میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"

Tuesday, April 26, 2011

آبلہ پا (آپ بیتی)۔

سکینہ معمولات ِ روزانہ کی بجاآوری میں تندہی سے منہمک تھی اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ آج کا یہ سورج اس کی زندگی میں کیا کیا لرزاں خیزیاں لیے آدھمکا ہے ۔
سکینہ کے شوہرِ نامدار کو بیرونِ ملک گئے ہوئے آج دوسرا ہی دن تھا ۔سکینہ کے تمام لالچی اور عیار سسرالی رشتہ داروں نے بھولی بھالی اور انجان سکینہ کے خلاف ایک مکارانہ سازش کا جال بُن لیا تھا۔اس سازش کا جال بھی انہوں نے لاہور میں سکینہ کے ہی گھر میں رچا تھا ،سکینہ کا آبائی گاؤں سیالکوٹ میں تھا۔
سازش کے تحت سکینہ کے دیور نے اپنی ماں اور بہن کے ذریعے سکینہ کو اس کے چھ بچوں سمیت کسی بھی بہانے گھر سے نکالنے اور اس کے گھر پر قبضہ کر نے کا سازش ترتیب دیا تھا ۔سسرالی رشتہ دار اس زعم میں پھو لے پھولے سے ہوئے جارہے تھے کہ ان سازشوں کا پردہ فی الفور اگر چاک بھی ہو جائے تو پھر بھی سکینہ سے محبت کرنے والا اس کا شوہر اس کی مدد کو باہر سے نہیں آ سکتا اور نہ ہی گاؤں سے اس کی بوڑھی ماں آسکے گی ۔
سکینہ ظہرانے کی تیاری سے فراغت کے بعد اپنی ساس کو کھانے پر مدعو کر نے کے لیے مہمان خانے میں گئی تو پلان کے مطابق اس کی نند نے مو قع جان کر سالن میں بھرپور نمک کا اضافہ کر دیا تا کہ پلان کے دوسرے حصہ پر عمل در آمد کا سرا مل سکے ۔
پلان کے مطابق سانس نے لقمہ منہ میں میں رکھتے ہی تھو تھو کرتے جلدی سے باہر اُگل دیا اورلعن طعن کے ذریعے سکینہ کی درگت بنانی شروع کر دی ۔بات سے بات نکالتے نوبت یہاں تک پہنچا دی کہ سکینہ کو اس کے بچوں سمیت ان  کے اپنے ہی گھر سے نکال با ہر کر دیا ۔
سکینہ سرا سیمگی کی حالت میں بے آسرا کھڑی اپنے روتے بلکتے بچوں کو دلاسوں سے خاموش کر وارہی تھی اور حال یہ ہے کہ چشم ِ آپ ہے کہ بر کھا ساون کی طرح مسلسل بہہ رہی ہے ، پر حالت کی نزاکت کا یہ عالم ہے کہ بچوں کی خاطر خود کو سنبھالا دیے ہوئے ہے۔
ساس و دیگر کا یہ ظلم و ستم آج کی کوئی نئی بات نہ تھی بلکہ اس کا محرک تو سسر کی وفات سے ہی شروع ہو چکا تھا ،آج کا یہ ظلم و ستم اپنی حدوں کو چھو چکا تھا ۔سکینہ کے دل میں متعدد خیالات نے آگھیرا تھا ،ایک بار تو اس نے  دل میں  یہ تہیہ کر لیا تھا کہ کسی گاڑی کے نیچے آکر اپنی اور بچوں کی غُلو خلاصی کر لےگی  اور مستقبل کے انجانے نشیب و فرا ز سے چھٹکارا حاصل کرلے مگر حکم خداوندی کی حکم عدولی کی جرأت نہ ہو سکی ۔
سکینہ نے صبر اور استقامت سے اپنے دل میں ایک مصمم ارادہ کیا اور اس کی انجام دہی کے لیے کمر بستہ ہو گئی ۔اپنے معصوم بچوں کو ساتھ لیے پیادہ اپنے آبائی گاؤں سیالکوٹ کی طرف عازم سفر ہوئی ۔ان کے پاس تن کے کپڑوں کے علاوہ کوئی چیز بھی نہ تھی ۔ اسی لیے یہ معصوم و مظلوم خاندان بھوکا پیاسا طویل سنسان سڑک پر چل پڑا ،راستے بھر بچوں کا دل بہلانے کے لیے انہیں مختلف اسلامی کہانیاں سناتی جاتی تھیں تاآنکہ رات کی سیاہی آن کھڑی ہوئی ،انسانی شکل میں درندوں سے بچنے کے لیے رات قبرستان میں گزارنے کی ٹھانی ، بچوں کے دلوں میں جن بھوت کا خوف انہیں اندر جانے سے روک رہا تھا ، ماں کی تسلیوں پر بچوں کو یقین آگیا اور وہ راضی ہو گئے اور وہ کیوں راضی نہ ہو تے ان کی ماں ہی ان کی واحد محسن تھیں ۔سکینہ نے بچوں کا دل رکھنے کے لیے کہا کہ جن وغیرہ برے لوگوں کو تنگ کرتے ہیں اگر پھر بھی کوئی جن وغیرہ انہیں تنگ کرے تو کلمہ پڑھ لینا وہ ڈر کر بھاگ جائے گا ،بچےمطمئن ہو کر ماں کے پیچھے پیچھے ہو لیے ۔۔۔سکینہ نے اپنے سر کی بڑی سی چادر کو زمین پر بچھا کر سب بچوں کو سلا دیا اور خود فلک کو اپنی چادر بنا کر اللہ کے حضور ثابت قدمی ، مدد و نصرت کی التماس کے ساتھ ساتھ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔اس حالت میں اس کے دل کا بوجھ اتر گیا اور وہ ہلکان محسوس کرنے لگی اورصبح کے ساتھ ساتھ اس کے من میں  زندگی کی رمق بھی جاگ اٹھی ۔
