میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"

Sunday, October 2, 2011

ش ش ش ، کوئی ہے !!!

”سافٹ ویئر کی لاگرز“کے بعد ایک کمپنی نے ”ہارڈوئیر کی لاگر“ متعارف کروائے ہیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ ان کی پہچان بھی بہت مشکل ہے۔ ’’کی لاگرز‘‘ کی افادیت سے ناآشنا حضرات کو بتاتے چلیں کہ کی لاگرز ایسے سافٹ ویئر ہوتے ہیں جو آپ کے سسٹم پر انسٹال ہونے یا کرنے کے بعد چھپ کر آپ کے ’’کی بورڈ‘‘ کی ہر دبائے ہوئے بٹن کا ریکارڈ محفوظ کر لیتے ہیں جو بعد میں اس سافٹ ویئر کو استعمال کرنے والے کی پہنچ میں ہوتا ہے۔ چاہے آپ نے کی بورڈ کے ذریعے اپنا کلمہ شناخت(Pass Word) کسی ویب سائٹ پر اپنا ای میل اکاؤنٹ کھولنے کے لیے دیا تھا یا آپ نے کسی ’خاص‘ شخصیت کو ای میل لکھی تھی جسے آپ کسی تیسرے شخص کی نظر سے بچانا چاہتے تھے، وغیرہ وغیرہ۔
کی لاگرز شروع میں اس نیک مقصد کے لیے  متعارف کیے گئے تھے کہ والدین اپنے بچوں کی اور دفتری حکام اپنے ملازمین کی سرگرمیوں پر نظر رکھ سکیں اور یہ پتہ چلایا جا سکے کہ کہیں وہ اپنے کمپیوٹر پر منفی سرگرمیوں میں تو ملوث نہیں۔
زیرِ نظر تصویر میں آپ ایک عام بیٹری سیل کی سائز کا ہارڈویئر ”کی لاگر“ کو دیکھ سکتے ہیں جو بظاہر کی بورڈ کنورٹر(کی بورڈ کنورٹر پورٹ میں مطابقت لانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، تاکہ مخالف پورٹ پر کی بورڈ لگانا ممکن ہو) نظر آتا ہے۔


اسی کمپنی نے ”یوایس بی کی لاگرز“ بھی متعارف کیے ہیں جو دیکھنے میں یوایس بی فلیش ڈرائیو سے مشابہ نظر آتے ہیں۔سو، آپ کو ہوشیار کیا جاتا ہے کہ اگر آپ کسی انٹرنیٹ کیفے یا کالج لیب سے انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں تو پہلے اطمینان کر لیں کہ کہیں سیکیورٹی کیمرے کے ساتھ ساتھ ”سافٹ ویئر کی لاگر“ اور ”ہارڈ ویئر کی لاگر“ آپ کی نگرانی تو نہیں کر رہا؟




٭ایک ٹوٹکہ:           اگر آپ کسی غیر محفوظ جگہ پر انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہوں اور آپ کو خطرہ ہو کہ کہیں آپ کی اہم معلومات چوری نہ جائیں تو اپنا اہم ڈیٹا لکھتے وقت کی بورڈ کی بجائے ”آن اسکرین کی بورڈ“ استعمال کریں۔ آن اسکرین کی بورڈ کے ذریعے لکھتے وقت آپ بجائے کی بورڈ کے بٹن دبانے کے، کلک کرتے ہیں، جس سے کی لاگرز اس دھوکے میں رہتے ہیں کہ یہ محض ماؤس کلک ہیں۔ 



یاد رہے ”آن اسکرین کی بورڈ“ کی سہولت ونڈوز کے 2000 سے پرانے ورژنز میں موجود نہیں ہے۔
ماخذ :      آئی ٹی دنیا   ۔ (http://www.itdunya.com/t18516)
ادارہ’’سنپ‘‘ صاحب مضمون کا ہمہ تن مشکور و ممنون ہے۔
یاد آوری جاری رکھنے کی التماس۔[شکریہ]

0 : : : ----- ((( تبصرے جات ))):

Post a Comment

خوش آمدید