میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"

Saturday, January 12, 2013

برطانوی جناح !!!


پاکستان میں بسنے والے اور کچھ پاکستان سے بھاگنے والے نام نہاد قائدین آج کل اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے طرح طرح کے بے سروپا نظریات مسخ شدہ دلائل  کے ذریعے اپنے کارکنان  کے سامنے سینہ چوڑا کر کے پیش کرتے ہیں ، تاکہ ان کی ڈیڑھ انچ کی مسجد قائم و دائم رہے ۔
۔۔۔۔ اور پھر جب ان کی جھوٹی اور بھونڈی دلیلیں ان کے منہ پہ کالی سیاہی کی طرح پوت دی جاتی ہے تو وہ اپنا ”بھینس کا منہ “لے کر معذرتیں کرتےکرتے جی کو ہلکان کیے رہتے ہیں۔اور بے چارے ان کے کارکنان صفائیاں پیش کرتے ان گنت جھوٹ کا سہارا لیتے رہتے ہیں ۔اسی طرح کے ایک قائد کا یہاں اُلو اُلٹا کیا جارہا ہے۔



قائد اعظم محمد علی جناح کا نیلا پاسپورٹ جو انڈین پاسپورٹ ایکٹ مجریہ 1920 کے تحت 28 نومبر 1946 کو پانچ برس کی مدت (تا 28نومبر 1951) کے لیے جاری کیا گیا تھا۔

جناح صاحب کی تصویر پر جو مہر لگی ہوئی ہے اس پر پاسپورٹ آفس کراچی گورنمنٹ آف سندھ درج ہے ۔چونکہ یہ پاسپورٹ برٹش انڈیا کے سبجیکٹ ( شہری ) کو جاری کیا گیا ہے لہٰذا  اندر کے پہلے صفحے پر انگلستان کے بادشاہ کے بجائے گورنر جنرل برٹش انڈیا کی جانب سے یہ درخواست چھاپی گئی ہے کہ حاملِ ہذا کی دورانِ آمدورفت بلارکاوٹ راہداری، مدد اور ضروری تحفظ فراہم کیا جائے۔


 یہ پاسپورٹ حاملِ ہذا (محمد علی جناح) کو جن ممالک کے سفر کی اجازت دیتا ہے وہ مجاز افسر نے ہاتھ سے لکھے ہیں اور درجِ ذیل ہیں:
برطانیہ براستہ عراق، ٹرانس جارڈن، فلسطین، مصر، اٹلی، فرانس، ہالینڈ، بلجئیم، سوئٹزرلینڈ اور مالٹا۔
نیشنل اسٹیٹس (قومیت ) کے خانے میں لکھا ہوا ہے ’برٹش سبجیکٹ بائی برتھ ‘۔

1949 تک سرسید احمد خان سے لے کر علامہ اقبال، علی برادران، حسرت موہانی، نہرو، سبھاش چندر بوس، محمد علی جناح، ذوالفقار علی بھٹو، اندراگاندھی، میرے والد اور الطاف حسین کے والد سمیت ہر اس شخص کو برٹش سبجیکٹ کہتے تھے جو سلطنتِ برطانیہ کی زیرِعملداری دنیا کے کسی بھی خطے میں پیدا ہوا ہو۔1949میں برٹش سبجیکٹ کی اصطلاح میں ترمیم ہوئی اور دولتِ مشترکہ ( کامن ویلتھ سٹیزن ) کے شہری کی اصطلاح متعارف ہوئی۔

1981 کے برٹش سٹیزن شپ ایکٹ کے تحت برٹش سبجیکٹ کی اصطلاح میں مزید ترمیم ہوئی اور اسے برطانیہ اور آئرلینڈ کے شہریوں تک محدود کردیا گیا۔اس خطے سے باہر برطانوی عملداری میں جو علاقے موجود تھے جیسے ہانگ کانگ، مکاؤ، جبرالٹر، فاک لینڈ وغیرہ تو ان کے لیے برٹش اوورسیز اور برٹش ڈیپنڈنٹ ٹیررٹریز کی اصطلاحات و اقسام وضع کی گئیں۔
چنانچہ جب کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ محمد علی جناح اسی طرح برطانوی شہری تھے جس طرح میں ہوں تو ایسا دعویٰ کرتے وقت ازحد تاریخی و قانونی احتیاط کی ضرورت ہے۔

