میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"

Friday, December 9, 2011

اگر آندرے کی جگہ میں ہوتا تو ۔۔۔

          اگر اس کی جگہ میں ہوتا تو اب تک گوانتا ناموبے میں ہوتا یا کسی کال کوٹھری میں پھانسی کی سزا کا منتظر ہوتا۔ میرے اہل خانہ اور دوست احباب کڑی تفتیش کے عمل سے گزر رہے ہوتے۔ میرے سیل فون میں موجود تمام نمبرز کی جانچ پڑتال ہورہی ہوتی اور سب کے سب بے چارے اس جرم میں کہ میرے موبائل میں ان کا نمبر saved تھا سخت ذہنی اذیت کا سامنا کررہے ہوتے۔ وہ بے چارے بھی جو شاید مجھے جانتے تک نہیں۔
          میری اس حرکت پر نہ جانے کتنے ٹاک شوز ہوچکے ہوتے۔ شاید اس جرم کی پاداش میں نیٹو میرے وطن کی اینٹ سے اینٹ بجادیتا یا پھر میرے اپنے ہی ملک کی سیکورٹی فورسز مجھے عالمی عدالت کے حوالے کردیتیں۔ دنیا بھر سے میری، میرے عقائد، میرے نظریات کی مذمت کی جارہی ہوتی، مجھے انتہا پسند ،بنیاد پرست،دہشت گرد  اور نہ جانے کیا کچھ کہا جارہا ہوتا،چاہے وہ میرا اپنا انفرادی یا ذاتی عمل ہی کیوں نہ ہوتا یا پھر میرا پاگل پن ہوتا تب بھی۔
          لیکن چونکہ وہ میں نہ تھا بلکہ کوئی اور تھا اس لئے یہ سب کچھ نہ ہوا، بس ایک خبر ہوئی اور آکر گزر گئی، چند فالو اپس اور بس، ایک خبر کی اہمیت ہی کتنی ہوتی ہے، یہ واقعہ بھی ماضی کا حصہ بن جائے گا، ہمارا میڈیاجب   چاہے تو رائی کا پہاڑ بنادے اور چاہے تو پہاڑ کو رائی بنادے ۔
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

