میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"

Sunday, December 2, 2012

امریکی گورباچوف !!!


جب سے امریکا کی بیس ریاستوں کے شہریوں نے امریکا سے علیحدگی کے لیے عدالت میں درخواست جمع کرائی ہے تو یہ سوال زباں زد خاص و عام ہے کہ کیا امریکا بھی سوویت یونین کے انجام سے دور چار ہوجائے گا؟کیا اوباما امریکا کے گورباچوف ثابت ہوں گے؟امریکا کا المیہ یہ ہے کہ ریڈ انڈینز کے اس ملک پر یورپی گوروں نے غلبہ قائم کیے رکھا اور اس غلبے کے بعد فرزندان زمین یعنی سیاہ فام زیردست اور دوسرے درجے کے شہری ہو کر رہ گئے جبکہ آباد کار گورے برتر اور خطے کے مالک و مختار بن بیٹھے۔
مارٹن لوتھر کنگ نے سیاہ فاموں کے حقوق کی طویل جدوجہد کی اور اب حالات میں بڑی حد تک تبدیلی آرہی ہے۔سیاہ فام باراک اوباما کا بطور صدر امریکا انتخاب مارٹر لوتھر کنگ کی جدوجہد کی کامیابی سمجھا گیا۔ایک بار تو سفید فاموں نے باراک اوباما کو جیسے تیسے قبول کر  ہی لیا مگر یوں لگتا ہے ان کا دوسری بار انتخاب احساس بتری کا شکار سفید فاموں کو ایک آنکھ نہیں بھایا۔ایک تو رنگ و نسل کا یہ تفاوت دوسرا ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کی سیاسی مخاصمت اپنے رنگ دکھاگئی اور ان ریاستوں میں جہاں ری پبلکن امیدوار مٹ رومنی کو اکثریت حاصل تھی امریکا سے الگ ہونے کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں۔علیحدگی کی آوازوں والی ان ریاستوں میں امریکا کی کئی  بااثر اور باوسیلہ ریاستیں شامل ہیں ۔جن میں نیویارک،فلوریڈا ،جارجیا،ٹیکساس ،انڈیانا،شمالی کیرولینا،اور ٹیکساس جیسی معرف ریاستیں شامل ہیں۔امریکی عدالت میں علیحدگی کے حق میں جمع کرائی گئی ان پٹیشنز کی حمایت روز بروز  بڑھتی جارہی ہے۔


