میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"

Wednesday, October 26, 2011

اے کاش!!!

  چند دنوں سے دل پر ایک بوجھ سا ہے ، کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کروں۔کبھی تو دل چاہتا ہے کہ جامعہ کراچی سے محنت کے ساتھ پڑھ کر حاصل کردہ اپنی چار ڈگریاں واپس کر دوں،شرم آتی ہے ان ڈگریوں کو دیکھ کر ۔ان پچھلے دنوں میں کئی بار میں نے اپنی الماری کا قیمتی چیزوں والا خانہ کھولا تو مجھے لگا کہ اس میں میری قابل فخر ڈگریاں نہیں بلکہ میری شرمندگی کا کوئی سامان رکھا ہوا ہے۔اور پھر میں نے ڈگریوں سے اور انہوں نے مجھ سے نظریں چرا لیں،وہ بھی شاید خود کو بے وقعت سی محسوس کر رہی ہیں ۔
          
یہ میری لاءکی ڈگری ہے،آہ !کتنا خوش ہوا تھا میں اسے پا کر کہ میری مادر علمی نے مجھے قانون جان لینے کی ڈگری عطا کردی، مجھے اس اعزاز کے قابل سمجھا،میں اس کا احسان مند تھا ،بہت خوش تھا ،فخر سے سب کو بتاتا تھا اور اپنی ڈگری دکھاتا تھا۔مگر آج مجھے یہ ڈگری کا غذ کا ایک بے توقیر ٹکڑا لگ رہی ہے۔
          یہ میری جرنلزم میں ایم اے کی ڈگری ہے۔کیا خوبصورت دن تھے جب ہم صحافت کی تعریفیں یاد کیا کرتے تھے،جب ایک بار ہمیں پی ٹی وی کے وزٹ پر لے جایا گیا تو ہم نے ایسا محسوس کیا کہ گویا ہم امریکہ کا دورہ کر کے آئے ہوں۔میری یہ ڈگری بھی مجھے لگا کہ رو رہی ہے ۔اس پر موجود سابق شیخ الجامعہ کے دستخط بھی آبدیدہ سے تھے۔مجھے یوں لگا جیسے وہ کہ رہے ہوں کہ کاش ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا، کاش ہم شیخ الجامعہ نہ بنے ہوتے، کتنا دکھ ہے آج ان کے انداز میں۔
          یہ میرا پبلک ایڈ منسٹریشن کا پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ ہے یہ اس سے پہلے بی اے کی سندہے ، یہ ہسٹری میں ایم اے کا اعزاز ہے۔ مگر کیا یہ واقعی اب اعزاز ہیں؟کیا یہ واقعی اب ڈگریاں ہیں؟ کیا یہ واقعی اب قابل اعتبار یا باعث فخر و اعزاز کا سبب ہیں؟ رحمن ملک کو پی ایچ ڈی کی ڈگری اسی جامعہ سے مل جانے کے بعد بھی؟
          استاد محترم پیرزادہ قاسم ! آپ نے ہمارے سر شرم سے جھکا دیئے ہیں۔جامعہ کے کتنے ہی بیٹے اور بیٹیاں ان دنوں میں خون کے آنسو روئے ہو نگے، کتنے ہی دل کرچی کرچی ہوگئے ہوں گے، کتنوں کی خوبصورت یادیں آنکھوں کی نمی میں دھندلا گئی ہوں گی۔
          استاد محترم ہم تو آپ کو عزت و شرف کی علامت سمجھتے ہیں ، آپ کی مسجع مقفع زبان ہمارے لئے سند کا درجہ رکھتی ہے، آپ کے اشعار ، آپ کی وضع دار شخصیت ، آپکا روایتی با وقار انداز ، ہم تو سچ پوچھیں تو دل کی گہرائیوں سے آپ کا احترام کرتے ہیں ۔نہ جانے آپ نے یہ فیصلہ خود کیا ہے یا کروایا گیا ہے؟
          مگر محترم شیخ الجامعہ کیا آپ کو شیخ الازہرمصر کا وہ وا قعہ کسی نے نہیں سنایا کہ جب باد شاہ وقت کی آمد پر بھی وہ پاﺅں پھیلائے بیٹھے علم بانٹتے رہے اور جب کسی نے توجہ دلائی کہ حضرت بادشاہ وقت کے سامنے یہ سوئے ادب ہے تو وہ شان بے نیازی سے بولے:
”جو بادشاہ کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا وہ بادشاہ کے سامنے پاؤں پھیلا سکتا ہے“
          میرے محترم استاد ! مجھے یقین ہے کہ آپ نے یہ اقدام کسی مجبوری میں ہی اٹھا یا ہوگا، مجھے یقین ہے کہ آپ کے قلم میں ایک بار تو ضرور لرزش بھی آئی ہو گی، مجھے یقین ہے کہ آپ کے ہاتھ بھی ڈگری دیتے ہوئے کپکپائے ہوں گے۔مگر کاش آپ شیخ الازہر جیسی کوئی مثال قائم کر دیتے۔
آپ بھی عمر کے اس آخری حصے میں انکار کے اعزاز کے ساتھ رخصت ہو جاتے مگر یوں سب کے سر شرم سے نہ جھکاتے۔
          کاش! مگر شاید ۔۔۔
ایں سعادت بزور بازونیست
مصنف  :            زبیر غفاری
ادارہ’’سنپ‘‘ مصنف  کا ہمہ تن مشکور و ممنون ہے۔
یاد آوری جاری رکھنے کی التماس۔[شکریہ]

0 : : : ----- ((( تبصرے جات ))):

Post a Comment

خوش آمدید