میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"

Friday, April 29, 2011

جدید خوارج کا پوسٹ مارٹم


المعروف ’’تحریک طالبان پاکستان‘‘
پاکستان کے خلاف خوں ریز جنگ بر پا کر نے والا گروہ اپنے آپ کو اسلامی لبادے میں چھپائے ہو ئے ہے۔اسلامی نظام نافذ کرنے کے نام پر اس دہشت گرد گروہ نے امت ِ رسول ﷺ اور مدینہ ثانی ’’پاکستان ‘‘کے خلاف بغاوت برپا کر کے اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھوں کو مضبوط کیا ہے ۔ حدیث شریف میں ایسے کسی بھی گروہ کو ’’خارجی ‘‘کہا گیا ہے ، یعنی دائرہ اسلام سے خارج ہو نے والے ،جو فوج ان خارجیوں سے جنگ کر کے اسلام کا دفاع کرے گی ، اس فوج کو حضور اکرم ﷺ نے جنت کی خوشخبری دی ہے ۔
 ان دہشت گردوں کی جو علامات احادیث مبارکہ میں بیان کی گئی ہیں وہ تمام کی تمام نام نہاد ’’تحریک طالبان پاکستان‘‘اور ان کے نظریات کے حامل دہشت گرد گروہوں پر ثابت ہوتی ہیں ۔
آئیےدیکھتے ہیں کہ متعدد احادیث کی متعدد روایات میں ان فتنہ پرور خارجیوں کی متعدد مشہور و معروف علامات اور واضح نشانیاں بیان فر مائی گئی ہیں جن کا تذکرہ ذیل میں کیا جا رہا ہے :
(۱)     احداث الاسنان۔’’وہ کم سن لڑکے ہوں گے‘‘  [بحوالہ :صحیح بخاری]
(۲)    سفھاء الاحلام۔’’دماغی طور پر نا پختہ (Brain Washed) ہوں گے‘‘ 
        [بحوالہ :صحیح مسلم]
(۳)   کث اللحیۃ۔’’(دین کے ظاہر پر عمل میں غلو کریں گے)گھنی داڑھی رکھیں گے‘‘ 
       [بحوالہ :صحیح بخاری]
(۴)    مشمر الازار۔’’بہت اونچا تہہ بند باندھنے والےہوں گے‘‘  [بحوالہ :صحیح بخاری]
(۵)       یخرج الناس من قبل المشرق۔’’یہ لوگ مشرق کی جانب سے نکلیں گے۔‘‘ 
       [بحوالہ :صحیح بخاری]
(۶)        لا یزالون یخرجون حتیٰ یخرج آخرھم من المسیح الدجال۔
’’یہ ہمیشہ نکلتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا۔‘‘ 
[بحوالہ :سنن نسائی]
(۷)       لا یجاوز ایمانھم حناجرھم ۔’’ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔‘‘ 
        [بحوالہ :صحیح بخاری/صحیح مسلم]
(۸)       یتعمقون و یتشددون فی العبادۃ۔’’عبادت اور دین میں بہت متشدد اور انتہا پسند ہونگے۔‘‘
        [بحوالہ :السند ابو یعلی]
(۹)        یحقر الحدکم صلاتہ مع صلاتھم وصیامہ مع صیامھم۔
’’تم میں سے ہر ایک ان کی نمازوں اور روزوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں اور روزوں کو 
حقیر جانے گا۔‘‘[بحوالہ :صحیح بخاری/صحیح مسلم]
(۱۰)       لا تجاوز صلاتھم تراقیھم۔’’نماز ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔‘‘
        [بحوالہ :صحیح مسلم]
یعنی نماز کا کوئی اثر ان کے اخلاق و کردار پر نہیں ہوگا۔
(۱۱)    یقرؤن القرآن لیس قرائتکم الیٰ قرائتھم بشئی۔
’’وہ قرآن مجید کی ایسے تلاوت کریں گے کہ ان کی تلاوت قرآن کے سامنے تمہیں اپنی 
تلاوت کی کوئی حیثیت دکھائی نہیں دے گی۔‘‘  [بحوالہ :صحیح مسلم]
(۱۲)   یقتلون اھل الاسلام ویدعون اھل الاوثان۔
’’وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔‘‘[بحوالہ :صحیح بخاری]آ
یہ دہشتگرد بت پرست ہندوؤں سے اسلحہ لیکرپاکستانی مسلمانوں کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔
(۱۳)   یقرؤن القرآن یحسبون أنہ لھم و ھو علیھم۔
’’وہ یہ سمجھ کر قرآن پڑھیں گے کہ اسکے احکام انکے حق میں ہیں ،لیکن در حقیقت وہ قرآن 
انکے خلاف حجت ہوگا۔‘‘[بحوالہ :صحیح مسلم]
(۱۴)   یدعون الیٰ کتاب اللّٰہ ولیسوا من فی شیءٍ۔
’’وہ (بذریعہ طاقت)لوگوں کو کتاب اللّٰہ کی طرف بلائیں گے لیکن قرآن کے ساتھ ان کا کوئی 
تعلق نہیں ہو گا۔‘‘[بحوالہ :سنن ابو داؤد]
(۱۵)   یقولون من خیر قول البریۃ۔’’وہ (بظاہر)بڑی اچھی باتیں کریں گے۔‘‘
         [بحوالہ :صحیح بخاری/صحیح مسلم]
یعنی دینی نعرے (Slogans)بلند کریں گے ،اور اسلامی مطالبے کریں گے ۔
