میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"

Thursday, December 27, 2012

قائد اعظم کا سیاسی مؤقف!

آج کی صورتِ حال میں ہمارے لیے قائداعظم کی دو بنیادی حیثیتیں ہیں۔ ایک تو سیاسی رہنما کی اور دوسری اس شخصیت کی جس نے برصغیر میں مسلمانوں کی پوری تاریخ اور ان کے تہذیبی حاصلات کے لیے ایک ایسا جغرافیائی فریم فراہم کیا جس میں برصغیرمیں مسلم تہذیب اپنی مرکزی حیثیت میں قائم ہوسکے اور اس طرح عالمگیر اسلامی تہذیب کا مرجع بن سکے۔


 قائداعظم کی سیاست اور دوسرے سیاسی رہنماؤں کی سیاست میں ایک بنیادی فرق ہے،اور اس فرق پر نگاہ ڈالے بغیر ہم نہ تو قائد کی شخصیت کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی ہمیں اس عمل کا مکمل عرفان ہوسکتا ہے جو صدیوں سے جاری تھا اور بالآخرپاکستان پر منتج ہوا۔ قائد کی سیاست کا اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ ان کے ہاں سیاسی مؤقف نے تہذیبی مؤقف سے جنم لیا اور اس وجہ سے تاریخ کی پوری قوت اس مؤقف کے بطن میں موجود رہی۔ لہٰذا وہ قوتیں جو اس مؤقف کی مخالف تھیں اپنی تمام تر کوششوں کےباوجود پاکستان کے قیام کو نہ روک سکیں۔ اس لیے کہ جب سیاسی مؤقف تہذیبی اصولوں کی بنیاد پر قائم ہو تو پھر اس کی حیثیت موجود سیاسی منظرنامے میں دو طرح متعین ہوتی ہے۔ ایک تو تہذیب کے پورے ماضی کی قوت اس کے ساتھ ہوتی ہے اور دوسری سطح پر وہ سیاسی مؤقف ایک نئی تہذیب، یا تہذیبی نشاۃِ ثانیہ کا امکان بنتا ہے۔اس لیے میں دو قومی نظریے کو ایک سیاسی نظریے سے زیادہ ایک تہذیبی شعور کا اظہار سمجھتا ہوں کہ دو قومی نظریہ اس بات کا اعلان تھا کہ برصغیر کی تاریخ میں پاکستان پہلے سے موجود ہے۔ اب وہ وقت آگیا ہے جب اس تاریخ کو ایک جغرافیائی پس منظر فراہم کردیا جائے، جہاں یہ تہذیب اور یہ روایت مختلف سطحوں پر آزادانہ انداز میں پھل پھول سکے۔

تحریک پاکستان کے مختلف مراحل اور مختلف منزلوں میں سے ایک منزل وہ بھی تھی جس کا ظہور علامہ اقبال کے اوّلین رجحانات میں ہوتا ہے، یا جس کی ایک شکل چودھری رحمت علی کے تصورِ پاکستان میں دکھائی دیتی ہے۔ ہر دو بزرگوں کے ہاں پاکستان ابتداً پان اسلامی تحریک کے اس حصے کے طور پر دکھائی دیتا ہے (اگرچہ اس منصوبے کے ناقابلِ عمل ہونے کا احساس علامہ اقبال کو جلد ہی ہوگیا تھا اور انہوں نے برِصغیر کے مسلمانوں اور دوسرے علاقوں کے مسلمانوں کے درمیان تہذیبی فرق کوپہچانتے ہوئے پاکستان کا وہ تصور پیش کیا جو آج قائم ہے)۔ اصل میں وہ بزرگ جنہوں نے پاکستان کو پان اسلامی بنیادوں پر قائم کرنے کی کوشش کی، تاریخی شعور سے تو بہرہ ور تھے، لیکن تاریخ کے متن کو تبدیل کرنے میں ایک جغرافیائی عنصر جو رول ادا کرتا ہے اس سے انہوں نے صرفِ نظر کیا۔ ہر وہ تصور جو محض جغرافیائی بنیاد پر قائم ہو، محض تاریخی تسلسل کے شعور سے عبارت ہو وہ ایک جزوی اندازِ نظر کا مظہر ہے اور تصورِ پاکستان کے پس منظر میں ہی ہمیں علامہ اقبال کی فکر کے پھیلتے ہوئے آفاق کا ادراک ہوتا ہے۔

