میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"
Showing posts with label ہندوستان. Show all posts
Showing posts with label ہندوستان. Show all posts

آغاخانی مذہب کی حقیقت

فرقہ اسماعیلیہ بھی شیعہ کی ایک شاخ ہے سید نا امام جعفر صادق ؓ کی امامت تک یہ سب ایک تھے ان کے بعد اثنا عشریہ سے یہ فرقہ علیحدہ ہوگیا ۔یہ فرقہ سیدنا حضرت اسماعیل بن امام جعفر صادقؓ کی امامت کے مقلد ہوئے ۔چنانچہ ابو زہرہ مصری ”المذاہب الاسلام“ میں لکھتا ہے کہ” فرقہ اسماعیلیہ“ امامیہ کی ایک شاخ ہے ۔یہ مختلف اسلامی ممالک میں پائے جاتے ہیں ۔اسما عیلیہ کسی حد تک جنوبی و وسطی افریقہ، بلاد شام، پاکستان اور زیادہ تر ہندوستان میں آباد ہیں ۔کسی زمانہ میں یہ بر سر اقتدار بھی تھے ۔فاطمیہ مصر و شام ”اسماعیلی“ تھے ۔قرامطہ جو تاریخ کے ایک دور میں متعد د ممالک پر قابض ہوگئے تھے اسی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے ۔
مکمل تحریر >>>

حیرت انگیز انکشاف !!!

عظیم ہندوستانی بلے باز“سچن رمیش ٹنڈولکر” نے1989 میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز  کیا تاہم شاید بہت ہی کم لوگ اس بات سے واقف ہوں کہ انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ اس سے دو سال قبل ہی کھیل لی تھی۔
لیکن حیران کن بات یہ ہے  کہ انہوں نے اپنا پہلا میچ اپنے ملک ہندوستان  کے لیے نہیں بلکہ ہندوستان کے خلاف پاکستان کی طرف سے  کھیلا تھا ۔
مکمل تحریر >>>

لہو رنگ آنچل کو پھیلائے رکھنا !!!

بہت کم لوگ اس تلخ حقیقت سے واقف ہوں گے کہ پاکستان کا پہلا صدر مملکت بنایا جانے والا شخص اسکندر مرزا ،اسی بدنام زمانہ ننگ ملت، ننگ ادم، ننگ دین، غدار میر جعفر کا پڑپوتا تھا ،جس نے قوم و ملت کے سپاہی شیر بنگال نواب سراج الدولہ سے غداری کر کے انگزیز آقاؤں کی جیت کا راستہ ہموار کیا تھا۔ گورے آقاؤں نے چن چن کر ایسے”با صلاحیت کرداروں ” کو اہم عہدے دلوائے جن میں ان کی فرمانبرداری اور ملک و ملت سےغداری کے سارے جراثیم موجود ہوں۔
مکمل تحریر >>>

مظلومِ مشرقِ پاک !!!


بنگلہ دیش کی بھارت نواز شیخ حسینہ حکومت کے طرزِ عمل سے، عوام کے ذہن میں،بہت بڑا یہ سوال پیدا ہوگیاہے کہ کیا اس نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت،ضعیف العمر عوامی راہنما پروفیسر غلام اعظم پر مقدمہ چلائے بغیر،ان کی زندگی ختم کرنے کا پروگرام بنالیاہے؟کیونکہ شواہدبتاتے ہیں کہ ۱۱جنوری ۲۰۱۲ء کو گرفتار ہونے کے بعد سے پروفیسر غلام اعظم کے ساتھ جو سلوک کیا جارہاہے وہ نہ صرف غیر قانونی، غیر انسانی اورغیر اخلاقی ہے بلکہ یہ سراسر ظالمانہ ہے۔
مکمل تحریر >>>

پراسرار قبرستان!

کراچی کے مہنگے ترین اور پوش علاقے ڈیفنس فیز ٹو ایکسٹینشن خیابان جامی کی اسٹریٹ نمبر تین پر چاردیواری میں بند ایک ایسا قبرستان دریافت ہوا ہے جوکہ آبادی کے بیچوں بیچ قائم ہے۔ جہاں لگ بھگ 50 سے 60 قبریں موجود ہیں اور دلچسپ امر یہ ہے کہ کسی بھی قبر پر سرے سے کوئی کتبہ نہیں اور قبر پر کتبے کی جگہ سیمنٹ کا بارہ سے اٹھارہ قطر کا ایک پائپ نصب ہے۔
مکمل تحریر >>>

برطانوی جناح !!!


پاکستان میں بسنے والے اور کچھ پاکستان سے بھاگنے والے نام نہاد قائدین آج کل اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے طرح طرح کے بے سروپا نظریات مسخ شدہ دلائل  کے ذریعے اپنے کارکنان  کے سامنے سینہ چوڑا کر کے پیش کرتے ہیں ، تاکہ ان کی ڈیڑھ انچ کی مسجد قائم و دائم رہے ۔
مکمل تحریر >>>

قائد اعظم کا سیاسی مؤقف!

