میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"

Saturday, December 10, 2011

کیا یزید ابن معاویہ ”لعنت“ کے مستحق ہیں؟

یزید کے معاملے میں لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہیں:
دو انتہائیں، اور تیسری راہ وسط ہے۔
          دو انتہاؤں میں سے ایک کا کہنا ہے کہ یزید کافر تھا۔ منافق تھا۔ اسی نے نواسۂ رسول کے قتل کی تمام تر سعی کی، جس سے اس کا مقصد بھی رسول اللہ ﷺ سے اپنا بدلہ نکالنا تھا اور اپنے آباءو اجداد کا انتقام لینا اور اپنے نانا عتبہ اور نانا کے بھائی شیبہ اور ماموں ولید بن عتبہ وغیرہ کے خون کا حساب بے باک کرنا کہ جن کو نبیﷺ نے بدر کے روز علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور حمزہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی تلواروں سے قتل کرایا تھا۔ اِس فریق کا کہنا ہے کہ یزید نے در اصل بدر کے بدلے چکائے تھے اور جاہلیت کے حسابات بے باک کئے تھے۔ اس فریق نے یزید کی زبان سے یہ شعر بھی کہلوائے ہیں:
لما بدت تلک الحمول وأشرفت
تلک الرؤوس علی ربیٰ جیرون
نعق الغراب، فقلت نح أو لا تنح
فلقد قضیت من النبی دیونی
جس وقت وہ رخت ہائے سفر سامنے آئے اور وہ (نیزوں پر گاڑے ہوئے) سر جیرون کی چوٹیوں پر سے نظر آنے لگے، تب کوا نوحہ کرنے لگا۔ میں نے کہا نوحہ کر یا نہ کر، میں نے تو نبی (ﷺ) کے ساتھ اپنے قرض چکا لئے!


          اس فریق کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس موقعہ پر یزید مستی میں آ کر ابن الزبعری کے یہ اشعار بھی گانے لگا جو زبعری نے اُحد میں مسلمانوں کو پچھاڑنے کے موقعہ پر گائے تھے:
لیت    أشیاخی   ببدر    شہدوا
جزع الخزرج من وقع ال أسل
قد قتلنا الکثیر من أشیاخہم
وعد  لناہ  ببدر     فاعتدل

          کاش میرے بڑے جو بدر میں مارے گئے آج دیکھ لیتے کہ کس طرح ہمارے نیزوں کی ضربوں سے خزرج کے لوگ تڑپتے پھر رہے ہیں۔ ہاں تو آج ہم نے اُن کے بڑوں کی ایک کثیر تعداد موت کے گھاٹ اتار ڈالی، اور ادلے کا بدلہ کر ڈالا۔ تو آج جاکر معاملہ برابر برابر ہوا۔
یہ فریق اسی طرح کی اور بہت سی باتیں بیان کرتا ہے۔
          ایسی باتیں زبان پر لانا رافضہ کیلئے تو ویسے ہی بہت آسان ہے، جو کہ اس سے پہلے ابو بکرؓ اور عمرؓ اور عثمانؓ کی تکفیر کر چکے ہوتے ہیں۔ اور ایسوں کیلئے ظاہر ہے یزید کی تکفیر کرنا کیا مسئلہ ہے؟!
          دوسرا انتہا پر چلے جانے والوں کا گمان ہے کہ یزید ایک صالح شخص تھا۔ امامِ عادل تھا۔ بلکہ ان ننھے صحابہ میں سے تھا جو رسول اللہ ﷺ کے دور میں پیدا ہوئے تھے اور یہ کہ پیدائش کے بعد اس کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا، آنحضور نے اس کو گود میں اٹھایا اور برکت کی دعا دی! بلکہ ان میں سے بعض تو اس قدر آگے گئے کہ یزید کو ابو بکرؓ اور عمرؓ پر فضیلت دی۔ کچھ تو اس کو نبی کہنے سے نہیں چوکے۔ یہ شیخ عدی یا حسن مقتول سے بھی ایک جھوٹا قول منسوب کرتے ہیں کہ: ستر ولی ایسے ہوئے جن کے چہرے موت کے وقت قبلہ سے پھیر کر دوسری طرف کر دیے گئے، اس لئے کہ (افضلیت) یزید کی بابت توقف کیا کرتے تھے!