قائداعظم ان معنوں میں تمام رویوں کے جامع ہیں کہ اگر ایک طرف ان کی سیاست میں ہمیں تاریخی اور تہذیبی شعور کارفرما نظر آتا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ جغرافیائی اورلسانی عناصر بھی دکھائی دیتے ہیں، اور اسی توازن کو برقرار رکھنے کا نام قائداعظم کی بصیرت ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال میں قطعی اتفاقِ رائے ہوا اور اس امر پر ان دو بزرگوں کی خط کتابت گواہ ہے۔اگر غور سے دیکھا جائے تو برصغیر کے مسلمانوں کی صدیوں پرانی روایات میں جو رویّے ہمیں دکھائی دیں گے ان کا عکس ہمیں قائداعظم کی زندگی میں نظر آئے گا۔برصغیر کے مسلمانوں کی ساری تاریخ قائد کی شخصیت میں مجسم ہوگئی تھی اور اسی لیے قائد کے ایک ایک قول اور ایک ایک عمل میں مسلمانوں کے پورے تہذیبی رویّے کا اظہار ہوتا تھا۔

اس سلسلے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ برصغیر کے اکثر مسلم رہنماؤں کی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک تو وہ جب یہ رہنما ہندوؤں اور مسلمانوں کی یکجہتی کے قائل رہے، دوسرے وہ جب انہوں نے مسلمانوں کے علیحدہ تشخص پر زور دیا۔اس سے ایک بات تو بہرحال ثابت ہوتی ہے کہ مسلمانوں نے یہ کوشش ضرور کی کہ برصغیر کی ان دونوں اقوام کے لیے کوئی ایسا وسیع فریم مہیا ہوسکے جس میں دونوں قومیں ایک ساتھ رہ سکیں۔ لیکن جیسے جیسے ان دونوں قوموں کے بنیادی مزاج اور ان کی تہذیبی اساس کے اختلافات واضح ہوتے چلے گئے، ویسے ویسے برصغیر کےمسلمانوں کی ایک علیحدہ مملکت کے خدوخال بھی نمایاں ہوتے گئے۔ چنانچہ قائد کو بھی شروع میں ہندو مسلم اتحاد کا نقیب کہا گیا۔ لیکن اسے ہندوؤں کی تنگ نظری قرار دیجیے یا اسلام کے مزاج میں اپنے جوہر کو برقرار رکھنے کی خصوصیت کہ بالآخر قائد نے وہ راستہ اختیار کیا جو برصغیر کی مسلم تاریخ کا راستہ تھا۔

ہر نسل کو اپنے پیش روؤں کے حوالے سے اپنے لیے ذمہ داریوں کا تعین کرنا پڑتا ہے اور ان ذمہ داریوں کے تناظر میں اپنے پیش روؤں سے اپنے رشتے کا۔
آج کی نسل کا مسئلہ یہ ہے کہ قائداعظم کی عائد کردہ ذمہ داری ان تک کس مرحلے میں پہنچی ہے اور اس سے عہدہ برآ ں ہونے کا طریق کار کیا ہوگا؟

ہمارے لیے قائداعظم کی حیثیت محض اُس سیاسی رہنما کے بجائے کہ جو اپنا کام سرانجام دے کر رخصت ہوچکا ہو، اس تہذیبی رویّے کی ہے جس کی بنیاد ایمان پر ہو۔ یہ رویہ اسلام کے مزاج میں شامل ہے اور قائداعظم نے اپنے بیانات اور اعمال سے اس کی صداقت پر گواہی دی ہے۔ قائدکے مؤقف کی پختگی پر اپنے تو اپنے، ان کے بدترین مخالف بھی حیران ہیں۔ یہاں ایک مثال کافی رہے گی کہ نراد چودھری اپنی کتاب The Continent of Circe  میں قائداعظم کے بارے میں ہزار دریدہ دہنیوں کے باوجود کہنے پر مجبور ہے:
He changed a political impossibility in to a fact.
 پاکستان غیرممکن تھا یا نہ تھا، اس سلسلے میں تو بحث جانے دیں، یہ بہرحال ثابت ہے کہ جب تک قائد نے مسلمانوں کی قیادت نہ سنبھالی تھی اُس وقت تک ایسا ہی معلوم ہوتا تھا۔ اور جہاں تک تاریخ میں پاکستان کے پہلے سے موجود ہونے کی بات ہے تو اس کےادراک کے لیے ایک گہرے تاریخی شعور کی ضرورت ہے جو ہندو ذہن کو کبھی حاصل ہی نہیں ہوسکتا کہ بقول اشپنگلر ہندو قوم کے تاریخی شعور کا عالم تو یہ ہے کہ ویدوں کی تصنیف میں سینکڑوں برس کا عرصہ لگا ہے لیکن اب ان کے لیے یہ بتانا بھی محال ہے کہ کس وید کی تصنیف پہلے ہوئی تھی۔

