بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے 21 مارچ 1948ءکو
بحیثیت گورنر جنرل مشرقی پاکستان کا دورہ کرتے ہوئے ڈھاکا میں یہ اعلان کیا کہ
پاکستان کی سرکاری زبان صرف ”اُردو “ہوگی۔ یہ اعلان مشرقی پاکستان کے بنگالی
شہریوں کو پسند نہیں آیا۔ بنگالی مسلمان متحدہ پاکستان کی آبادی کا 54فیصد تھے۔ ان
کی زبان خطے کی قدیم زبانوں میں سے ایک تھی۔ جبکہ وہ سمجھتے تھے کہ اُردو چند سو
سال پرانی نسبتاً ایک نئی زبان ہے جس کو بولنے اور سمجھنے والوں کی تعداد مشرقی
پاکستان کے علاقوں میں چند فیصد سے زیادہ نہیں تھی۔ کیونکہ مسلم لیگ کا قیام بنگال
کے شہر ڈھاکا میں عمل میں آیا تھا۔ وہاں کے لوگ مسلم لیگ کے منشور اور ایجنڈے سے
کماحقہ‘ واقف تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُردو کو پاکستان کی سرکاری زبان بنانے کا
اعلان مسلم لیگی قیادت نے قیام ِ پاکستان تک کبھی نہیں کیا تھا اور نہ یہ بات لیگ
کے انتخابی منشور کا حصہ رہی ہے اور نہ ہی یہ ایشو تحریک ِ پاکستان کے دوران کبھی
سامنے لایا گیا تھا۔ اُنہیں قائداعظم کی نیت اور خلوص پر کوئی شبہ نہیں تھا۔ لیکن
یہ خدشہ ضرور تھا کہ بابائے قوم کے اِس اعلان سے اُن کی حق تلفی ہوگی‘ اُن کی زبان
دب جائے گی اور اُن کے نوجوان اُردو سے نابلد ہونے کی وجہ سے ترقی نہیں کرسکیں گے۔
میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"
حویلی کا راز
مسلمانوں میں تفرقہ کو فروغ دینے والے
ایک خفیہ برطانوی ادارے کا چشم کشا احوال
”نواب راحت خان سعید خان چھتاری 1940 ءکی دہائی میں ہندوستان کے صوبے اتر پردیش کے گورنر رہے۔انگریز حکومت نے انہیں یہ اہم عہدہ اس لئے عطا کیا کہ وہ مسلم لیگ اور کانگریس کی سیاست سے لاتعلق رہ کر انگریزوں کی وفاداری کا دم بھرتے تھے۔نواب چھتاری اپنی یاداشتیں لکھتے ہوئے انکشاف کرتے ہیں کہ:
((( زمرہ جات ))) : : : -----
اسلام,
اسلام مخالف انتہا پسندی,
تاریخ,
معلومات عامہ,
مغربی انتہاپسندی,
مہمان لکھاری
بیوی کا عاشق(حصہ اول)
کسی جگہ ایک
بوڑھی مگر سمجھدار اور دانا عورت رہتی تھی جس کا خاوند اُس سے بہت ہی پیار کرتا
تھا۔دونوں میں محبت اس قدر شدید تھی کہ اُس کا خاوند اُس کے لیے محبت بھری
شاعری کرتا اور اُس کے لیے شعر کہتا
تھا۔عمر جتنی زیادہ ہورہی تھی، باہمی محبت اور خوشی اُتنی ہی زیادہ بڑھ رہی
تھی۔جب اس عورت سے اُس کی دائمی محبت اور خوشیوں بھری زندگی کا راز پوچھا
گیاکہ آیا وہ ایک بہت ماہر اور اچھا کھانا پکانے والی ہے؟یا وہ بہت ہی
حسین و جمیل اور خوبصورت ہے؟یا وہ بہت زیادہ عیال دار اور بچے پیدا کرنے والی عورت
رہی ہے؟یا اس محبت کا کوئی اور راز ہے؟
کیا یزید ابن معاویہ ”لعنت“ کے مستحق ہیں؟
یزید کے معاملے میں لوگ تین گروہوں میں تقسیم
ہیں:
دو انتہائیں، اور تیسری راہ وسط ہے۔
دو انتہائیں، اور تیسری راہ وسط ہے۔
دو انتہاؤں میں سے ایک کا
کہنا ہے کہ یزید کافر تھا۔ منافق تھا۔ اسی نے نواسۂ رسول کے قتل کی تمام تر سعی
کی، جس سے اس کا مقصد بھی رسول اللہ ﷺ سے اپنا بدلہ نکالنا تھا اور اپنے آباءو
اجداد کا انتقام لینا اور اپنے نانا عتبہ اور نانا کے بھائی شیبہ اور ماموں ولید
بن عتبہ وغیرہ کے خون کا حساب بے باک کرنا کہ جن کو نبیﷺ نے بدر کے روز علی بن ابی
طالب رضی اللہ عنہ اور حمزہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی تلواروں سے قتل کرایا تھا۔ اِس فریق کا کہنا ہے کہ