          عدویہ اور اکراد کے غالی طبقوں اور ان جیسے کچھ دیگر طوائف کا یہی مذہب ہے۔ یہ درست ہے کہ شیخ عدی بنی امیہ میں سے تھے۔ ایک صالح فاضل شخص تھے۔ مگر یہ بات کہیں پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی کہ شیخ عدی نے لوگوں کو سوائے اسی سنت راستے کے کسی اور چیز کی دعوت دی ہو جو کہ سبھی (اہلسنت) کی دعوت رہی ہے، مثلاً (ان کے دور کے بزرگ) شیخ ابو الفرج مقدسی۔ شیخ عدی کا وہی عقیدہ رہا ہے جو شیخ ابو الفرج مقدسی کا تھا، یعنی خالص سنت۔ لیکن ان لوگوں نے شیخ عدی کی نسبت سے سنت کے ساتھ اور بہت سی چیزیں شامل کر دیں، کہیں موضوع احادیث اور کہیں اللہ کی صفات میں تشبیہ۔ کہیں شیخ عدی اور یزید کے معاملہ میں غلو۔ کہیں پر روافض کی مذمت کی بابت شدید انداز کا غلو، یہاں تک کہ عقیدہ اختیار کر لینا کہ رافضی توبہ بھی کر لے تو اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی! وغیرہ وغیرہ۔
          اوپر جو دونوں انتہائیں بیان ہوئیں، ظاہر ہے وہ کسی بھی انسان کے نزدیک جو ذرہ بھر عقل کا مالک ہے اور دورِ سلف سے اور اس وقت کے امور سے ذرہ بھر واقف ہے اس پر ان دونوں انتہاؤں کا باطل ہونا آپ سے آپ واضح ہے۔ یہی وجہ ہے سنت پر پائے جانے والے معروف اہل علم میں سے کسی ایک کی بھی ان ہر دو انتہاؤں میں سے کسی ایک سے کوئی نسبت نہیں رہی۔ نیز سب عقلاءجو رائے رکھنے میں معتبر ہیں اور تاریخی روایات کھنگالنے میں تجربہ رکھتے ہیں ایسی کسی انتہا کی طرف نہیں گئے۔
          تیسرا قول (جو کہ صحیح ہے اور وسط کی راہ ہے) یہ ہے کہ: یزید مسلمانوں کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا۔ اس کی نیکیاں بھی ہیں، بدیاں بھی۔ یہ (دورِ نبوت میں نہیں) بلکہ خلافت عثمانؓ کے عہد میں پیدا ہوا۔ کافر نہیں تھا۔ مگر اس کے سبب سے قتل حسین رضی اللہ عنہ ایسا واقعہ رونما ہوا، اہل حرہ کے ساتھ بھی اس نے جو کیا وہ معروف ہے، یزید نہ صحابی ہے اور نہ اللہ کے نیک اولیاءمیں سے ہے۔ یہی قول اہل سنت و جماعت میں سے عام اہل عقل و اہل علم کا اختیار کردہ ہے۔
          اس کے بعد یہ (یعنی تیسرا فریق) آگے مزید تین سمتوں میں تقسیم ہوا۔ ایک طبقہ یزید پر لعنت کرنے کا قائل ہوا۔ ایک فریق یزید کے ساتھ محبت رکھنے کا قائل ہوا۔ اور ایک فریق (جوکہ وسط کی راہ ہے) نہ اس کو دشنام دینے کا قائل ہے اور نہ اس سے محبت رکھنے کا روادر۔ یہ تیسرا قول ہی امام احمدؒ سے منصوص ہے۔ اسی پر امام احمدؒ کے تلامذہ و اصحاب میں سے اہل اعتدال پائے گئے اور اسی پر دوسرے مذاہب کے اعتدال والے طبقے رہے ہیں۔