          آپ بھی  کہہ رہے ہوں گے کہ کیا ہوگیا ہے اسے، اول فول بک رہا ہے، دماغ سٹھیا گیا ہے، پر کیا کریں خبر ہی ایسی ہے کہ دماغ کھسکے گا نہیں تو اور کیا ہوگا۔لیکن یہ تو بتائیں کہ آپ نے وہ خبر پڑھی۔۔؟نہیں!،ہنہ۔۔پڑھتے بھی کیسے ۔پاکستانی ٹی وی چینلز اور اخبارات کو ملکی سیاست اور بھارتی اداکاروں کے یوم پیدائش اور یوم وفات سے فرصت ملے تونا! چلیں میں خود ہی آپ کو بتادیتا ہوں۔22 جولائی 2011   جی کیا ہوا تھا اس دن۔ناروے میں اس دن ایک شخص نے فائرنگ اور بم دھماکے کرکے” 77 ” افراد کو قتل  اور  ” 151″ کو زخمی کردیا تھا۔پوچھا بھئی تم نے انھیں کیوں مارا تو کہنے لگا کہ ان سب کا قتل جائز تھا کیوں کہ ناروے کی حکومت مسلمانوں کے خلاف کوئی اقدام نہیں  کررہی ہے۔اس شخص نے باقاعدہ اپنے ہی ملک کے 77 افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے اور اس پر اسے کوئی شرمندگی بھی نہیں۔آندرے بیرنگ بریوک نامی اس شخص نے 22 جولائی کو پولیس والے کا بہروپ بھر کے پہلے حکومتی دفاتر کے نزدیک ایک کار بم دھماکہ کیا جس میں 8 افراد ہلاک ہوئے اور پھر ناروے کی حکمران جماعت لیبر پارٹی کے یوتھ کیمپ فائرنگ کردی جس سے 69 نوجوان ہلاک ہوگئے۔آندرے بریوک نے گرفتاری کے بعد باقاعدہ اپنے اس گھناؤنے جرم کا اعتراف تو کیا لیکن اسے جرم ماننے سے انکار کردیا اور اسے ایک نیک عمل قرار دیا۔آندرے خود کو مسلم مخالف قرار دیتا ہے اور اس کا تعلق دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ایک انتہا پسند عیسائی جماعت سے بتایا جاتا ہے۔
          اپنے اس اقدام کو جائز قرار دیتے ہوئے آندرے کہتا ہے کہ وہ یورپ میں تیزی سے پھلتے پھولتے اسلام کو روکنا چاہتا ہے اور وہ مسلمان تارکین وطن کی ناورے آمد پر لیبر پارٹی  کی نرم پالیسیوں سے ناخوش  بھی ہے۔اپنے جاری کردہ منشور میں اس نے کہا ہے کہ وہ مسلمانوں کی یلغار سے یورپ کو بچانے کیلئے لڑ رہا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ پورا واقعہ آندرے نے اکیلے ہی سرانجام دیا تاہم حقیقت یہ ہے کہ ایسا ممکن نہیں کیونکہ اسلحہ کی فراہمی ،آمدورفت اوریوتھ کیمپ پر فائرنگ کرکے 70 افراد کی ہلاکت کسی تنہا شخص کے بس کی بات نہیں تاہم انتظامیہ نے سارا ملبہ صرف آندرے پر ہی ڈال کر معاملہ پراسرار بنادیا ہے ۔
          اس شخص نے باقاعدہ اعتراف کیا ہے کہ ہاں میں نے افراد کو قتل کیا ہے لیکن خبر یہ ہے کہ حکومت نے اس شخص کا نفسیاتی ماہرین سے معائنہ کرایا ہےجنھوں نے آندرے کو ایک نفسیاتی بیماری paranoid schizophrenic میں مبتلا قرار دے کر کہا کہ اس شخص نے  نفسیاتی بیماری کے زیراثر یہ حرکت کی ہے اور چونکہ کہ 77افراد کو قتل کرتے وقت  یہ اس نفسیاتی بیماری کے زیراثر تھا اسلئے اسے سزائے موت تو کجا قید کی سزا بھی نہیں دی جاسکتی۔ یعنی نفسیاتی قرار دے کر سارا معاملہ ہی ختم کردیا۔ اور اب عدالت اس رپورٹ کی روشنی میں ہی کیس کا فیصلہ سنائے گی اور پھر شائد اسے سزائے موت یا عمر قید کی بجائے کسی اچھے سے اسپتال میں رکھا جائے گا۔ جہاں سے ہوسکتا ہے کہ یہ فرار ہوکر پھر اسی حرکت کا ارتکاب کرے۔
          لیکن مان لیا جائے کہ اگر آندرے نفسیاتی مریض بھی ہے تو تب بھی اس کی آئیڈیالوجی کو کیا یکسر بھلا دیا جائے،اس سے تفتیش نہ کی جائے کہ اس کی نظریاتی تربیت کس نے کی، کیا یہ انتہاپسندی نہیں ، کیا یہ دہشتگردی نہیں، اور اگر اس کی جگہ میں ہوتا تو کیا تب بھی ایسا ہی ہوتا اور میرے اس عمل کو ذاتی فعل یا  ذہنی مریض کہہ کر قصہ پاک کردیا جاتا۔ صرف اسلئے کیونکہ میں  شناختی فارم میں درج مذہب کے خانے میں “مسلم” لکھتا ہوں اور آندرے کچھ اور لکھتا ہے۔
اگر اس کی جگہ میں ہوتا تو کیا تب بھی ایسا ہی ہوتا۔۔۔؟
میڈیا زندہ باد
 مصنف  :  حمید دہلوی ۔
ادارہ’’سنپ‘‘ صاحب مضمون کا ہمہ تن مشکور و ممنون ہے۔
یاد آوری جاری رکھنے کی التماس۔[شکریہ]

0 : : : ----- ((( تبصرے جات ))):

Post a Comment

خوش آمدید