 جب آئین نافذ ہوگیا تو گورنر جنرل صدر ہوگیا اور گورنر جنرل کا 1935 کے ایکٹ کے تحت حلف بھی نئے حلف سے بدل گیا۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ جدید پاسپورٹ برطانیہ اور اس کی نوآبادیات میں 1920 کے پاسپورٹ ایکٹ کے تحت وجود میں آیا۔اس سے پہلے راہداری اور پرمٹ پر سفر ہوتا تھا۔
دوم یہ ہے کہ اگر برٹش سبجیکٹ ( شہری ) اور برٹش انڈین سبجیکٹ ایک ہی چیز تھی تو پھر برطانیہ کو اپنی نوآبادیات کے شہریوں سے خود کو الگ شناخت دینے کے لیے 1920 میں علیحدہ پاسپورٹ جاری کرنے کی کیوں ضرورت پڑ گئی جس پر موٹا موٹا لکھا تھا ’برٹش پاسپورٹ۔یونائٹڈ کنگڈم آف گریٹ برٹن اینڈ آئرلینڈ ‘ ( یہ نیلا پاسپورٹ 1988 میں یورپی یونین والے سرخ جلد کے پاسپورٹ سے بدل گیا )۔تو کیا برطانیہ اور اس کی تمام نوآبادیات میں صرف ایک پاسپورٹ کی ایک ہی جیسی عبارت سے کام نہیں چل سکتا تھا ؟

اگر بحث برائے بحث یہ مان لیا جائے کہ برٹش انڈین پاسپورٹ رکھنے والا بھی برطانیہ کا اتنا ہی شہری تھا جتنا کہ یوکے اینڈ آئرلینڈ کا پاسپورٹ ہولڈر، تو پھر مجاز افسر کو اپنے ہاتھ سے محمد علی جناح کے پاسپورٹ پر برطانیہ براستہ عراق لکھنے کی کیا ضرورت تھی اور اس پاسپورٹ پر آسٹریلیا، نیوزی لینڈ ، کینیڈا اور دیگر برطانوی ڈومینینز اور نوآبادیات کے ناموں کا اندراج کیوں نہیں کیا گیا تاکہ جناح صاحب ایک ’برطانوی شہری ‘ کے طور پر جمیکا سے کینیا تک جس برطانوی نوآبادی میں چاہتے آ جا سکتے۔۔۔

اگر برٹش انڈین پاسپورٹ رکھنے والا خود بخود برطانوی شہری بن سکتا تو 13 اپریل 1951 کو پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ کیوں نافذ ہوا جبکہ اس تاریخ کو بھی برطانوی بادشاہ پاکستان کا آئینی حکمران تھا اور گورنر جنرل پاکستان اس کا نمائندہ تھا۔تو کیا حکومتِ پاکستان کے اس ایکٹ کو بین الاقوامی قانون کے تحت برٹش انڈیا کی جانشین حکومت  (سکسیسر نیشن ) کا ایکٹ تصور کیا جائے یا تاجِ برطانیہ سے بغاوت سمجھا جائے ؟

رہی یہ بات کہ برطانوی بادشاہ یا ملکہ آزادی کے بعد بھی بھارت اور پاکستان کا آئینی سرپرست کیونکر رہے ؟ اس لیے رہے کہ14 اور15 اگست 1947 کے دن نہ انڈیا کا اپنا آئین تھا اور نہ پاکستان کا۔ چونکہ خلا میں کسی مملکت کا انتظام نہیں چلایا جاسکتا لہٰذا نئے آئین کے نفاذ تک دونوں ممالک گورنمنٹ آف برٹش انڈیا ایکٹ مجریہ1935 کے تابع رہے۔جب آئین نافذ ہوگیا تو گورنر جنرل صدر ہوگیا اور گورنر جنرل کا 1935 کے ایکٹ کے تحت حلف بھی نئے حلف سے بدل گیا (جیسے یحییٰ خان کی معزولی کے بعد 1973 کے عبوری آئین کے نفاذ تک خلا پر کرنے کے لیے بھٹو صاحب کو عبوری صدر کے ساتھ ساتھ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا حلف مجبوراً اٹھانا پڑ گیا تھا۔