آج کی صورتِ حال میں ہمارے لیے قائداعظم کی دو بنیادی حیثیتیں ہیں۔ ایک تو سیاسی رہنما کی اور دوسری اس شخصیت کی جس نے برصغیر میں مسلمانوں کی پوری تاریخ اور ان کے تہذیبی حاصلات کے لیے ایک ایسا جغرافیائی فریم فراہم کیا جس میں برصغیرمیں مسلم تہذیب اپنی مرکزی حیثیت میں قائم ہوسکے اور اس طرح عالمگیر اسلامی تہذیب کا مرجع بن سکے۔
مکمل تحریر >>>

اسٹیبلشمنٹ:فرنگی ورثہ!

ہمارے سرکاری نصابِ تعلیم نے، سرکاری میڈیا نےاور اقتدار میں رہنے والی سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ عوام کو یہی تاثر دیا ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی تحریک اور آج بلوچستان، قبائلی علاقہ جات، سوات، اندرونِ سندھ وغیرہ میں حکومت ، فوج اور ریاستی پالیسیوں کی مخالفت کرنے والی تحریکات ، دراصل متعصب قوم پرست تحریکات ہیں، جو قومی یا لسانی تعصب پر کھڑی ہیں اور پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔
مکمل تحریر >>>

ڈولی کھاتا مندر کا انہدام!


سولجر بازارکے علاقے ” ڈولی کھاتا“ میں مندر کا انہدام۔ہندو برادری کی جانب سے مذمت اور احتجاج۔
 صدرپاکستان نے رپورٹ طلب کرلی۔ 

یکم دسمبر 2012ء، بروز ہفتہ کو ہونے والی اس کارروائی کی خبر جب پاکستانی اخبارات نے اگلے روز شائع کی تو ایک ہنگامہ اُٹھ کھڑا ہوا۔ ہندوستانی اخبارات نے بھی اس خبر کو مرچ مصالحہ لگاکر بیان کیا۔ نتیجتاً ایک بار پھر یہ کہا جانے لگا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جاتا ہے اور پاکستان ہندوؤں کے لیے غیرمحفوظ ہے۔
مکمل تحریر >>>

سقوط ڈھاکا!! قومی تاریخ کا سیاہ باب

قائداعظم کی وفات کے بعد خواجہ ناظم الدین کو جو قائد کے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور جن کا تعلق اُس وقت کے مشرقی پاکستان سے تھا، ملک کا گورنر جنرل مقرر کیا گیا۔ لیکن لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ان کو ملک کا وزیراعظم اور غلام محمد کو جن کا تعلق سول بیوروکریسی سے تھا، گورنر جنرل مقرر کردیا گیا۔
مکمل تحریر >>>

:::ملاّ کا احسان عظیم:::

سنگلاخ پہاڑیوں اور خاردار جنگل میں گھرا ہوا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جس میں مسلمانوں کے بیس پچیس گھر آباد تھے۔ ان کی معاشرت، ہندوانہ اثرات میں اس درجہ ڈوبی ہوئی تھی کہ رومیش علی، صفدر پانڈے، محمود مہنتی، کلثوم دیوی اور پر بھادئی جیسے نام رکھنے کا رواج عام تھا۔

مکمل تحریر >>>

ڈاکٹر سے مبلغ اسلام تک

(ڈاکٹر ذاکر نائیک کی کہانی ۔۔۔۔۔۔  خود ان کی زبانی)
18 اکتوبر 1965کو پیدا ہونے والے ڈاکٹر ذاکر نائیک کا تعلق بھارت کے معروف شہر ممبئی سے ہے۔ آپ مبلغ اسلام کی حیثیت سے دنیا بھر میں معروف ہیں، کم ہی لوگوں کو معلوم ہو گا کہ
مکمل تحریر >>>

”سجادہ نشینوں کی پا پوشیاں “

”قیام ِ  پاکستان سے پہلے    اور    قیام ِ پاکستان کے بعد“

ـــــــ قیام ِ  پاکستان سے پہلے  ــــــــ
جون 1857ء کو ملتان چھاؤنی میں پلاٹون نمبر69کو بغاوت کے شبہ میں نہتا کیا گیا اور پلاٹون کمانڈر کو بمع دس سپاہیوں کے توپ کے آگے رکھ کر اڑا دیا گیا۔ آخر جون میں بقیہ نہتی پلاٹون کو شبہ ہوا کہ انہیں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں فارغ کیا جائے گا اور انہیں تھوڑا تھوڑا کرکے تہہ تیغ کیا جائے گا۔
مکمل تحریر >>>