          امام احمدؒ کے بیٹے صالح بن احمد روایت کرتے ہیں: میں نے اپنے والد سے کہا: کچھ لوگوں کا مذہب ہے کہ وہ یزید سے محبت رکھیں گے۔ والد صاحب (امام احمد) نے جواب دیا: بیٹے! کیا کوئی شخص جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، یزید سے محبت کا روادار ہو سکتا ہے؟ میں نے عرض کی: ابا جان! تو پھر آپ اس پر لعنت کیوں نہیں کرتے؟ والد صاحب (امام احمد) نے جواب دیا: بیٹے! تو نے اپنے باپ کو کسی کو بھی لعنت کرتے ہوئے کب دیکھا ہے؟
          مہنا روایت کرتے ہیں: میں نے امام احمد سے یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کی بابت پوچھا تو امام احمدؒ نے جواب دیا: وہی تو ہے جس نے اہل مدینہ کا حشر کیا ۔ میں نے عرض کی: اس نے اہل مدینہ کے ساتھ کیا کیا؟ فرمایا: لوٹ مار مچائی۔ میں نے پوچھا تو کیا اس سے حدیث روایت کی جائے گی؟ فرمایا: اس سے ہرگز حدیث روایت نہیں کی جائے گی۔ قاضی ابو یعلی نے (امام احمد سے) یہ روایت اسی طرح بیان کی ہے۔
          امام ابو محمد مقدسیؒ سے جب یزید کی بابت دریافت کیا گیا، تو انہوں نے جواب دیا: جو چیز مجھے (سلف سے) پہنچی ہے وہ یہی ہے کہ: نہ اس پر دشنام اور نہ اس کے ساتھ محبت۔
          یزید اور اس جیسے دیگر لوگوں کی بابت یہی قول سب سے زیادہ عدل اور صحت پر مبنی قول ہے۔
          جہاں تک یزید پر دشنام اور لعنت بھیجنے سے اجتناب کا معاملہ ہے تو وہ اس بنا پر کہ (ان اہل علم کے نزدیک) اس کا کوئی ایسا فسق ثابت نہیں ہوا جو اس پر لعنت کا متقاضی ہو۔ یا پھر اس بنا پر کہ ایک فاسق شخص کو متعین کر کے اس پر لعنت نہیں کی جائے گی، کوئی عالم اس کی "تحریم" کا قائل ہونے کے باعث اس سے احتراز کرے گا تو کوئی عالم اس کی "تنزیہ" کا قائل ہونے کے باعث۔ کیونکہ صحیح بخاری میں بروایت عمرؓ حمار نامی ایک شخص کے قصہ میں آتا ہے، جس کو شراب خوری کے مقدمہ میں بار بار لایا جاتا اور کوڑے لگتے، کہ جب ایک صحابی نے اس پر لعنت کی تو نبیﷺ نے اس کو منع کرتے ہوئے فرمایا: "اس پر لعنت مت کرو، کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے"۔ علاوہ ازیں ایک متفق علیہ حدیث میں نبیﷺ نے فرمایا: لعن المؤمن کقتلہ "مومن پر لعنت کرنا بھی ایسا ہی جیسا کہ اس کو قتل کرنا"۔ جبکہ ہم جانتے ہیں نبیﷺ نے ایک عمومی معنیٰ میں شراب اور شراب خور ہر دو پر لعنت فرمائی ہے۔ جبکہ اس مذکورہ بالا حدیث میں جس لعنت سے ممانعت ہوئی وہ کسی شخص کو متعین کر کے لعنت کرنے سے متعلق ہے۔ اس کا معاملہ ان نصوص جیسا ہی ہے جن میں شریعت نے یتیموں کا مال کھانے والے شخص یا زانی یا چور کو کوئی وعید سنائی ہے۔ پھر بھی ہم کسی شخص پر جو ایسے کسی جرم میں ملوث پایا گیا ہو، اس کو متعین کر کے یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ وہ اہل جہنم میں سے ہے۔ کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ایک نص کا اقتضاءکسی دوسری نص کے اقتضاءکے ساتھ متعارض ہونے کے باعث ٹل جائے۔ مثلاً کسی کا توبہ کر لینا۔ ایسی نیکیاں کر لینا جو برائیوں کو مٹا ڈالیں۔ یا مصائب جو آدمی کیلئے کفارہ بن جائیں۔ یا کوئی شفاعت جو خدا کے ہاں قبول ٹھہرے۔ وغیرہ وغیرہ۔
