنگ اور امن ٹالسٹائی کی بلند پروازی کا کمال اورآج وہ روسی ادب ہی نہیں بلکہ عالمی ادب کا ایک عظیم فن پارہ اور شاہکار تسلیم کیا جاتا ہے۔
مکمل تحریر >>>

ہائے کراچی ۔۔۔وائے کراچی !!!

ہم ہنستے تھے.... اے عزیزو! .... ہم مُنھ چھپا چھپا کر ہنستے تھے۔جب اپنے بچپن میں ہم دِلّی چھوڑ کرکراچی ہجرت کر آنے والے بزرگوں کو دکھ‘ درد اور حسرت ویاس بھری جھنجھلاہٹ کے ساتھ آہ بھر بھر کر یہ کہتے ہوئے سُنتے تھے کہ: ”ہائے دِلّی‘ وائے دِلّی.... بھاڑ میں جائے دِلّی!“ مگراب
مکمل تحریر >>>