میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"

Wednesday, April 27, 2011

سوانح عمری(پاکستان)

میرا نام’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ ہے۔میرے ماں باپ کی شادی 23 مارچ 1940 کو لاہور کے ایک کھلے میدان میں ہوئی جس کا نام اب ’’مینار پاکستان‘‘ ہے۔ مجھے پیدا ہوتے سات سال لگ گئے اور میں 14 اگست 1947 کو پیدا ہوا۔ ایک سال کا تھا کہ ماں’’جمہوريت‘‘ فوت ہو گئی  اور اس کے بعد باپ ’’دین اسلام‘‘ چھوڑ کر کہيں چلا گيا۔ اس کے بعد ميرے گھر کے پہلے سربراہ کوگھر والوں کے سامنے ايک ايسی سازش کے تحت قتل کرديا گیا جس کا آج تک سراغ نہيں ملا۔  پھر اپنے خود غرض رشتہ داروں کے گھر بچپن گزارا اور لڑکپن آرمی کی بیرکوں میں۔
 جنرل ایوب کے گھر میں بیمار ہوا اور جنرل یحییٰ کے اسپتال میں داخل ہوا  جہاں سرجن ذوالفقار علی بھٹو اور ڈاکٹر مجیب الرّحمٰن نے میرا ایک بازو کاٹ دیا۔ لیکن مجھے معذور کرنے والوں کا عبرتناک انجام تاريخ ميں رقم ہوگيا۔ جنرل یحییٰ گمنامی ميں ہی رخصت ہوگيا۔ سرجن ذوالفقار علی بھٹو ايک جلاد تارا مسيح کے ہاتھوں پھانسی چڑھ گيا اور ڈاکٹر شيخ مجيب الرحمٰن کو انہی  کے لوگوں نے خاندان کے بيشتر افراد سميت واصل جہنم کرديا۔
اس کے بعد سےاب تک میں معذور، اپاہج اور فقیر بن کر ایک ہاتھ سے جگہ جگہ بھیک مانگ رہا ہوں۔ پچیس سال کی عمر میں جمہوریّت نصیب ہوئی جس کا سربراہ ملک کا پہلا سول چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھا۔ مگر چند سال کے بعد پھر جنرل ضیا الحق نے مجھے فوجی بیرک میں منتقل کر دیا۔ اس نے اسلام کے نام پر مجھے استعمال کیا اور امریکہ کے کہنے پر افغانستان میں روس کے خلاف نبرد آزما ہو گیا۔ اس جنگ نے کلاشنکوف کلچر کو متعارف کرایا۔ ايک نسلی تنظيم ’’ايم کيو ايم‘‘  کی   بنیاد رکھی۔ جب روس امریکہ کے اسٹنگر میزائلوں سے ڈر کر بھاگ گیا تو پھر امریکہ کو جنرل ضیا ءکی ضرورت نہ رہی اور اسے چلتا کر دیا گیا کیونکہ نام نہاد دوست ’’امریکا‘‘ ہمیشہ ایسا ہی کرتا ہے۔
پھر ڈھلتی جوانی میں دو چار جمہوریت کے ناکام تجربے کیے گئے جن کے دوران مجھے  جی بھر کر سياست دانوں نے لوٹا۔ اس لوٹ مار ميں کچھ مال ان کی  جيبوں ميں چلا گيا اور کچھ عالمی  بینک اور آئی ايم ايف نے لوٹ ليا۔ ڈاکو نواز شریف، پارٹی بینظیر اور آصف زرداری باری باری مجھے لوٹتے رہے۔ ان کی اس ہوس کا وہی انجام ہوا جو لٹیروں کا ہوتا ہے یعنی انہیں ملک بدر ہونا پڑا۔