بہرحال بات پاکستان کی نئی نسل کے لیے قائد کی حیثیت کی ہورہی تھی۔ اور اس سلسلےمیں اہم ترین نکتہ قائد کو ایک ایسے رویّے کی حیثیت سے قبول کرنے کا ہے جس کےحوالے سے قائداعظم کے کارنامے کے تسلسل میں اپنے مقاصد کا تعین کیا جائے اور اس شناخت کو باقی رکھنے کی کوشش کی جائے جو قائداعظم نے ہمیں دی ہے۔

آج پاکستان تو پاکستان، پوری دنیا میں توازن و تناسب کا نظام تباہ ہوچکا ہے اور لاقانونیت اور بے مقصدیت کا ایک سیلاب پوری دنیا کے لیے ایک مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ میں یہ پہلےعرض کرچکا ہوں کہ قائد کی شخصیت کے دو پہلو بہت اہم ہیں، ایک تو وہ ایمان جو حق و باطل میں فرق سکھاتا ہے اور حق کے ساتھ بے لوث وابستگی کی جرأت دیتا ہے، اور دوسرے ایک متوازن اندازِ نظر جس میں ضدین بھی حل ہوکر ایک وسیع ترکلیت کی تشکیل کرتے ہیں، اور توازن کی یہ راہ کچھ پل صراط سے گزرنے کے مترادف ہے کہ جہاں اس کا نظام بکھرا وہاں انسانیت کا قوام بگڑا۔ چنانچہ ہمارے لیے اب قائد کی حیثیت ایک ایسے رویّے کی تجسیم کی ہے جس کے تسلسل میں ہی ہم اپنی پہچان کو برقرار رکھ سکتے ہیں اور پاکستان میں اس تہذیب کو قائم کرسکتے ہیں جس کا متوازن خاکہ قائد نے ہمیں دیا ہے۔پاکستان کی موجودہ صورتِ حال میں ہماری ذمہ داری دوچند ہوگئی ہے کہ:
شد پریشاں خوابِ من از کثرتِ تعبیرہا
کی صورت حال ہے اور مارکیٹ میں موجودہ تمام تہذیبی نظریات ایک یا دوسری طرح کے عدم توازن کا شکار ہیں۔

ہمارے لیے قائداعظم کی زندگی پاکستانی تہذیب کا خاکہ ہے۔ اس لیے بر صغیر کےمسلمانوں کی پوری تاریخ اجمالاً قائد کی ذات میں ظہور پاتی ہے۔ اب ہمارا کام اس اجمال کو تفصیل میں منتقل کرنا اور اس اصول کو عمل میں ڈھالنا ہے، اور وہ اصول نظریاتی اور فکری عدم توازن کو دور کرکے صحیح تاریخی تناظر میں اس تہذیب کو قائم کرنا ہےجس کی اساس ایمان پر ہو، اور جس کے گرد ہمارا نظریاتی، فکری اور معاشرتی پیٹرن بنایا جاسکے۔
 مصنف:  محمد شریف۔( intifada4u@gmail.com )
ارسال کردہ :      Global-right-path@googlegroups.com

ادارہ ”سنپ“موصوف کا ہمہ تن مشکور و ممنون ہے۔
یاد آوری جاری رکھنے کی التماس۔[شکریہ]

0 : : : ----- ((( تبصرے جات ))):

Post a Comment

خوش آمدید