(۱۶)   یقولون من احسن الناس قولا۔
’’ان کے نعرے (Slogans)ظاہری باتیں دوسرے لوگوں سے اچھی ہوں گی اور متاثر 
کرنے والی ہوں گی۔‘‘[بحوالہ :طبرانی /المعجم الاوسط]
(۱۷)   یسیئون الفعل۔’’مگر وہ برے کردار کے لوگ ہو ں گے۔‘‘ 
        [بحوالہ :سنن ابو داؤد،کتاب السنۃ ، باب فی قتال الخوارج]
(۱۸)   ھم شر الخلق والخلیقۃ۔’’وہ تمام مخلوق سے بد ترین لوگ ہوں گے۔‘‘
        [بحوالہ :صحیح مسلم]
(۱۹)   خیر قتلی الذین قتلوھم۔’’وہ شخص بہترین مقتول (شہید)ہوگا جسے وہ قتل کر دیں گے۔‘‘  
        [بحوالہ :سنن ابن ماجہ]
(۲۰)   انھم کلاب النار۔’’(یہ) دہشت گرد خوارج جہنم کے کتے ہوں گے۔‘‘  [بحوالہ :سنن ترمذی]
(۲۱)   ینطلقون الیٰ ایات نزلت فی الکفار فیجعلوھا علی المؤمنین۔
’’وہ کفار کے حق میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق مسلمانوں پر کریں گے۔‘‘ 
[بحوالہ :صحیح بخاری]
اس طرح وہ دوسرے مسلمانوں کو گمراہ ، کافر اور مشرک قرار دیں گے تاکہ ان کا ناجائز 
قتل کرسکیں۔
(۲۲)   الاجر العظیم لمن قتلھم۔’’ان کے قتل کرنے والے کو اجر عظیم ملے گا۔‘‘ 
        [بحوالہ :صحیح مسلم]
(۲۳)  شر قتلیٰ قتلوا تحت ظل السماء۔’’وہ آسمان کے نیچے بد ترین مقتول ہوں گے۔‘‘   
        [بحوالہ :سنن ابن ماجہ]
یعنی جو دہشت گرد خوارج فوجی سپاہیوں کے ہاتھوں مارے جائیں گے تو وہ بدترین مقتول ہوں گے اور انہیں مارنے والے جوان بہترین غازی ہوں گے ۔
آثار(اقوال تابعین و تبع تابعین)
(۱)     ’’گناہ کبیرہ کے مرتکب کو دائمی جہنمی اور اسکا جان و مال حلال قرار دینگے۔‘‘
        [بحوالہ :عبد القاہر بغدادی/الفرق بین الفرق]
(۲)    ’’خوارج کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ کسی مخصوص علاقے کو گھیر کر اپنی دہشت گردانہ 
کاروائیوں کے لیے مر کز بنالیں گے ، جیسے کہ انہوں نے علی المرتضیٰ ؓ کے خلاف حروارء 
کو اپنا مر کز بنا لیا تھا۔‘‘  [بحوالہ :ابن تیمیہ /مجموع الفتاویٰ]
آج خارجیوں نے سوات اور وزیرستان کو اپنا مرکز بنالیا تھا۔
(۳)   ’’خوارج کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ اہل حق کے ساتھ مذاکرات کو ناپسند کریں گے ، 
انہوں نے سیدنا علیؓ کی تحکیم کو مسترد کر دیا تھا۔‘‘[بحوالہ :ابن تیمیہ /مجموع الفتاویٰ]
احادیث و آثار سے ماخوذ ان علامات سے ثابت ہو تا ہے کہ جو مسلح گروہ یا فرقہ جمہور امت مسلمہ کو گمراہ ، کافر و مشر ک کہے ، عامۃ الناس (مسلم یا غیر مسلم )کے جان و مال کو حلال سمجھے ،حق بات کا انکار کرے، مصالحانہ اور پر امن ماحول کو تباہ و بر باد کرے وہ’’خارجی‘‘ ہے۔خواہ اس کا ظہور کسی بھی زمانے میں ہو ۔ آج کے دور میں یہ فتنہ ’’تحریک طالبان پاکستان ‘‘کی شکل میں اٹھا ہے ۔تمام مکتبہ فکر کے علماء نے اسلامی ریاست کے اندر مسلح جدوجہد کو ناجائز قرار دیا ہے ۔اگرچہ حکومت فاسق و فاجر سے کیوں نہ بھری پڑی ہو ، صالح اسلامی معاشرہ بنانے یا اسلامی خلافت کے نفاذ کے لیے رائج ملکی طریقہ کار کو اپنانا چاہیے نہ کہ ریاست کے اندر ڈیڑھ انچ کی ریاست کا قیام کا متقاضی ہو نا چاہیے۔دعا ہے باری تعالیٰ ہمیں سامراجی قوتوں کا آلہ کار نہ بنائے ، اور اپنے دین کا صحیح فہم عطا فر مائے ۔(آمین)
یا اللہ!!! مجھ میں شر ہے تو، میرے شر سے اسلام کو محفوظ فر ما۔(آمین)

دیگر اہم تفصیلات اور نادر و نایاب تصاویر کے لیے نیچے ڈاؤن لوڈ لنک پر کلک کیجیے:

1 : : : ----- ((( تبصرے جات ))):

سید محسن علی said...

پاکستان میں برپا کی جانے والی موجودہ طالبان تحریک سامراجی قوتوں کی درپردہ سازش ہے ۔
اس کی طالبان تحریک افغانستان سے کوئی تعلق واقعی نہیں ہے
اور ان کی روایات سے ویسے بھی نہیں لگتا۔
یہ لوگ مقامی غنڈے بدمعاش ہیں جنہوں نے طالبان کا لبادہ اوڑھ لیا ہے ۔

خدارا بچیں ان سے ۔۔۔

Post a Comment

خوش آمدید