          یزید پر لعنت کے قائل اہل علم میں سے ایک تعداد ایسی ہے جو اس لعنت کو مباح جانتے ہوئے اس بات کی قائل ہے کہ کوئی شخص اگر یزید پر لعنت نہیں کرتا تو وہ ایسا ہی ہے کہ کوئی آدمی کسی مباح فضول گوئی کو ترک کر کے رہے۔ نہ کہ اس باب سے کہ اس پر لعنت کرنا مکروہ ہے۔ رہ گئی یہ بات کہ یزید کے ساتھ محبت نہیں رکھی جائے گی، تو وہ اس بنا پر کہ محبتِ خاصہ تو رکھی جاتی ہے نبیوں کے ساتھ، صدیقین کے ساتھ، شہداءکے ساتھ اور صالحین کے ساتھ۔ جبکہ یزید ان چاروں اصناف میں نہیں آتا۔ نیز رسول اللہﷺ نے فرما رکھا ہے: المرءمع من أحب "آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس کے ساتھ اس کی محبت ہو" اب جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے کبھی یہ اختیار نہیں کرے گا کہ وہ یزید کے ساتھ ہو یا اس جیسے دیگر بادشاہوں کے ساتھ ہو جو عادل نہیں ہیں۔
          اہل علم کا یہ موقف کہ یزید کے ساتھ محبت نہیں رکھی جائے گی، دو بنیادوں پر قائم ہے:
          پہلی یہ کہ: یزید سے کوئی ایسے صالح اعمال صادر نہیں ہوئے جو اس کے ساتھ محبت کا موجب ہوں۔ لہٰذا وہ جبراً مسلط کئے گئے بادشاہوں ایسا ایک بادشاہ رہ جاتا ہے۔ اِس نوع کے اشخاص سے محبت کرنا شریعت کا تقاضا نہیں ہے۔
          دوسری یہ کہ: یزید سے ایسے اعمال سرزد ہوئے جو اس کو ظالم اور فاسق ٹھہرانے والے ہیں، خصوصاً قتل حسین رضی اللہ عنہ اور واقعۂ اہل حرہ۔
          اہل علم میں سے وہ بزرگ جنہوں نے یزید پر لعنت کی ہے، مانند ابو الفرج بن الجوزی اور کیا ہراسی { ابو الحسن علی بن محمد بن علی طبری، بہ لقب عماد الدین، شافعی فقیہ، جن کا تعلق طبرستان سے تھا، بغداد کے مدرسہ نظامیہ میں تدریس کے منصب پر فائز رہے، پیدائش 354ھ، وفات بغداد میں 405ھ۔ } وغیرہ، تو اس کی ان کے نزدیک تین بنیادیں ہو سکتی ہیں:
·        یا تو یہ بنیاد یہ اختیار کرتے ہوئے کہ یزید سے ایسے افعال صادر ہوئے ہیں جو اس پر لعنت کو مباح ٹھہراتے ہیں۔
·        یا پھر وہ اس بات کے قائل ہیں کہ یزید فاسق ہے اور ہر فاسق پر لعنت جائز ہے۔
·        اور یا وہ اس بات کے قائل ہیں کہ ایک بدی کرنے والے شخص پر لعنت کرنا جائز ہے اگر چہ اس پر فاسق ہونے کا حکم نہ بھی لگایا گیا ہو، جیسا کہ اہل صفین کی بابت آتا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر قنوت کرتے رہے تھے؛ چنانچہ علیؓ اور ان کے اصحاب اہل شام میں سے کچھ لوگوں کو متعین ٹھہرا کر ان پر لعن کرتے رہے تھے، اسی طرح اہل شام بھی فریق دیگر کے لوگوں پر لعن کرتے رہے تھے۔ حالانکہ (یہ ایک علمی مسئلہ ہے کہ) تاویل سائغ رکھ کر ایک دوسرے کے ساتھ قتال میں ملوث ہو جانے والے مسلمان خواہ وہ عادل ہوں یا باغی، ان میں سے کسی کو فاسق نہیں ٹھہرایا جاتا۔ یا پھر ایک آدمی کے کچھ نہایت سنگین گناہوں کے باعث اس پر لعنت کر دی جاتی ہے اگر چہ آدمی سب کے سب فاسق لوگوں پر لعنت نہ بھی کرنے والا ہو، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل معاصی میں سے کچھ انواع پر لعنت فرمائی یا نافرمانوں میں سے کچھ خاص نافرمانوں پر لعنت فرمائی اگرچہ آپ نے سب اہل معاصی اور سب نافرمانوں پر لعنت نہ بھی فرمائی ہو۔
          تو یہ تین بنیادیں ہوئیں ان علماءکے نزدیک جو یزید پر لعنت کے قائل ہوئے ہیں۔
          رہا اہل علم کا دوسرا فریق جوکہ یزید کے ساتھ محبت رکھنے کا قائل ہوا ہے مانند غزالیؒ اور دستیؒ وغیرہ، تو یہ رائے رکھنے کے معاملہ میں اس فریق کی یہ دو بنیادیں ہیں:
          پہلی یہ کہ: یزید مسلمان ہے۔ عہدِ صحابہؓ میں امت کا ولی امر رہا ہے اور صحابہؓ میں سے جو لوگ اس کے عہد تک رہ گئے تھے وہ اس کی امارت میں رہے ہیں۔ نیز اس کے اندر اچھے خصائل بھی تھے۔ رہ گیا واقعۂ حرہ اور دیگر امور جن کی بنیاد پہ یزید پر نکیر ہوتی ہے تو ان معاملات میں وہ تاویل رکھتا تھا۔ چنانچہ اس فریق کا قول ہے کہ یزید مجتہد مخطی ٹھہرتا ہے۔ اس فریق کا کہنا ہے کہ خود اہل حرہ ہی نے بیعت توڑنے میں پہل کی تھی اور اس پر عبد اللہ بن عمرؓ نے اُن پر نکیر بھی کی تھی۔ رہ گیا قتلِ حسینؓ تو یزید نے اس کا حکم نہیں دیا تھا اور نہ وہ اس پر راضی ہوا تھا، بلکہ اس کی جانب سے اِس پر اظہار درد ہوا تھا، جن لوگوں نے حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا یزید نے ان کی مذمت کی تھی، نیز حسین رضی اللہ عنہ کا سر بھی یزید کے پاس نہیں لایا گیا بلکہ ابن زیاد کے پاس لایا گیا تھا۔
          دوسری یہ کہ: صحیح بخاری کی حدیث سے بروایت عبد اللہ بن عمرؓ ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا اول جیش یغزو القسطنطینیة مغفور لہ "وہ پہلا لشکر جو قسطنطنیہ پر یورش کرے گا، بخشا جائے گا"۔ جبکہ وہ پہلا لشکر جس نے قسطنطنیہ پر یورش کی، اس کا امیر یزید تھا۔
          مبنی بر تحقیق بات البتہ یہی ہے کہ: ہر دو فریق کے قول میں اجتہادِ سائغ پایا جاتا ہے۔ چنانچہ اعمال بد کرنے والوں پر (معین کر کے) لعنت کرنے کا مسئلہ (کوئی متفق علیہ مسئلہ نہیں بلکہ) اس کے اندر اجتہاد کی گنجائش پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ایسے شخص کی محبت کا مسئلہ ہے جس کے ہاں حسنات اور سیئات ہر دو پائی گئی ہوں۔ بلکہ ہمارے ہاں یہ کوئی امرِ محال نہیں کہ ایک ہی شخص میں ستائش اور مذمت ہر دو کے اسباب جمع ہوں۔ ثواب اور عذاب ہر دو کے موجبات جمع ہوں۔ کسی حوالے سے ایک آدمی کی نمازِ جنازہ پڑھ لینا اور اس کیلئے دعائے خیر کر دینا بھی جائز ہو اور کسی دوسرے حوالے سے اس کو لعنت اور سب و شتم کا محل بھی ٹھہرایا جائے۔
