میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"

Wednesday, August 31, 2011

حیدرآباد دکن:بھارتی تاریخی شہر

حیدر آباد دکن ، موجودہ ہندوستان کی جنوبی  ریاست آندھرا پر دیش کا دارالحکومت  اور ریاست کا سب سے بڑا تیزی سے ترقی کی جانب گامزن شہر ہے ۔حیدرآباد دکن اپنے سنہری تاریخ اور ثقافت کی وجہ سے مشہور  ہے ۔حیدرآباد دکن کو موتیوں اور مسلمان نظام بادشاہوں کا شہر کہا جاتا ہے ۔ یہاں مسلمانوں کی  اکثریت ہے  ۔اردو اور تیلگویہاں کی بولی جانے والی بڑی زبانیں ہیں ۔موجودہ دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور بایوٹیکنالوجی  کا مرکز مانا جاتا ہے ۔ حیدرآباد کے انفو ٹیک پارک کو “سائبرآباد“ کے نام سے جانا جاتاہے۔

حیدر آباد دکن اور سکندرآباددو جڑواں شہر ہیں۔ ان دونوں شہروں کی حد بندیاں ”حسین ساگر“نے کی تھی ۔ یہ وہی حسین ساگر ہیں جنہوں نے 1562عیسوی میں ابراہیم قطب شاہ کے دور میں یہاں نہر بنوائی تھی ۔
حيدرآباد دكن برطانوی ہندوستان میں الگ ریاست تھی اور وہاں اس كا اپنا سكہ رائج تھا اور اپنی حكومت تھی، ليكن جب 1947 میں بھارتی حكومت قائم ہوئی تو اس نے دكن كی حكومت كو مٹا ديا اور بھارت میں شامل کر دیا۔
حیدرآباد دکن کو 2010 میں بھارت کا چھٹا بڑا” گنجان آباد شہر(Populous City )“ اور چھٹا بڑا ”گنجان آباد شہری قصبہ(Populous Urban City)“ کا خطاب بھی دیا گیا تھا۔ آبادی 6,140,145 ہے
حیدرآباددکن ، اردو تہذیب، تمدن، روایات۔ ادبی ثقافتی اور مذہبی مرکز ہے۔ حیدرآباددکن کو تیلگو فلم انڈسٹری کا گھر بھی کہا جاتا ہے ۔تیلگو فلم انڈسٹری (Tollywood)  بھارت کی دوسری بڑی فلم انڈسٹری ہے ۔
حیدرآباددکن میں دیکھنے لائق کئی تعمیرات ہیں، جن میں مشہور چار مینار سب سے اہم ہے۔ دیگر اہم مقامات درج ذیل ہیں :

                                   


--------  حیدرآباد دکن کی تصویری جھلکیاں --------
-----------------------------------









































نوٹ :         یہ مضمون انگریزی میں ای میل گروپ سروس سے موصول ہوئی تھی ۔


پھر اسے اردو ترجمہ میں ڈھالا گیا اور بعض مقامات میں وکی پیڈیا اردو سے بھی مدد لی

 گئی ہے ۔

(ادارہ سنپ نامعلوم صاحب مضمون اور وکی پیڈیا کا تہہ دل مشکور ہے ۔)


ترجمہ /جمع و ترتیب  :  ابن ساحل۔(بہ کی بورڈ خود) 

2 : : : ----- ((( تبصرے جات ))):

Dr. Hijazi said...

محترم !!!!
آپ نے اچھے انداز میں اس مضمون کا احاطہ یا ترجمہ کیا ہے ۔

مجھے ایک چیز کی کمی نظر آئی کہ
اگر ان تصاویر میں کیپشن بھی لگا دیئے جاتے تو سمجھنے میں آسانی ہوتی ۔۔۔
شکریہ

فرخ صدیقی said...

کلمات تحسین پر شکریہ۔۔

آپ کی رائے کا خیال رکھا جائے گا۔

عنقریب ھم ان تصاویر میں حاشیہ بندی کا اضافہ کر دیں گے ۔
شکریہ

Post a Comment

خوش آمدید