میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"

Sunday, August 7, 2011

زندگی !!! منفی اعتقادات کے ساتھ

  کولمبیا کی ایک یونیورسٹی میں ریاضیات کے لیکچر کے دوران کلاس میں حاضر ایک لڑکا بوریت کی وجہ سے سارا وقت پچھلے بنچوں پر مزے  سے  سویا رہا، لیکچر کے اختتام پر طلباء کے باہر جاتے ہوئے شور مچنے پر اس کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ پروفیسر نے تختہ سیاہ پر دو سوال لکھے ہوئے ہیں۔ لڑکے نے انہی دو سوالوں کو ذمیہ کام(Home Work) سمجھ کر جلدی جلدی اپنی نوٹ بک میں لکھا اور دوسرے لڑکوں کے ساتھ ہی کلاس سے نکل گیا۔ گھرجا کرلڑکا ان دو سوالوں کےحل سوچنے بیٹھا۔ سوال ضرورت سے کچھ زیادہ ہی مشکل ثابت ہوئے۔ ریاضیات کا اگلا سیشن چار دنوں کے بعد تھا اس لیے  لڑکے نے سوالوں کو حل کرنے کے لیے اپنی کوشش جاری رکھی اور یہ لڑکا چار دنوں کے بعد ایک سوال کو حل کر چکا تھا۔
اگلی کلاس میں لڑکے کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ پروفیسر نے آتے ہی بجائے دیئے ہوئے سوالوں کے حل پوچھنے کے، نئے موضوع پر پڑھانا شروع کر دیا تھا۔ لڑکا اُٹھ کر پروفیسر کے پاس گیا اور اُس سے کہا کہ  اُستاد صاحب، میں نے چار دن لگا کر ان چار صفحات پر آپ کے دیئے ہوئے دو سوالوں میں سے ایک کا جواب حل کیا ہے اور آپ ہیں کہ کسی سے اس کے بارے میں پوچھ ہی نہیں رہے؟
اُستاد نے حیرت  سے  لڑکے کو دیکھتے ہوئے کہا کہ میں نے تو کوئی ذمیہ کام نہیں دیا تھا۔ ہاں مگر میں نے تختہ سیاہ پر دو ایسے سوال ضرور لکھے تھے جن کو حل کرنے میں اس دُنیا کے سارے  لوگ ناکام ہو چکے ہیں۔
جی ہاں۔ یہی منفی اعتقادات ہیں جنہوں نے اس دُنیا کے اکثر علماء کو ان مسائل کے حل سے ہی باز رکھا ہوا تھا کہ ان کا کوئی جواب دے ہی نہیں سکتا تو کوئی اور کیوں کر ان کو حل کرنے کے لیے محنت کرے۔ اور  اگر یہی طالب علم عین اُس وقت جب کہ پروفیسر تختہ سیاہ پر یہ دونوں سوال لکھ رہا تھا، جاگ رہا ہوتا  اور  پروفیسر کی یہ بات بھی سن رہا ہوتا کہ کہ ان دو مسائل کو حل کرنے میں دنیا ناکام ہو چکی ہے تو وہ بھی یقیناً  اس بات کو تسلیم کرتا اور ان مسائل کو حل کرنے  کی قطعی کوشش ہی نا کرتا۔ مگر  قدرتی طور ہر اُس کا سو جانا اُن دو مسائل میں سے ایک کے حل کا سبب بن گیا۔ اس مسئلے کا چار صفحات پر لکھا  ہوا حل آج بھی کولمبیا کی اُس یونیورسٹی میں موجود ہے۔