          در اصل اہل سنت کے ہاں قاعدہ یہ ہے (اور بالاتفاق ہے) کہ اہل ملت میں سے جو فساق ہیں اگر وہ دوزخ میں چلے جائیں یا دوزخ میں جانے کے سزاوار قرار پائیں تو بھی وہ کبھی نہ کبھی جنت میں داخل ہونے والے ہیں۔ چنانچہ ایک ہی شخص کے معاملہ میں ثواب اور عذاب ہر دو مجتمع ہو سکتے ہیں اور ان دو باتوں کے اندر کوئی تعارض نہیں۔ البتہ خوارج اور معتزلہ اس اصول کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو شخص ثواب کا مستحق ہے وہ عذاب کا سزاوار نہیں اور جو عذاب کا سزاوار ہے وہ ثواب کا حقدار نہیں ہو سکتا۔ عقیدہ کا یہ ایک مشہور مسئلہ ہے اور اس کا مفصل بیان کسی اور مقام پر ہی ہو سکتا ہے۔
          رہ گیا مسئلہ دعائے خیر اور دعائے بد کا، تو اس کی تفصیل جنائز کے باب میں ہے۔ چنانچہ یہ ایک معلوم بات ہے کہ مسلمانوں کے فوت شدگان کا، خواہ کوئی نیکوکار ہو یا بدکار، جنازہ تو پڑھا جاتا ہے(جو کہ دعائے استغفار ہی ہوتی ہے)۔ البتہ ایک فاجر بدکار پر لعنت بھی کی جاتی ہے، کوئی اس کو متعین کر کے لعنت کر دیتا ہے تو کوئی اس کی نوع پر (یعنی "اس جیسوں" پر لعنت کر دیتا ہے)۔ گو اول الذکر زیادہ اعتدال پر مبنی ہے۔ یہی جواب میں نے (ابن تیمیہؒ نے) مغل بادشاہ بولائی خان کے سپہ سالار کے روبرو دیا، جب مغل لشکر بغداد پر چڑھائی کیلئے پیش قدمی کرتے ہوئے دمشق آگئے تھے، تب میرے اور اس کے مابین گفتگو کے کچھ دور چلے تھے۔ اس نے مجھ سے جو سوالات پوچھے ان میں یہ بھی تھا کہ: تم لوگ یزید کی بابت کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا: نہ ہم اس کو دشنام دینے والے ہیں اور نہ اس سے محبت کرنے والے۔ کیونکہ وہ کوئی صالح انسان نہیں تھا جس سے ہم محبت کریں۔ البتہ مسلمانوں میں سے ہم کسی شخص کو متعین کرکے دشنام بھی نہیں دیتے۔ مغل بادشاہ بولا: کیا تم اس پر لعنت نہیں کرتے؟ کیا وہ ظالم نہیں تھا؟ کیا وہ حسینؓ کا قاتل نہیں؟ میں نے جواب دیا: ہمارے سامنے جب کسی ظالم کا ذکر ہو، جیسے حجاج بن یوسف یا اس جیسے دیگر، تو اس موقعہ پر ہم ویسے ہی الفاظ بولنا مناسب جانتے ہیں جیسے قرآن میں مذکور ہوئے، یعنیأَلاَ لَعْنَةُ اللّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ (ہود: 18) "خبردار ظالموں پر اللہ کی لعنت"۔ البتہ ہم کسی شخص کو متعین کر کے لعنت نہیں بھیجتے۔ اگرچہ علماءمیں سے ایک جماعت یزید پر لعنت کرتی ہے، اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے اندر اجتہادات کا اختلاف ہو سکتا ہے۔ تاہم پہلا قول ہمیں زیادہ پسند ہے اور ہمارے نزدیک بہتر نظر آتا ہے۔ ہاں جس کسی نے حسینؓ کو قتل کیا ہے اس پر لعنت ہو اللہ کی، فرشتوں کی اور سب انسانوں کی۔ نہ اللہ اس سے کوئی تاوان قبول کرنے والا ہے اور نہ کوئی معاوضہ۔