میں1999 سے فوجی بیرک میں آٹھ سال تک مقیم رہا اور حکومت کے بيرونی آقاؤں کے رحم و کرم پر بھی۔ اس دوران مجھ پر روشن خيالی، اعتدال پسندی کے تجربے کیے جاتے رہے۔ تعلیمی نصاب بدلا گیا۔ مسلمانوں کے اندر سے جہاد کا جذبہ ختم کرنے کی کوششيں جاری رہیں۔ منافع بخش صنعتيں غيرملکی اداروں کو بیچی گئیں جس کی وجہ سے ايسٹ انڈيا کمپنی کے دور کو واپس لانے کی بھرپور کوششيں کی گئی۔ ملک کا زرمبادلہ جو نو گيارہ کی بدولت ريکارڈ حدوں کو چھو رہا تھا عام پبلک کے لیے کوئی خوشی نہ لاسکا۔تعلیم جو ملکی ترقی ميں ريڑھ کی ہڈی  ہوتی ہے پر کوئی توجہ نہ دی گئی۔ پہلی حکومتوں کی طرح اس حکومت نے بھی  درآمدات پر ہر بجٹ ميں ڈيوٹياں کم کر کے مقامی صنعت کا  بيڑہ غرق کردیا۔
بھلا ہو فوجی جرنیل کے کم عقل مشيروں کا جنہوں نے جنرل کو چیف جسٹس کے بحران کے کارگل میں دھکیل دیا جس کی وجہ سے جنرل کو وردی اتارنی پڑی اور اسے شفاف انتخابات کرانے پڑے۔ اب میں پھر سے جمہوری دور کا مزہ چکھنے لگا ہوں۔  ریٹائرڈ جنرل سیاسی پارٹیوں کے دباؤ پراور اپنے احتساب کے خوف سے ٹی وی تقریر کرکے صدارت چھوڑ کر گھر بیٹھ چکا ہے۔
یہ 2011 ہے اور اب حالات بدل رہے ہیں۔ غیرملکی آقا کھل کر میرے معاملات میں مداخلت کرنے لگے ہیں اور مجھے ظاہری طور پر غلامی کی زنجیریں پہنا رہے ہیں۔ میرے جمہوری مالکوں کے بس میں بھی نہیں رہا کہ وہ ان غیرملکی آقاؤں کی سازشوں سے بچ کر مجھے ترقی یافتہ ملک بنانے کی کوشش کرسکیں۔ مہنگائی نے عوام کا جینا دو بھر کر دیا ہے۔ا سٹاک مارکیٹ میں عوام کی رقم ڈوب رہی ہے اور ہر چھوٹا بڑا میرے ٹکڑے ہونے کی باتیں کرنے لگا ہے۔ بینظیر کے قتل کے بعد اس کا شوہر ملک کا صدر بن چکا ہے اور وعدہ خلافیوں کے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔
اب تو ميں اس انتظار میں ہوں کہ کوئی مخلص اور محب وطن میری دیکھ بھال شروع کردے اور میں سکھ کے دن گزارنا شروع کروں۔ ليکن حالات فی الحال اس دعا کی قبوليت کا اشارہ نہيں دے رہے ۔ ابھی  بھی لٹيرے گھات لگائے بيٹھے ہيں اور کسی بھی قیمت پر مجھے لوٹنے کی کوششوں میں مصروف ہيں۔میں مایوس نہیں ہو ں کیوں کہ مایوسی کفر ہےاور میں اس لیے بھی مایوس نہیں ہو ں کہ سالہاسال سے عربوں کی غلامی کا دور دورہ جب ختم ہوسکتا ہے اور وہاں کی عوام جاگ کر  ملک دشمن عناصر کو تہہ تیغ کر سکتی ہے تو پھر میری عوام کیوں نہیں ،  میں اور میرے گھر کے باسی  کب خواب غفلت سے جاگ کر ان لٹیروں کو ملک بدر کریں گے  یہ مجھے اس لیےمعلوم نہیں کہ میں ابھی نیند سے جاگا ہی نہیں۔ کوئی ہے جو مجھے نیند سے جگائے اور میری آنکھیں کھول دے۔بس میں انتظار میں ہوں ،اور یہ انتظار کب ختم ہوگا اسی کے انتظار میں ہوں ۔۔۔۔
بشکریہ :  میرا پاکستان (http://www.mypakistan.com)
ادارہ’’سنپ‘‘ ادارہ میرا پاکستان کا ہمہ تن مشکور و ممنون ہے۔۔[شکریہ]

1 : : : ----- ((( تبصرے جات ))):

سید محسن علی said...

آج سے پہلے اتنی درد بھری سوانح حیات نہیں پڑھی ۔
اللہ پاک پاکستان کو اپنوںاور غیروں کی شر سے بچائے۔ آمین

Post a Comment

خوش آمدید