یزید نے در اصل بدر کے بدلے چکائے تھے اور جاہلیت کے حسابات بے باک کئے تھے۔ اس
فریق نے یزید کی زبان سے یہ شعر بھی کہلوائے ہیں:
اگر آندرے کی جگہ میں ہوتا تو ۔۔۔
اگر اس کی جگہ میں ہوتا تو اب تک گوانتا
ناموبے میں ہوتا یا کسی کال کوٹھری میں پھانسی کی سزا کا منتظر ہوتا۔ میرے اہل
خانہ اور دوست احباب کڑی تفتیش کے عمل سے گزر رہے ہوتے۔ میرے سیل فون میں موجود
تمام نمبرز کی جانچ پڑتال ہورہی ہوتی اور سب کے سب بے چارے اس جرم میں کہ میرے
موبائل میں ان کا نمبر saved تھا سخت ذہنی اذیت کا سامنا کررہے
ہوتے۔ وہ بے چارے بھی جو شاید مجھے جانتے تک نہیں۔
میری اس حرکت پر نہ جانے کتنے ٹاک شوز
ہوچکے ہوتے۔ شاید اس جرم کی پاداش میں نیٹو میرے وطن کی اینٹ سے اینٹ بجادیتا یا
پھر میرے اپنے ہی ملک کی سیکورٹی فورسز مجھے عالمی عدالت کے حوالے کردیتیں۔ دنیا
بھر سے میری، میرے عقائد، میرے نظریات کی مذمت کی جارہی ہوتی، مجھے انتہا پسند
،بنیاد پرست،دہشت گرد اور نہ جانے کیا کچھ کہا جارہا ہوتا،چاہے وہ میرا اپنا
انفرادی یا ذاتی عمل ہی کیوں نہ ہوتا یا پھر میرا پاگل پن ہوتا تب بھی۔
لیکن چونکہ وہ میں نہ تھا بلکہ کوئی اور
تھا اس لئے یہ سب کچھ نہ ہوا، بس ایک خبر ہوئی اور آکر گزر گئی، چند فالو اپس اور
بس، ایک خبر کی اہمیت ہی کتنی ہوتی ہے، یہ واقعہ بھی ماضی کا حصہ بن جائے گا،
ہمارا میڈیاجب چاہے تو رائی کا پہاڑ بنادے اور چاہے تو پہاڑ کو رائی
بنادے ۔
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز
کرے
((( زمرہ جات ))) : : : -----
اسلام مخالف انتہا پسندی,
تاریخ,
شخصیات,
صحافت,
مغربی انتہاپسندی,
مہمان لکھاری
”دانشوری“پہ کون نہ مرجائے اے خدا
دیکھیے بات کتنی بڑھ چکی ہے۔ پھر بھی
کچھ لوگ وقت کے بگٹٹ بھاگتے گھوڑے کے پیچھے پیدل دوڑدوڑکر اُس کی لگام پکڑنے اور
اُسے پُرانی ڈگر پر واپس پھیرنے کے چکر میں”سلطان لہولہان“ ہوئے جارہے ہیں۔تو کیا
یہ ”رجعت پسندی“ نہیں ہے؟
((( زمرہ جات ))) : : : -----
اسلام مخالف انتہا پسندی,
پاکستان,
تاریخ,
سیاست,
صحافت,
مغربی انتہاپسندی,
مہمان لکھاری
IDMسے ٹورنٹ کی ڈاؤن لوڈنگ
”ٹورنٹ“P2Pکا ایک ایسا سلسلہ ہے جو ہمیں بہترین اور کارآمد فائلوں کی دستیابی میں مدد دیتا ہے، جیسے کہ: سافٹ ویئرز ، گیمز اور فلمیں وغیرہ وغیرہ۔انٹرنیٹ سے وابستہ لوگوں کی اکثریت”ٹورنٹ ڈاؤن لوڈنگ“کو اہمیت دیتے ہیں۔مگر اس کے لیے ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سروس اور کمپیوٹر کا ہونا از حد ضروری ہے۔مارکیٹ میں جو ”ٹورنٹ
ڈاؤن لوڈر“ دستیاب ہیں
وہ کچھ سست الوجودواقع ہوئے ہیں ، جس سے ہر ”ٹورنٹ
ڈاؤن لوڈر“شاقی شاقی سا ہے ۔
بھاری سجدہ(دوم)!!!
ڈاکٹر جِفری لانج (Dr. Jeffery Lang) امریکہ کی مشہور ترین یونیورسٹیوں
میں سے ایک کنساس یونیورسٹی میں ریاضیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ اُن کے مذہبی
سفر کا آغاز تو ۳۰ جنوری ۱۹۵۴ کو ہی ہو گیا تھا جب وہ برج پورٹ کے ایک
رومن کیتھولک خاندان میں پیدا ہوئے۔ اپنی زندگی کے ابتدائی اٹھارہ
سالوں میں اپنے مذہبی عقیدے سے وابستہ اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے عقیدہ میں
پختگی کی بجائے اپنے مذہب کے خدا اور عیسائیت سے متعلقہ سوالوں کے
دیئے ہوئے غیر منطقی جوابوں میں الجھتے چلے گئے۔