علی الصبح اس نے اپنے بچوں کو بیدار کیا اور پھر سے اپنے سفر پر نکل کھڑی ہوئی ۔کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد ان کی منزل قریب آچکی تھی وہ سیالکوٹ کی حدود میں داخل ہو چکے تھے ۔۔۔جیسے ہی ان کا قافلہ بے یار و مددگار اپنے گاؤں پہنچا ، اہل گاؤں ان کو ایسی حالت میں دیکھ کر متعجب ہوئے ،اور فورا ً انہیں ان کے گھر تک پہنچا دیا ۔سکینہ اپنی ماں کے گلے لگ کر خوب پھوٹ پھوٹ کر روئی اور نانی نے اپنے نواسے نواسیوں کو بھی اپنے گلے لگا کر خوب پیا ر کیا ۔
سکینہ نے اپنا تمام ماجرا اپنی ماں کے گوش گزار کر دیا ۔سکینہ کی ماں نے اسے حوصلہ دیا اور کہا کہ :’’ سوائے اللہ کی ذات کے کسی اور میں کوئی طاقت نہیں کہ وہ کسی کو بر باد کر سکے ، بس تم صبر کرو اللہ بڑا کار ساز ہے ۔‘‘
سات ماہ بعد سکینہ کا شوہر پاکستان واپس آیا تو اس کی ماں نے اسے سکینہ کے خلاف خوب بھڑکایا اور کہا کہ وہ اپنا سب کچھ لے کر گھر چھو ڑ کر چلی گئی ہے ، مگر سکینہ کے شوہر کو ذرہ برابر بھی یقین نہیں آیا ۔اک روز اس کے پڑوسی اس سے رستے میں ملے اور اسے اصل صورتحال سے آگاہ کیا ۔آگاہی کیا تھی کہ اس کے شوہر کے پاؤں تلے سے زمین سِرک گئی اور وہ فوراً سے بھی پہلے سکینہ کے گاؤں پہنچا وہاں اپنے بیوی بچوں کو صحیح سلامت دیکھ کر اُس کے جان میں جان آئی اور وہ فوراً سجدہ ریز ہو گیا ۔
سکینہ کو اچھے مستقبل کا عندیہ دیکر اس کا شوہر واپس پر دیس چلا گیا تاکہ وہ کچھ کما کر لا ئے اور سکینہ اور اپنے بچوں کی لائف بنا سکے ۔اسی اثناء میں سکینہ کے شوہرکی واپسی دو ماہ بعد ہوئی ،اس نے سکینہ کو گھر لے کر دیا اور پھر تاحال اپنی پوری زندگی اپنی شریک حیات اور بچوں کے ساتھ گزاردی اور سکینہ کے جیتے جی مزید کسی بھی غمناک مرحلے کو اس کے آس پاس بھی آنے نہ دیا ۔۔۔ 
سچ ہے انسانی زندگی میں کبھی کبھی ایسے واقعات رونما ہو جاتے ہیں جن سے ہمت بالکل لرزاں لرزاں ہو جاتی ہے یا پھر زندگی کو جینے کا ایک اور بہانا مل جاتا ہے ۔
دوستو!!! یہ جرأت مند عورت ’’میری ماں ‘‘تھیں جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں ۔انہوں نے سکینہ بنت علی ؓ کی سنت کو اپنا یااور اپنے عمل سے ان کے نام کی شان مزید بڑھادی ۔
ایک بے یارو مدد گار اور بے آسرا عورت اگر اپنی زندگی کا اتنا مشکل مر حلہ اتنی جانبازی سے پار کرسکتی ہے تو ہم سب کیوں نہیں ، مجھے اپنی زندگی میں جب کبھی بھی کسی مشکل کا سامنا ہوتا ہے تو میں اپنی ’’امی جان ‘‘کو یاد کرتی ہوں تو میرا حوصلہ بڑھ جاتا ہے اور مجھ میں اس مشکل سے ثابت قدمی کے ساتھ نکلنے کا عزم و حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے ۔
امید ہے کہ میری یہ آپ بیتی آپ سب کے لیے ایک حوصلے کا پیغام ہو گا اگر یہ آپ بیتی آپکی زندگی میں کوئی اثر پیدا کرے تو ’’میری امی جان ‘‘ کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد کیجیے گا۔
 شُکریہ
مضمون نگار :  سلطانہ مصطفےٰ ۔ایم اے (سیالکوٹ)
ادارہ’’سنپ‘‘ صاحبہ مضمون کا ہمہ تن مشکور و ممنون ہے۔یاد آوری جاری رکھنے کی التماس۔[شکریہ]

1 : : : ----- ((( تبصرے جات ))):

سید محسن علی said...

عورت کو دنیا میں صنف نازک کا نام دیا جاتا ہے۔
میرا خیال ہے کہ
یہ زیادتی ہے۔
”جتنا زیادہ دنیا میں عورتیں تگ و دو کرتی ہیں اتنا مردوں کے نصیب میں نہیں ۔“

Post a Comment

خوش آمدید