تیز دوڑنےسے متعلق  غلط ا عتقادات
آج سے پچاس سال پہلے تک دوڑنے کی مشق کے بارے میں ایک غلط عقیدہ پایا جاتا تھا کہ: کوئی بھی انسان چار منٹوں سے کم وقت میں دوڑ کر ایک میل کی مسافت طے نہیں کرسکتا۔ اگر کسی شخص نے ایسا کرنے کی کوشش بھی کی تو اُس کا دل پھٹ جائے گا۔
ایک کھلاڑی نے اس بارے میں پوچھ گچھ شروع کی کہ کیا اب تک  کسی نے چار منٹ سے کم میں یہ مسافت طے کرنے کی کوشش بھی کی ہے یا نہیں؟ یا کتنے ایسے لوگ ہیں جن کا دل ایسا کرنے سے پھٹ گیا ہو؟ مگر اس بات کا کوئی بھی ثبوت نہیں تھا اور ناہی کوئی اس بات کی حقیقت کو جانتا تھا کہ کسی  فرد واحد کا آج تک دل پھٹا بھی تھا یا نہیں!
اس کھلاڑی نے چار منٹ سے کم مدت میں ایک میل کا سفر کرنے کے لیے  کوشش شروع کی اور ایک دن اس میں کامیاب بھی ہو گیا۔ جب لوگوں نے اُس کے منہ سے ایسا سنا کہ وہ ایک میل کا سفر چار منٹ سے بھی کم وقت میں دوڑ کر طے کر سکتا ہے تو شروع شروع میں لوگوں نے اُسے پاگل اور جھوٹا سمجھا اور بعد میں یہ شک کیا کہ اُس کی گھڑی غلط ہوگی۔ لیکن بعد اُس شخص کے مسلسل اسرار پر لوگوں نے خود جا کر اُسے دیکھا کہ وہ واقعی ایک میل کی مسافت چار منٹ سے کم وقت میں دوڑ کر طے کر سکتا ہے، اس کے بعد صرف وہی ہی نہیں دنیا بھر سے 100 سے زیادہ لوگوں نے یہی کارنامہ سر انجام دے کر ایک ایسے عقیدے کو جھوٹا ثابت کیا جس کے ساتھ لوگ ازل سے جی رہے تھے۔ ان 100 سے زیادہ لوگوں نے یہ ثابت کیا کہ کوشش کا دروازہ کبھی بھی بند نہیں ہوتا۔
ایک اور واقعہ سنیئے:
کہتے ہیں کہ کسی  غذائی مواد  کو اسٹور اور فروخت کرنے والی  کمپنی  کے ایک کولڈ اسٹور میں،  وہاں کام کرنے والا ایک شخص اسٹور میں  موجود اسٹاک کے  معائنے  اورسامان کی  گنتی کے لیے  گیا۔وہ جیسے ہی کولڈ اسٹور میں  داخل ہوا تو پیچھے سے دروازہ بند ہوگیا۔ اس شخص نے شروع میں خود دروازہ کھولنے اور پھر بعد میں دروازہ پیٹ کر باہر سے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی مگر دونوں صورتوں میں ناکام رہا۔ بد قسمتی سے اس وقت ہفتے کے اختتامی لمحات  چل رہے تھے۔ اور اگلے دو دن ہفتہ وار چھٹیاں تھیں۔ اس شخص نے جان لیا کہ باہر کی دنیا سے رابطہ کا کوئی ذریعہ نہیں رہا اور نا ہی  وہ کسی کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکا ہے تو یقینی بات ہے کہ  اُس کی ہلاکت کا وقت آ چکا ہے۔  تھک ہار کر یہ شخص بیٹھ کر اپنے انجام کا انتظار کرنے لگ گیا۔ اور دو دن کے بعد جب یہ کولڈ اسٹور دوبارہ کھولا گیا تو واقعی یہ شخص مرا ہوا پایا گیا تھا۔
لوگوں نے اُس کے قریب ہی پڑے ہوئے کاغذات اٹھا کر دیکھے جن پر وہ شخص اپنے مرنے سے پہلے اپنے محسوسات لکھتا رہا تھا۔ کاغذوں پر لکھا ہوا تھا کہ۔۔۔۔(میں اس کولڈ اسٹور میں مکمل طور پر قید ہو چکا ہوں۔ ۔۔۔ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میرے آس پاس برف جمنا شروع ہو گئی ہے۔۔۔۔  میں سردی سے ٹھٹھر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ اب تو مجھے ایسا لگ  رہا ہے کہ میں حرکت بھی نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میں سردی سے مر ہی جاؤں گا۔۔۔۔) لکھائی ہر جملے کے ساتھ ضعیف سے ضعیف تر ہوتی گئی تھی یہاں تک کہ لکھنے کا سلسلہ ہی منقطع ہو گیا تھا۔
ان سب باتوں میں جو سب سے عجیب بات دیکھنے میں آئی تھی وہ یہ تھی کہ کولڈ اسٹور  میں کولنگ سسٹم کی تو بجلی ہی بند تھی اور وہ تو چل ہی نہیں رہا تھا۔
کیا خیال ہے آپ کا؟ کس نے قتل کیا تھا  اس شخص کو؟ جی ہاں، اس شخص کو اُس کے وہم نے مار ڈالا تھا۔  اُسے یقین تھا کہ کولڈا سٹور چل رہا ہے اور یہاں کا درجہ حرارت صفر سے بھی نیچے ہے جس سے ہر چیز جم جائے گی اور وہ مر جائے گا۔
