میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"

Friday, December 9, 2011

میں ایک قتل کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔

          میری اب تک کی گمشدگی سے محفوظ یاداشت میں دو تین واقعات ایسے تھے کہ جب وہ سماعت تک پہنچے تو لگا یہ معاشرہ تباہی اور بداخلاقی کی جانب تیزی سے گامزن اور عذاب الہٰی کا اہل ہوچکا ہے۔

          پہلا واقعہ تھا اسما نواب کا جو فرسٹ ایئر کی طالبہ تھی اور اُس نے اپنے “دوست” کے ساتھ مل کر اپنے سگے والدین کو ذبح کردیا تھا، وہ وقوعہ سے گرفتار ہوئی تھی اُس پر مقدمہ بھی چلا تھا۔ پھر نہ جانے اُسکا کیا بنا۔
          دوسرا واقعہ تھا مختاراں مائی کا جسے پنجائیت کے فیصلے پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اس پنجائیت کے “موثر ارکان” باعزت بری ہوچکے ہیں۔
          تیسرا واقعہ تسلیمہ سولنگی کا تھا جسے موجودہ وزیراعلیٰ سندھ کے حلقہء انتخاب میں پنجائیت کے فیصلے پر کُتوں کے آگے چھوڑ دیا گیا تھا۔
          چند دن پہلے ایک واقعہ کچھ یوں وقوع پذیر ہوا تھا کہ ایک عورت اپنے بھانجے کیساتھ گرفتار کی گئی جو اپنے شوہر کو قتل کرنے اور اُسکے ٹکڑے کرنے کے بعد گوشت کا سالن پکا رہی تھی، بوُ پھیلنے پر پکڑی گئی۔ یہ واقعات انتہائی سنگین اور درد ناک ہیں۔ ہماری خواہش بھی یہی ہے کہ ان مُجرمین کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے مگر ایک واقعہ ایسا ہوا ہے کے اُس کے لئے موت سزا کم ہے سب سے سخت رجم کی اسلامی سزا بھی کم ہے، مجھے نہ اپنی سماعت  پر یقین آرہا تھا نہ بصارت پر۔
          جیسمین منظور اُسے بار بار کم بخت کہہ رہی تھی، رو رہی تھی اور اُسکا چہرہ نارمل تھا، میں “شہر کراچی” میں سولہ برس ایک پُرجوش زندگی گزار رہا ہوں مگر اُس زندگی میں نہ کبھی کسی کے تھپڑ مارا نہ کھایا، لیکن آج اسے قتل کرنے کا جی چاہتا ہے، وہ جس دن پاپوش نگر کے قبرستان سے پکڑا گیا، اُس دن ایک نجی ٹی وی پر میں نے رپورٹ دیکھی تھی پولیس افسر کا کہنا تھا “اگر ہم اسے گرفتار کرنے میں تھوڑی دیر کرتے تو عوام اُس کے ٹکڑے کردیتے” کاش ایسا ہوجاتا (مگر افسوس ہمارا محکمہء پولیس تو ہے ہی مجرموں کا تحفظ کرنے کے لئے)، دوسری آواز آُس مجسم گالی ، اُس پلید کی تھی جو پانچ سال کے دوران اڑتالیس “مرحوم خواتین” کی قبروں میں گُھس کر اُ نکے ساتھ بدفعلی کا اعتراف کررہا تھا، اُس کی آواز نارمل تھی، احساس شرم اور کسی بھی قسم کی گھبراہٹ سے عاری تھی تیسری آواز ماہر نفسیات کی تھی جو اُسے نارمل قرار دے رہا تھا اور چوتھی آواز مفتی نعیم کی تھی جو اُس کی موت کا فتویٰ دے رہے تھے۔
          اُس کے چند دنوں بعد ایک اخباری رپورٹر نےاُس خبیث کا تفصیلی انٹرویو شائع کیا جس کے مطابق وہ منحوس قبر کا ایک سلیب نکال کر اندر چلا جاتا تھا، آخری روز بھی وہ ایسے ہی قبر کے اندر داخل ہوامگر چیختا ہوا قبر سے باہر نکلا تھا جس پر دھرلیا گیا چیخنے کی وجہ اُس نیک بی بی کا منہ کھل جانا اور آنکھوں سے تیز روشنی کا نکلنا تھا، ورنہ نہ جانے کب تک وہ حُرمتیں پامال کرتا رہتا۔
          میں نے انسانی تاریخ کا اب تک جو مطالعہ کیا ہے اُس میں آج تک ایسے مکروہ فعل کے بارے میں نہیں پڑھا، مجھے قوم لوط، یونان کی برہنہ دوڑیں، عصر حاضر کے سیکس فری اسٹیٹ کے دلداداہ ہم جنس پرست اور کال گرلز بہتر لگ رہی ہیں کہ کم از کم “زندوں” تک تو محدود ہیں اور اس اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باشندوں کی عزتیں قبروں میں بھی محفوظ نہیں۔۔۔۔۔
حضرت اقبال آپ نے بجا فرمایا تھاکہ:
یہ وہ مسلماں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
اس قوم کو کسی”انقلاب“ یا”تبدیلی“ کی ضرورت نہیں اگر ضرورت ہے تو”اجتماعی استغفار“ کی۔۔۔۔۔
   مصنف  :  احمد ریحان۔(کراچی)
ادارہ’’سنپ‘‘ صاحب مضمون کا ہمہ تن مشکور و ممنون ہے۔
یاد آوری جاری رکھنے کی التماس۔[شکریہ]

0 : : : ----- ((( تبصرے جات ))):

Post a Comment

خوش آمدید