          مغل افسر بولا: تو کیا تم اہل بیت سے محبت نہیں کرتے؟ میں نے جواب دیا: اہل بیت کی محبت ہمارے نزدیک فرض ہے۔ واجب ہے۔ اور ثواب کا موجب ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں صحیح مسلم کی حدیث بروایت زید بن ارقم پایۂ ثبوت کو پہنچی ہے کہ: رسول اللہﷺ نے مکہ اور مدینہ کے مابین خم نامی ایک کنویں (غدیر) پر ہمیں خطاب فرمایا اور کہا: "اے لوگو! میں تم میں دو امانتیں چھوڑے جا رہا ہوں، کتاب اللہ، آپ نے کتاب اللہ کا ذکر کیا اور اس پر نہایت زور دیا، پھر کہا: اور میرا کنبہ میرے اہل بیت، میں تمہیں اپنے اہل بیت کی بابت اللہ کی یاد دلاتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہل بیت کی بابت اللہ کی یاد دلاتا ہوں"۔ میں نے سپہ سالا سے کہا: اور ہم روزانہ نماز کے اندر یہ کہتے ہیں: اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم انک حمید مجید، وبارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی آل ابراہیم انک حمید مجید۔ سپہ سالار بولا: تو پھر اہل بیت سے بغض کرنے والے کون ہیں؟ میں نے جواب دیا: جو اہل بیت سے بغض رکھے اس پر لعنت ہو اللہ کی، فرشتوں کی اور سب انسانوں کی، اللہ نہ اس سے کوئی تاوان قبول کرے اور نہ کوئی معاوضہ۔
          تب میں نے وہاں بیٹھے ہوئے مغل وزیر سے پوچھا کہ اس سپہ سالار نے ہم سے یزید کی بابت سوال کیوں کیا، جبکہ یہ تاتاری ہے؟ تو اس نے مجھے بتایا کہ لوگوں نے اس کو کہا تھا کہ اہل دمشق نواصب ہیں۔ تب میں نے آواز اونچی کر کے کہا: جس شخص نے یہ کہا ہے جھوٹا ہے، اور جو شخص اس بات کا قائل ہے اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ اللہ کی قسم اہل دمشق میں کوئی نواصب نہیں، میں نے ان میں کوئی ایک بھی ناصبی نہیں دیکھا، اور اگر کوئی شخص دمشق میں کھڑا ہو کر علی رضی اللہ عنہ کی عیب جوئی کرے تو سب مسلمان اس پر پل پڑیں۔ ہاں پہلے کسی زمانے میں ایسا تھا جب بنو امیہ اس ملک کے والی ہوا کرتے تھے اور بنو امیہ میں سے بعض نے علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دشمنی اور آپؓ پر تبرا کرنے کا انداز اختیار کیا تھا۔ آج البتہ دمشق کے اندر ان میں سے کوئی باقی نہیں۔
جمع و ترتیب :  حامد کمال الدین۔
((ماخوذ از مجموع فتاویٰ امام ابن تیمیہ جلد 4))
ادارہ’’سنپ‘‘ صاحب مضمون کا ہمہ تن مشکور و ممنون ہے۔
یاد آوری جاری رکھنے کی التماس۔[شکریہ]

1 : : : ----- ((( تبصرے جات ))):

محمد طارق راحیل said...

آخر حضرت ابو ایوب انصاری نے کیوں وصیت کی کہ میری نماز جنازہ یزید ابن معاویہ ہی پڑھائے اگر وہ ناہنجار ہوتا تو؟؟

Post a Comment

خوش آمدید