اسی وجہ سے تو کہا جاتا ہے کہ منفی افکار اور عقائد سے بندھ کر اپنی زندگی کو کنٹرول کرنا ہی نا بند کر دیا جائے۔  ہزاروں لوگ ایسے  گزرے ہیں جنہیں اپنی ذات پر بھروسہ ہی نہیں تھا اور انہوں نے اپنے ہاتھوں میں آئے ہوئے کاموں اور موقعوں کو یہ سوچ کر چھوڑ دیا تھا کہ یہ کام اُن کے بس کا نہیں تھا ۔ جب کہ حقیقت میں معاملہ اس کے بالکل ہی بر عکس تھا۔
ہاتھی اور اُس کی رسی کا واقعہ:
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں جب  میں نے ایک چڑیا گھر میں ایک عظیم الجثہ ہاتھی کو ایک چھوٹی  سی رسی سے  اس کے اگلے پاؤں کو بندھا ہوا دیکھا تو مجھے بہت حیرت  ہوئی تھی۔ ہاتھی رسی کے ساتھ بندھے ہوئے کھڑا  تھا ایک محدود دائرے میں گھوم رہا تھا۔ ہاتھی کی ضخامت کے اعتبار سے تو اُسے کسی مضبوط زنجیر اور فولادی کڑے سے باندھا جانا چاہیئے تھا۔ مجھے یقین تھا کہ یہ ہاتھی کسی بھی لمحے اپنے پاؤں کی معمولی جنبش سے اس رسی کو توڑکر آزادی حاصل کر سکتا تھا مگر وہ ایسا نہیں کر رہا تھا۔
مجھے جیسے ہی ہاتھی کا رکھوالا نظر آیا تو میں نے اُسے اپنے پاس بلا کر پوچھا: یہ اتنا بڑا ہاتھی کس طرح ایک چھوٹی سی رسی سے بندھا ہوا کھڑا ہے اور یہ کیوں نہیں اپنے آپ کو چھڑوا کر بھاگ جاتا؟
ہاتھی کے رکھوالے نے مجھے بتایا کہ: اس طرح کے بڑے جانور جب پیدا ہوتے ہیں تو یقینی بات ہے کہ اس سے کہیں چھوٹے ہوتے ہیں۔ ہم ان کو باندھنے کے لیے اس قسم کی چھوٹی سی رسی ہی استعمال کرتے ہیں۔اس قسم کی چھوٹی سی رسی اس وقت اُن کی عمر اور جسم کے لحاظ سے باندھنے کیلئے کافی ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ جانور تو بڑے ہوتے رہتے ہیں مگر ان کی سوچ وہی رہتی ہے کہ  ابھی بھی وہ اس رسی کو نہیں توڑ سکتے۔
 یہ جان کر مجھے بہت حیرت ہو رہی تھی کہ اتنے بڑے جانور جو اپنی طاقت سے بڑی بڑی وزنی چیزوں کو اٹھا کر ادھر ادھر کر سکتے ہیں۔ مگر  ان کا  دماغ  اسی پرانی سوچ سے بندھا رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ اس رسی کی قید سے کبھی بھی نجات نہیں پا سکتے۔
بعض اوقات ہماری مثال بھی تو بالکل ایسی ہی ہوتی ہے ۔ یہی سوچ کر کہ ہم کچھ نہیں کر پائیں گے یا کچھ کیا تو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا یا یہ کام ہمارے بس اور ہمارے روگ کا ہی نہیں جیسی سوچ کی وجہ سے ہم قناعت کے ساتھ ایک  لگے بندھے مفاد کے ساتھ چپکے رہتے ہیں ۔ اسی سوچ کی وجہ سے ہم اپنی ذات، مفاد اور رہن سہن میں بھی کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے۔
کوشش کرکے نئے وسائل اور نئے راستوں کو اپنائیےاور اپنی زندگی میں  مثبت  طریقے سے اور مثبت تبدیلیاں لا کر  بہتری کی طرف قدم بڑھائیے۔ ہمارے ماحول اور معاشرے میں تو کئی ایسے جھوٹے اعتقادات اور وہمی افکار موجود ہیں جو ہمیں کامیابی کی طرف قدم ہی نہیں اُٹھانے دیتے، کامیابی تو اس کے بعد کا مرحلہ ہے۔ ہمارا واسطہ اکثر -یہ تو ناممکن ہے-،  -یہ تو بہت مشکل کام ہے-،  -یہ تو مجھ سے نہیں ہو پائے گا- وغیرہ جیسے کلمات سے سے پڑتا ہے۔ یقین جانیئے یہ سب کچھ جھوٹ اور بنی ہوئی باتیں ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ پر عزم ، بلند حوصلے اور اللہ پر توکل رکھنے والا انسان ان سب کہاوتوں  کا  انکار کرتے ہوئے ان  رکاوٹوں کو عبور کر لیا کرتا ہے۔
تو پھر آپ ان جھوٹے افکار و عقائد کے خلاف ایک آہنی ارادے کے ساتھ کیوں نہیں اُٹھ کھڑے ہوتے؟ ایک پختہ عزم اور پکے ارادے کے ساتھ اور  کامیابی کے راستے پر گامزن ہونے کیلئے؟
مضمون نگار :  محمد سلیم صاحب ۔(عرف حاجی صاحب)
ادارہ’’سنپ‘‘ مصنف  کا ہمہ تن مشکور و ممنون ہے۔یاد آوری جاری رکھنے کی التماس۔[شکریہ]

1 : : : ----- ((( تبصرے جات ))):

سید محسن علی said...

محمد سلیم صاھب نے تو کمال کر دیا ۔

بجھے دلوں کو امید سحر ہو گی اس تحریر سے۔

محترم سلیم صاحب کی اس تحریر نے آپ کے بلاگ میں چار چاند لگا دیا ۔

دیگر تحاریر کو بھی اپنے بلاگ میں جگہ دیں ۔

Post a Comment

خوش آمدید