میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"

Saturday, December 17, 2011

”نیٹوکا حملہ“ اور پاکستان کا مستقبل

فوج پر نیٹو کے حالیہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر ایک فکر انگیز تحریر
 ایک ایسی قوم جس کی پوری تاریخ عہد شکنی، خیانت، بے وفائی، خود غرضی اور ہوس جیسی صفاتِ رذیلہ سے بھری پڑی ہو،جس کے اجداد مغرب بھر کے جرائم پیشہ افراد، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملعون ٹھہرائے گئے یہود اور اندلس کے مسلمانوں کے دین، نفس و مال کوتاراج کرنے والے عیسائی ہوں، جس کی ٹپکتی رال میں لاکھ ہا سرخ ہندیوں اور افریقیوں کے خون کی سرخی عیاں ہو، صومالیہ ، یمن، افغانستان، عراق جہاں نظر دوڑائی جائے، کروڑہا انسان جس کے ظلم کو آج تک سہہ رہے ہوں، دنیا بھر کے قحط زدہ علاقے جس کی خود غرضی اور ہوس پرستی پر گواہ ہوں،جس کی معلوم تاریخ میں کوئی ایک بھی واقعہ اسکے خیر پر گواہی نہ دے پا رہا ہو،اس پر کوئی اعتماد کرے اور اس سے خیر کی توقع رکھے  تو کیونکر؟
اس کے فرنٹ لائن اتحادی بن کر دس سال خدمت کرنے والے اگر آج مہمندمیں اس کے ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ اور اپنے چھبیس فوجیوں کی ہلاکت پر کچھ نالاں ہیں تو انہیں چاہیے کہ چار دہائیاں پیچھے جائیں۔ وہاں انہیں ایک کردار ملے گا، جنوبی ویت نام کا، جس نے اِن ہی کی طرح فرنٹ لائن اتحادی بن کر پورے پندرہ سال اس دیویپر اپنے اڑھائی لاکھ فوجیوں اور اس سے کئی گنا زیادہ عوام کو قربان کیا۔ جنگ تو اپنے اپنے نظام کو دنیا بھرمیں مسلط کرنے کے لیے اِس امریکا اور روس کے درمیان تھی لیکن اس کا ایندھن تیسرا فریق بنااور نظام بھی ایسے بودے کہ ایک تو بیس سال قبل ہی خاک نشین مجاہدین کے ہاتھوں مٹی میں رُل گیا اور دوسرا بھی انہی بندگانِ خدا کےہاتھوں ڈوبا ہی چاہتا ہے۔ بہرحال اس پندرہ سال کے عرصے میں جنوبی ویت نام کی حکومت نے امریکا کو رب مانتے ہوئے اپنی زمین، اپنی فوج، اپنی عوام غرض ہر شے امریکا پر لُٹا دی۔بدلے میں جنوبی ویت نام کے حکمران اور جرنیل کیا چاہتے تھے؟ محض اپنی بقا، اپنے مفادات کا تحفظ، کیوں کہ باقی تو ہر چیز اس جنگ نے تباہ کر دی تھی۔عوام کے لیے کچھ تھا تو امریکی امداد، امریکی فوج کی بڑی تعداد میں خطے میں موجودگی کی وجہ سے چند نوکریاں،اور امریکہ کی جنگ لڑنے کے لیے فوج میں ملازمت۔تیرہ سالہ جنگ کی ہولناکی ایک طرف لیکن عبرت ناک منظر تو اس وقت شروع ہوا جب امریکہ نے اپنے اٹھاون ہزار فوجیوں کے تابوت اٹھا لینے کے بعد واپسی کا فیصلہ کر لیااور شمالی ویت نام سے مذاکرات کی راہ تلاشی جانے لگی۔
جنوبی ویت نام کے لیے بہت بڑا سوال پیدا ہوا، کہ امریکہ کے جانے کے بعد ہمارا کیا بنے گا؟ شمالی ویت نام، جو پندرہ سال براہِ راست امریکی قوت کے سامنے کھڑا رہا، وہ امریکہ کے جانے کے بعد ہمارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ ہماری مدد کو کون آئے گا؟ ہماری معیشت کو کس طرح سہارا ملے گا؟ انفراسٹرکچر پھر سے کیسے کھڑا کیا جائے گا؟ غرض تحفظات کا سیلاب تھا لیکن اس پر بند باندھنے کے لیے امریکی یقین دہانیوں کے علاوہ کچھ نہ ملا۔ امریکا نے شمالی ویت نام سے معاہدہ کرتے ہوئے یہ شِق شامل تو کی کہ جنوبی ویت نام پر حملہ نہیں کیا جائے گا اور اگر ایسا ہوا تو امریکا پھر سے مداخلت کا حق رکھتا ہے اور ساتھ ہی جنوبی ویت نام کے لیے امدادی پیکج کا اعلان بھی ہوگیا لیکن فوجوں کے انخلا کے کچھ ہی عرصے بعد امریکی ایوان نے ان دونوں پرقدغن لگا دی۔ اب منظر یہ تھا کہ ایک طرف شمالی ویت نام چڑھ دوڑنے کو تھا اور دوسری طرف جنوبی ویت نام میں مہنگائی، بے روزگاری انتہا کو پہنچی ہوئی تھی، حکمران اور جرنیل کرپشن میں مصروف تھے کیونکہ پچھلے پندرہ برسوں سے وہ یہی تو کرتے آرہے تھے،فوج اور دفاتر میں سرکاری اموال کی لوٹ مار کا بازار گرم تھا اور عوام پٹرول اور خوراک کے لیے سڑکوں پر خوار ہو رہے تھے۔ پھر جیسے ہی شمالی ویت نام کے حملے کا آغاز ہوا، قریب کھڑے امریکی بحری بیڑوں سے کوئی بھی جہاز ان کی مدد کو نہ آیا۔جنوبی ویت نام کی افواج دنوں میں پسپا ہوتی چلی گئیں۔ سمندر کی طرف  بھاگتے ہوئے ان فوجیوں کو بچانے تک کے لیے کوئی امریکی کشتی نہ پہنچی اور بیشتر تو سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ ان کا صدر مستعفی ہو کر تائیوان بھاگ گیا اور جب جنوبی ویت نام کا صدر مقام سائیگان بھی نگوں ہونے لگا تو امریکا نے اپنے سفارت خانے کے عملے اور امریکی شہریوں کے انخلا کے لیے آپریشن ریسکیو کا اعلان کیا۔ہیلی کاپٹر سیدھے امریکی ایمبیسی میں اترے جس کے گرد امریکی میرینز کھڑے کر دئیے گئے تاکہ ایمبیسی کے باہر کھڑے ویت نامی، جو پوری جنگ میں امریکا سے بڑھ کر امریکا کے لیے لڑتے رہےاور آج التجا کر رہے تھے کہ امریکی ہیلی کاپٹر انہیں بھی ساتھ لے جائیں،  اندر داخل نہ ہو سکیں۔ وہ چند جنوبی ویت نامی جنہیں امریکی ہیلی کاپٹروں نے اپنے ساتھ اٹھا لیا وہ بھی نہ تو عوام تھے، اور نہ ہی فوج کے عام افسران۔ وہ بڑے جرنیلوں اور وزیروں پر مشتمل وہی مقتدر طبقہ تھا جو جنگ کے دوران بھی صرف اپنی ہوس پوری کر رہا تھا۔
کوئی وحی سے ہدایت نہیں پکڑتا تو تاریخ ہی کو دیکھ لے____ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ سینوں میں موجود دل اندھے ہو جاتے ہیں۔حکمران طبقے اور جرنیلوں سے تو اب بھی کوئی امید نہیں لیکن مہمند میں ہونی والی حالیہ شیلنگ سے کم از کم ان فوجیوں کو تو ضرور خبردار ہو جانا چاہیے جو صرف تنخواہ کی خاطر دس سالوں سے غیروں، بلکہ درست کہا جائے تو شیطان کی خدمت انجام دے رہے ہیں اور وہ بھی کس کے خلاف؟ ان مہاجرین مجاہدین کے خلاف جو اسلام اور مسلمانوں کی خاطر اپنے گھر بار چھوڑ کر نبیﷺ کی بشارت کی سرزمین خراسان میں آبسے ہیں۔
 انہیں چاہیے کہ وہ اس خدمت سے دست کش ہو کر اللہ کے لشکر میں آشامل ہوں اور اس ملک میں اسلامی شریعت کے لیے جاری جہاد کا دست و بازو بن جائیں۔ صرف پیٹ بھرنے کے لیے اپنے بچوں کو فوج میں بھرتی کروانے اور پھر ان کے لاشے وصول کرنے والے والدین کو چاہیے کہ رزق کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کریں۔ بیشک اللہ تعالیٰ انہیں وہاں سے رزق دے گا جہاں سے ان کا گمان بھی نہ ہوگا۔
 فہم رکھنے والے دین دار حضرات کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی غم خواری کریں اور انہیں آنے والے حالات کے لیے تیار کریں، ان فوجیوں کو سمجھائیں جو اپنی جنگ کے مقصد تک سے ناواقف ہیں، کہ ان کی یہ جنگ انہیں دنیا و آخرت میں گھاٹے کے سِوا کچھ نہیں دے سکتی۔علما ءِامت کو چاہیے کو وہ پستی میں ڈوبی امت پر احسان کرتے ہوئے ان کی درست جانب رہنمائی کریں اور امت کی قیادت کا منصب پھر سے آ سنبھالیں۔
امریکہ اس خطے سے بھی جانے کو ہے___ ان شاء اللہ_____ لیکن جنوبی ویت نام جیسے حالات اور اس فتنہ و فساد سے بچنے کے لیے جو امریکہ جیسا شیطان ہر اس خطے میں پھیلاتاہے جہاں سے اسےمسلمانوں کی بیداری اور شریعت کے نفاذ کا خطرہ ہو، مساجد کی بنیاد پر اپنی صفوں کو منظم کرنا اور شریعت کے نفاذ کو اپنی جدّو جہد کا مقصد بنانا  نہایت ضروری ہے۔
فوج پر نیٹو کے حالیہ حملے کےبعد
_____ عوامی بھڑاس   _____




بشکریہ:  طاہر رضا ۔(موصولہ از ای میل : tahir.razza@gmail.com)
ادارہ’’سنپ‘‘ موصوف کا ہمہ تن مشکور و ممنون ہے۔
یاد آوری جاری رکھنے کی التماس۔[شکریہ]

1 : : : ----- ((( تبصرے جات ))):

نورمحمد said...

شیر کی ایک دن کی زندگی ، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔

اتحاد ختم کرکے مردانگی کا ثبوت دینا چاہیے۔

ایک دردمند پاکستانی
نورمحمد

Post a Comment

خوش آمدید