16 دسمبر کا پیغام

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے 21 مارچ 1948ءکو بحیثیت گورنر جنرل مشرقی پاکستان کا دورہ کرتے ہوئے ڈھاکا میں یہ اعلان کیا کہ پاکستان کی سرکاری زبان صرف ”اُردو “ہوگی۔ یہ اعلان مشرقی پاکستان کے بنگالی شہریوں کو پسند نہیں آیا۔ بنگالی مسلمان متحدہ پاکستان کی آبادی کا 54فیصد تھے۔ ان کی زبان خطے کی قدیم زبانوں میں سے ایک تھی۔ جبکہ وہ سمجھتے تھے کہ اُردو چند سو سال پرانی نسبتاً ایک نئی زبان ہے جس کو بولنے اور سمجھنے والوں کی تعداد مشرقی پاکستان کے علاقوں میں چند فیصد سے زیادہ نہیں تھی۔ کیونکہ مسلم لیگ کا قیام بنگال کے شہر ڈھاکا میں عمل میں آیا تھا۔ وہاں کے لوگ مسلم لیگ کے منشور اور ایجنڈے سے کماحقہ‘ واقف تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُردو کو پاکستان کی سرکاری زبان بنانے کا اعلان مسلم لیگی قیادت نے قیام ِ پاکستان تک کبھی نہیں کیا تھا اور نہ یہ بات لیگ کے انتخابی منشور کا حصہ رہی ہے اور نہ ہی یہ ایشو تحریک ِ پاکستان کے دوران کبھی سامنے لایا گیا تھا۔ اُنہیں قائداعظم کی نیت اور خلوص پر کوئی شبہ نہیں تھا۔ لیکن یہ خدشہ ضرور تھا کہ بابائے قوم کے اِس اعلان سے اُن کی حق تلفی ہوگی‘ اُن کی زبان دب جائے گی اور اُن کے نوجوان اُردو سے نابلد ہونے کی وجہ سے ترقی نہیں کرسکیں گے۔
مکمل تحریر >>>

حیدرآباد دکن:بھارتی تاریخی شہر

حیدر آباد دکن ، موجودہ ہندوستان کی جنوبی  ریاست آندھرا پر دیش کا دارالحکومت  اور ریاست کا سب سے بڑا تیزی سے ترقی کی جانب گامزن شہر ہے ۔حیدرآباد دکن اپنے سنہری تاریخ اور ثقافت کی وجہ سے مشہور  ہے ۔حیدرآباد دکن کو موتیوں اور مسلمان نظام بادشاہوں کا شہر کہا جاتا ہے ۔ یہاں مسلمانوں کی  اکثریت ہے  ۔اردو اور تیلگویہاں کی بولی جانے والی بڑی زبانیں ہیں ۔موجودہ دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور بایوٹیکنالوجی  کا مرکز مانا جاتا ہے ۔ حیدرآباد کے انفو ٹیک پارک کو “سائبرآباد“ کے نام سے جانا جاتاہے۔
مکمل تحریر >>>

جو نہ کٹے آری سے ، وہ کٹے بہاری سے !!!

برصغیر پاک و ہند میں طرح طرح کے محاورے استعمال کیے جاتے ہیں ۔کچھ محاورے تو اردو زبان دانوں کی ایجاد ہے اور کچھ دوسری زبانوں سے مستعار لی گئی ہیں ۔ محاورات کی تاریخی پس منظر بھی ہواکرتی ہیں ۔ہم آج جس محاورے کا تذکرہ لیے بیٹھے ہیں ۔ اس کا پس منظر تاریخی بھی ہے اور دلچسپ بھی ۔۔۔۔
مکمل تحریر >>>

ہم نہیں کہتے ۔۔۔آپ نے کہلوادیا

ٹی وی پر اس خبر نے کہ :
"بالی ووڈ کے لیجنڈاسٹارامیتابھ بچن 40سال بعدانڈیامیں واقع اجمیر شریف کی درگاہ خواجہ غریب نوازؒ پر حاضری دی۔"
مکمل تحریر >>>

پونم کی اترن

گذشتہ دنو ں پاکستان کی سیمی فائنل میں ہارپر ہم کچھ بجھے بجھے سے تھے کہ  ہمارے ایک انتہائی عزیز دوست کا’’SMS‘‘آیا کہ : ’’پونم نے اپنا وعدہ پورا کیا کہ نہیں۔‘‘
مکمل تحریر >>>

معمر پروفیسر کی رحم کی اپیل

77 سالہ ڈاکٹر خلیل کو قتل کے ایک مقدمے میں اجمیر  شریف کی ایک عدالت نے انیس برس تک سماعت کے بعد گذشتہ جنوری میں عمر قید کی سزا سنائی تھی  ۔
مکمل تحریر >>>

بھارت: جہاں جہالت آوارہ پھرتی ہے

بھارت دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں ذات پات کی صورت میں انسانی معاشرے میں عظیم مذہبی درندگی پائی جاتی ہے۔جہاں مذہب کی بنیاد تمام مذاہب سے انوکھی ہے۔
مکمل تحریر >>>