کیا کسی کو یاد ہے کہ پہلا پاکستانی پاسپورٹ 1951 کے سٹیزن شپ ایکٹ کے تحت پاکستانی دفترِ خارجہ کے مڈل ایسٹ ڈویژن کے ڈپٹی سیکریٹری محمد اسد کو جاری ہوا۔تب تک برٹش انڈیا کے جاری کردہ پاسپورٹ پر پاکستان کی مہر لگا کر کام چلایا جاتا تھا ۔جبکہ بھارت میں تو سٹیزن شپ ایکٹ مجریہ 1955 کے نفاذ تک پرانے پاسپورٹوں پر نئی ریپبلک آف انڈیا کی مہر لگتی رہی۔بالکل ایسے جیسے پاکستان کے کرنسی نوٹوں کے اجراء تک برطانوی ہند کے کرنسی نوٹوں پر پاکستان کا ٹھپہ لگا کر کام چلایا جاتا رہا۔

پاکستان میں 13 اپریل 1951 تک شہریت کا قانون ہی نہیں تھا اور برٹش انڈین دور کے قوانین سے کام چلایا جا رہا تھا تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ گورنر جنرل اور وزیرِ اعظم سمیت پوری کابینہ اور لیجسلیٹو اسمبلی کے 69 ارکان سمیت مغربی اور مشرقی پاکستان کے سات کروڑ شہریوں میں سے ایک بھی پاکستانی شہری نہیں تھا۔سب کے سب ایک منقسم برٹش انڈیا کے شہری تھے اور اس ناطے برطانوی شہری تھے اور اس ناطے وہ جتنے ڈھاکہ اور کراچی میں بسنے کے قانوناً مجاز تھے اتنے ہی لندن اور برمنگھم میں بھی بسنے کے اہل تھے ؟؟؟

سوال یہ ہے کہ اگر جناح صاحب 11 ستمبر1948 کے بجائے 11 ستمبر 1951 کو وفات پاتے تو ان کے پاس کون سا پاسپورٹ ہوتا ؟؟؟   تو کیا ان کی وفات برطانوی شہری یا برٹش انڈین شہری کے طور پر ہوئی ؟؟؟

 جناح صاحب کی وفات سے بھی نو ماہ پہلے 30 جنوری 1948 کو برٹش انڈیا کے ایک اور پاسپورٹ ہولڈر” موہن داس کرم چند گاندھی“ کو گولی لگی تو جناح صاحب نے اپنے تعزیتی پیغام میں یہ کیسے کہہ دیا کہ ’He was a great Indian‘۔انہیں تو یہ کہنا چاہیے تھا کہ ’He was a great British citizen‘۔۔۔۔

اور پھر برطانیہ نے اپنے اس مایہ ناز شہری کی راکھ گنگا میں بہانے کی اجازت کیسے دے دی۔گاندھی جی کی ایک سمادھی لندن میں بھی تو بننی چاہیے تھی ؟؟؟

جناح صاحب کا مزار کراچی میں ہے۔۔تعجب ہے کہ لندن میں ایک مجسمہ تک نہیں۔۔۔کیا ایسے ہی قدر کرتا ہے برطانیہ عظمیٰ اپنے شہریوں کی ؟؟؟

ہم تاریخ کا مضمون سیاق و سباق و وقت و حالات کی روشنی میں پڑھنا کبھی سیکھ بھی پائیں گے یا پھر ’ کاتا اور لے دوڑی ‘ کے فارمولے سے ہی کام چلاتے رہیں گے ؟؟؟

مصنف  :  وسعت اللہ خان۔(بی بی سی اردو)

 ادارہ ”سنپ“موصوف کا ہمہ تن مشکور و ممنون ہے۔
یاد آوری جاری رکھنے کی التماس۔[شکریہ]

0 : : : ----- ((( تبصرے جات ))):

Post a Comment

خوش آمدید