امریکا کی بیس ریاستوں میں علیحدگی کایہ رجحان انتخابات کے فوراََ بعد دیکھنے کو ملا۔ اس طرح کے جذبات پہلے سے موجود رہے ہوں گے جو انتخابی نتائج کے بعد لاوے کی صورت پھٹ کر سامنے آگئے۔امریکی عدالت میں دائر کی جانے والی رٹ پٹیشن کے مصنف مائیکل ای نے اسے اعلان آزادی کہا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ امریکا مالی مشکلات کا شکار ہے جبکہ ٹیکساس ریاست نے اپنا متوازن بجٹ پاس کیا ہے ریاست ٹیکساس دنیا کی پندرہویں بڑی معیشت کی حامل ہے۔جو اسے یونین سے الگ ہونے میں معاونت لے سکتی ہے ۔امریکی عدالت میں دائر کی گئی ہر پٹیشن کے لیے تیس دن کے اندر پچیس ہزار افراد کی حمایت درکار ہے جس کے بعد حکومت اس کو زیر غور لاسکتی ہے۔ایسا لگتا ہے امریکی شہری اب حالات سے مایوسی کی طرف تیزی سے لڑھکنے لگے ہیں ۔اوباما کی دوسری بار آمد سے ان کی رہی سہی امیدبھی ختم ہوگئی ہے۔عدالت میں دائر کی گئی حالیہ پٹیشنز کے نتیجے میں امریکا ٹوٹتا ہے یا نہیں مگر امریکی عوام میں ایک نیا رجحان شروع ہوگیا ہے۔پہلے لوگوں کو عظیم امریکا کے ساتھ جڑے رہنے میں عزت ،عافیت اور معاشی استحکام نظر آتا تھا اب اسی سوچ کو ریورس گیر لگ گیاہے ۔اب انہی لوگوں کو امریکا سے علیحدگی میں یہ سب باتیں نظر آنے لگی ہیں۔اب امریکا کے ساتھ رہنا ان کے ذہن اور ضمیر پر بوجھ بنتا جا رہا ہے۔
امریکا کو یونی پاور کے طور پر قدرت نے اس دنیا کا نظام عدل اجتماعی پر قائم کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا تھا لیکن امریکا نے قدرت کے عطا کردہ اس موقع سے فائدہ اُٹھانے کی بجائے خود ہی خدا بننے کی کوششیں شروع کردیں۔ہتھیاروں کے انبار ،توسیع پسندی،ہوس ملک گیری ،پوشیدہ مقاصد کے لیے سب کچھ دائو پر لگانے کا جنون غرضیکہ وہ سب کچھ جو سوویت یونین کے زوال کا باعث بنا تھا امریکا نے ہر وہ طریقہ اپنالیا۔یونی پاور طاقت کے طور پر امریکا نے اپنا  امن ،انصاف ،برابری ،مساوات ،ارفع  اقدار کی موتیوں سے بھرنے کی بجائے دامن ابوغریب جیل ،دشت لیلیٰ ، ڈرون ،عافیہ صدیقی سمیت بے شمار داغوں سے سجا دیا ۔انسان کی تقصیروں کے مقابل فطرت کی تعزیریں بھی بڑی سخت ہوتی ہیں۔ امریکا نے عدل و انصاف کو اپنا شعار بنانے کی بجائے جور وستم کو اپنا ہتھیار بنا لیا تو بھلا وہ  ظالموں کے لیے مختص فطرت کی تعزیز اور تازیانے سے کیوں کر بچ سکتا تھا؟
 تاریخ میں پہلی بار بڑے پیمانے پر اس باون ریاستوں کے حامل دیو ہیکل ملک کے تارو پود بکھیرنے کی سوچ منظم پیمانے پر سامنے آئی ہے ۔معاملہ محض سوچ تک محدود نہیں بلکہ لوگوں نے علیحدگی کے لیے قانونی اور آئینی طریقہ ٔ کار بھی اپنا لیا ہے۔یہ سوچ اب دب تو سکتی ہے مگر ختم نہیں ہوسکتی۔عین ممکن ہے کہ فوری طور پر یہ سوچ اپنا ہدف نہ پاسکے مگر انسانی ذہنوں میں جنم لینے والی اس طرح کی سوچیں مدتوں کروٹیں لیتی رہتی ہیں اور پھر ایک روز انہیں جہاں سے راہ ملتی ہے پھیل جاتی ہیں۔
1998میں برطانیہ کے ایک سفر میں اسکاٹ لینڈ میں انگلینڈ کے غلبے کے خلاف ایک کمزور سی سوچ کے آثار کہیں کہیں دکھائی دے رہے تھے ۔ کبھی کوئی شخص میگا فون پر اعلان کرتا ہوا جاتا کہ میں آزاد اسکاٹ لینڈ چاہتا ہوں تو کبھی دیوار پر بنے کسی پوسٹر سے اس سوچ کی عکاسی ہوتی تھی ۔تب یہ کوئی قابل ذکر بات نہیں تھی ہمارے میزبان اسکاٹ لینڈ کا تعارف کراتے وقت برسبیل تذکرہ یہاں پائے جانے والے علیحدگی کے رجحان کا ذکر بھی کرتے تھے ۔ آج  خوبصورت جھیلوں ،جھرنوں ،آبشاروں اور ساحلی بستیوں کے دیس اسکاٹ لینڈ سے آنے والی خبریں بتا رہی ہیں کہ یہ خطہ اب آزادی کی دہلیز پر کھڑا ہے ۔ برطانیہ سے الگ ہونے کے معاملے پر اسکاٹ لینڈ میں ریفرنڈم کی تیاریاں مکمل ہیں۔برطانیہ بھی  نہ چاہتے ہوئے اسکاٹ لینڈ کی آزادی کو ذہنی طور پر قبول کر چکا ہے مگر اس کے لیے پریشانی کی وجہ سکاٹ لینڈ میں تیل اور گیس کے ذخائر اور وہاں موجود اپنے ایٹمی اثاثہ جات ہیں۔بہرحال مغرب نے اب آزادی کے لیے پرامن جدوجہد کا راستہ اپنا لیا ہے ۔ان ملکوں میں آخری پر تشدد تحریک شمالی آئرلینڈ کی کیتھولک آبادی کی جدوجہد تھی لیکن ڈیڑھ عشرے سے یہ جدوجہد بھی پرامن راستوں پر چل پڑی ہے۔اس لیے کسی مرحلے میں امریکی ریاستوں میں اُبھرنے والی سوچ کا حقیقت میں ڈھل جانا شاید آج ایک مذاق معلوم ہوتا ہے مگر آگے چل کر یہ سوچ غالب آسکتی ہے ۔ تہذیبیں جب بالادست اور برتر ہوکر ظلم کی راہوں پر چلتی ہیں تو پھر وہ عادو ثمود،قیصر وکسریٰ،اشتراکیت کی طرح مٹ جاتی ہیں۔اب لگتا ہے زوال نے سرمایہ دارانہ نظام کے گھر کا راستہ دیکھ لیا ہے آج نہیں تو کل وہ اس کی دہلیز پار کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔

مصنف :  عارف بہار۔
(بشکریہ :روزنامہ جسارت کراچی)

ادارہ ”سنپ“موصوف کا ہمہ تن مشکور و ممنون ہے۔
یاد آوری جاری رکھنے کی التماس۔[شکریہ]


0 : : : ----- ((( تبصرے جات ))):

Post a Comment

خوش آمدید