میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"
عظیم
ہندوستانی بلے باز“سچن
رمیش ٹنڈولکر” نے1989 میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ کا
آغاز کیا تاہم شاید بہت ہی کم لوگ اس بات سے
واقف ہوں کہ انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ اس سے دو سال قبل ہی کھیل لی تھی۔
لیکن
حیران کن بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنا پہلا
میچ اپنے ملک ہندوستان کے لیے نہیں بلکہ ہندوستان
کے خلاف پاکستان کی طرف سے کھیلا تھا ۔
مکمل تحریر >>>
صومالیہ کے مشہور شہر موغادیشو
کے ایک پرائمری اسکول میں اساتذہ اور کلرک بڑے تعجب اور حیرت سے اس کی خوبصورت
آواز میں نغمے سن رہے تھے۔ "غضب کی آواز ہے"ایک نے کہا۔ ہیڈ ماسٹر نے
کہا: "اتنی خوبصورت آواز میں نے کبھی نہیں سنی۔ اس کے پا س لحن داؤدی
ہے"
مکمل تحریر >>>
14 فروری کو دُنیا بھر کی طرح ہمارے یہاں بھی پیر ویلن ٹائن علیہ ماعلیہ کا
عرس سراپا قدس بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ سچ پوچھیے تو صرف ہمارے یہاں سب سے
زیادہ دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ لہٰذا ہم اس کالم کے ذریعے سے اپنے یہاں اِس
عرس شریف کے دُنیا بھر سے زیادہ کامیاب انعقاد پر اپنی پوری قوم کو تہِ دل سے
مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ ’ایں کار از تو آئد و مرداں چنیں کنند‘… بلکہ… ’زناں بھی
چناں کنند‘۔
مکمل تحریر >>>
پی پی پلے بوائے گروپ کے
خوبرو جیالے جوان بلاول زرداری نے کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کو مبارکباد کا
پیغام دیتے ہوئے جب اس صلیبانہ خواہش کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان میں بھی
ایک عیسائی وزیر اعظم دیکھنے کے خواہاں ہیں، تو ایسا گمان ہوا کہ گویا ان میں مصری
آمر جنرل عبدالفتاح السیسی اور باراک اوبامہ کی زندہ روحیں حلوت کر چکی ہیں۔
مکمل تحریر >>>
بہت کم لوگ اس تلخ حقیقت سے واقف ہوں گے کہ پاکستان
کا پہلا صدر مملکت بنایا جانے والا شخص اسکندر مرزا ،اسی بدنام زمانہ ننگ ملت، ننگ
ادم، ننگ دین، غدار میر جعفر کا پڑپوتا تھا ،جس نے قوم و ملت کے سپاہی شیر بنگال
نواب سراج الدولہ سے غداری کر کے انگزیز آقاؤں کی جیت کا راستہ ہموار کیا تھا۔
گورے آقاؤں نے چن چن کر ایسے”با صلاحیت کرداروں ” کو اہم عہدے دلوائے جن میں ان کی
فرمانبرداری اور ملک و ملت سےغداری کے سارے جراثیم موجود ہوں۔
مکمل تحریر >>>
بین الاقوامی شہرت پانے والی ”ملالہ یوسفزئی“ کو امن
کا نوبل ایوارڈ تو نہ مل سکا لیکن ایک
مقامی ویب سائٹ نے ”ملالہ ڈرامہ “ کا بین الاقوامی راز فاش کردیا ۔ ویب سائٹ کی
تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملالہ کا قصہ ”پاکستانی
اور امریکی ایجنسیوں کا تیار کردہ ڈرامہ” تھا ، اس پر حملہ بھی جعلی تھا ۔
مکمل تحریر >>>
یونانیوں کا ’’نیلس‘‘ اور سامیوں کا ’’نہل‘‘ اب دریائے نیل ہے، جس کے نیلگوں پانیوں
میں تلاطم بپا ہے۔ یہ عیسوی تقویم سے بھی 415 سال پہلے کی بات ہے، یونان کے حکمران خاندان کے خلاف انقلاب بپا کرنے
کی کوشش میں ناکامی کے بعد ملک بدر ہونے والا ہیروڈوٹس پھر دنیا بھر کی سیاحت پر
نکل کھڑا ہوا۔ وہی اب علم کی دنیا میں تاریخ نویسی کا بانی کہلاتا ہے۔ اُسی نے
دریائے نیل کو ’’مصر کا تحفہ‘‘ کہا تھا۔ دریائے نیل نے انقلابات ِ زمانہ کے کتنے
ہی مدوجزر دیکھے اور دکھلائے ہیں۔ اب وہ ایک اور طوفان کا سامنا کررہا ہے۔
مکمل تحریر >>>
بنگلہ دیش کی
بھارت نواز شیخ حسینہ حکومت کے طرزِ عمل سے، عوام کے ذہن میں،بہت بڑا یہ سوال پیدا
ہوگیاہے کہ کیا اس نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت،ضعیف العمر عوامی راہنما پروفیسر
غلام اعظم پر مقدمہ چلائے بغیر،ان کی زندگی ختم کرنے کا پروگرام بنالیاہے؟کیونکہ
شواہدبتاتے ہیں کہ ۱۱جنوری ۲۰۱۲ء کو گرفتار ہونے کے بعد سے پروفیسر غلام اعظم کے
ساتھ جو سلوک کیا جارہاہے وہ نہ صرف غیر قانونی، غیر انسانی اورغیر اخلاقی ہے بلکہ
یہ سراسر ظالمانہ ہے۔
مکمل تحریر >>>
مصر میں آخروہی ہوا، جس کا
خدشہ اسی دن سے ظاہر کیا جارہاتھا جس دن ڈاکٹر محمد مرسی نے اقتدار سنبھالا تھا
۔لوگ سوال کررہے ہیں کہ ایسی کون سی قیامت آگئی تھی کہ صرف ایک سال کی مدت میں
مصری فوج کو منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کرنا پڑی اور حکومت کا تختہ الٹنا پڑا ؟؟؟؟
مکمل تحریر >>>
صدر مرسی نے طویل
آمریت سے نومولود ”مصر“میں اپنی یک سالہ تاریخی جدوجہد میں بے پناہ کامیاب
پالیسیوں کے نتیجے میں معاشی ماہرین اور اپنوں و غیروں کو شسدرکردیا ۔انہی
کامیابیوں نے یہودی و عیسائی سامراج کی راتوں کی نیندیں اڑا دیں ۔یہودی سامراج نے
انقرہ کے بعد قاہرہ بھی اپنے ہاتھوں سے نکلتا دیکھ کر اپنی گٹھیوں میں شامل سازشی
عناصر کو ایک بار پھر اسلامی سلطنت کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے لیےمصری میر جعفر اور میر صادق کے کندھوں پر کمان رکھ
کر تیر چلاکر تماش بین بننے کا کامیاب مظاہرہ کردیا ۔دردِ دل رکھنے والے یاد رکھیں
سامراج کی یہ وقتی کامیابی سمندر کی جھاگ کی مانند ہے ۔
مکمل تحریر >>>