میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"

Monday, December 31, 2012

تہذیبی تصادم کی مغربی سازش !


فرانس میں اگر کوئی شخص دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودیوں پر ڈھائے جانے والے نازی مظالم کی حقیقت سے انکار کرے یا ان پر شبہ ظاہر کرے تو اسے ”نسل پرستی “پر مبنی جرم قرار دے کر قانونی کاروائی کی جاتی ہے ،
مگر اسی ”فراخ دل “اور”وسیع النظر“فرانس میں اہانت پر مبنی کارٹون اور خاکے شایع کرنا اظہار رائے کی آزادی کا بام بلند قرار دے کر اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ فرانس کے سیاست دان پریس کی آزادی کا ہر حال میں دفاع کرنے کا اعادہ کرتے رہتے ہیں اور یہ آزادی دراصل اس بات کی ہے کہ کسی کے مذہب پر وار کرتے وقت کچھ بھی نہ سوچا جائے ۔

 فرانسیسی اخبار”چارلی ہیبڈو“نے امریکی فلمساز کی شیطانی فلم کے ساتھ ساتھ اپنے متنازع خاکے شایع کیے تو گویا مغرب کی اس سازش کو آگے بڑھایا کہ کسی نہ کسی طور تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ زندہ رکھا جائے ۔ اس کا ایک مقصد تو بدیہی طور پر یہی ہے کہ اسلامی دنیا میں تشدد کی نئی لہر پیدا ہو اور پھر معاملات درست کرنے کے نام پر مغرب جنگ میں کود پڑے اور تصرف کو مزید مستحکم کرے ۔

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ لیبیا سے شام تک فرانسیسی حکومت نے دہشت گردی کو ریاستی سطح پر مدد اور تحفظ فراہم کیا ہے ۔مغربی سفارت خانوں ، راہ گیروں اور سفارت کاروں پر حملے کرنے والو ں کو کھل کر امداد فراہم کی گئی تاکہ وہ معاملات کو زیادہ سے زیادہ خراب کریں اور مغربی قوتوں کے  لیے مداخلت کی راہ ہموار کریں ۔یہ تو دونوں طرف کھیلا جانے والا معاملہ ہوا ۔ایک طرف تو مسلم معاشروں کے باغیوں اور شرپسندوں کو آگے بڑھنے اور حکومتوں کے خلاف بہت کچھ کرنے کا حوصلہ اور سامان دیا جارہا ہے  اور پھر جب معاملات قابو میں نہ رہیں تو مداخلت کے نام پر اپنا تصرف قائم کرنے کے لیے آگے بڑھنے کی منصوبہ بندی بھی ہے ۔ گذشتہ برس لیبیا میں ”لیبین اسلامک فائٹنگ گروپ “کو بھی فرانس نے حمایت سے نوازا جب کہ اقوام متحدہ نے اس گروپ کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے ۔

یو ایس آرمی ویسٹ کومبیٹنگ ٹیررازم سینٹر کی 2007ء کی رپورٹ کے مطابق لیبین اسلامک فائٹنگ گروپ نے القاعدہ سے ہاتھ ملا رکھا ہے ۔دونوں گروپ مل کر لیبیا میں دہشت گردی کے مرتکب ہوتے رہے ہیں ۔فرانس نے ان دونو ں گروپوں کی بھر پور مدد کی ہے ۔شام میں بھی حکومت کے خلاف لڑنے والے گروپوں کو فنڈز ، ہتھیار اور مواصلاتی ہتھیار فراہم کیے گئے ہیں ۔شام میں بہت سے گروپ محض اس لیے میدان میں ہیں کہ حالات کو زیادہ سے زیادہ خراب کر کے  مغربی طاقتوں کو مداخلت کی دعوت دینے کا جواز پیدا کیا جاسکے ۔لیبیا میں بہت سے رضا کاروں نے عراق اور شام جاکر فورسز کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا ہے ۔فرانس نے اب شام کے منحرفین کو کھل کر فنڈز اور ہتھیار فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے ، جبکہ ہیومن رائٹس واچ نے لکھا ہے کہ شام میں حکومت کے خلاف لڑنے والے کئی گروپ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں مبتلا ہیں ۔فرانس نے شام میں ہمہ گیر اور ہمہ جہت خانہ جنگی کی راہ ہموار کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔

اب فرانس کی کوشش یہ ہے کہ شام کے حکومت مخالف گروپ زیادہ سے زیادہ مغرب مخالف سر گرمیوں میں ملوث ہو ں تاکہ مغربی طاقتوں کو شام میں حملے کی ترغیب اور تحریک ملے ۔دمشق میں بگڑتی ہوئی صورتحال مغرب کے لیے بھی انتہائی پریشان کن ہے ۔فرانس ، برطانیہ اور امریکا نے لیبیا ، شام اور خطے کے دوسرے ممالک میں جن گروپوں کو حال ہی میں غیر معمولی حد تک امداد فراہم کی ہے ، ان کی نوعیت کے بارے میں سبھی جانتے تھے ۔کون نہیں جانتا تھا کہ یہ گروپ اپنے اپنے ممالک میں حالات خراب کرنے کے ذمہ دار تھے ؟

سیمور ہرش نے 2007ء میں ”نیویارک ٹائمز “کے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ایران کو نیچا دکھا نے کے لیے امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی تر جیحات بدلی ہیں ۔ لبنانی حکومت نے ایران نواز شیعہ ملیشیا ”حزب اللہ“کے خلاف اپنی پوزیشن مضبوط کر نے کے لیے سعودی حکومت سے اشتراک ِ عمل کیا ہے ۔امریکی انتظامیہ نے ایران اور شام کے خلاف براہ ِ راست بھی مخاصمانہ اقدامات کی منصوبہ بندی کی ہے ۔اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ سنی گروپوں کو زیادہ سے زیادہ تقویت بہم پہنچائی جائے ۔اسی مضمون میں سیمور ہرش نے لکھا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب مل کر شام میں بشار الاسد کی حکومت کو زیادہ سے زیادہ کمزور کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ مغربی دباؤ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوں۔

سیمور ہرش کا استدلال ہے کہ مغربی قوتیں مشرق وسطیٰ میں زیادہ سے زیادہ مداخلت یقینی بنانے کے لیے مختلف گروپوں کی مدد کرتی آرہی ہیں ۔اس معاملے میں سعودی عرب بھی ملوث رہا ہے ۔سعودی وزیر خارجہ اور امریکا میں سابق سعودی سفیر بندر بن سلطان کا کہنا تھا کہ جن گروپوں کو فنڈز اور ہتھیار دیے جارہے ہیں ، انہیں کسی نہ کسی طور کنٹرول کر لیا جائے گا ۔اس معاملے میں پروپیگنڈا بھی بہت کیا گیا ہے ۔اہل مغرب کے ذہن میں مختلف تھنک ٹینکس کے ذریعے یہ بات ٹھونسی گئی ہے کہ تبدیلی کی لہر مشرق وسطیٰ کے طول و عرض پر محیط ہے اور اس کے نتیجے میں اسلام نواز عناصر اقتدار میں آسکتے ہیں ۔اہل مغرب کو ”اسلام فوبیا“سے ڈرا کر مشرق وسطیٰ میں مداخلت کی راہ ہموار کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرق وسطیٰ میں القاعدہ کو دوبارہ قدم جمانے کا موقع فراہم کرنے میں سب سے اہم کردار خود مغربی حکومتوں نے ادا کیا ہے ۔خطے کو عوامی لہر کے ذریعے جمہوریت کی منزل تک پہنچنے سے بچانے کے لیے دہشت گردی اور تشدد کا بازار گرم کیا گیا اور حکومت مخالف گروپوں کو زیادہ سے زیادہ انتشار پھیلانے کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے ۔پروپیگنڈے کی شکل میں زیادہ سے زیادہ جھوٹ کو آگے بڑھانے اور قابل قبول بنانے میں مغربی تھنک ٹینکس اور تجزیہ نگاروں کا سہارا لیا جن میں ڈینیل پائپس، رابرٹ اسپینسر، پامیلا گیلراور ڈیوڈ ہورووز جیسے تجزیہ نگار شامل ہیں ۔

ایران اور شام میں حکومت کو کمزور کرنے کے لیے فرقہ وارانہ بنیاد پر ایک مضبوط محاذ قائم کرنے کا آغاز جارج واکر بش نے 2007ء میں کیا ۔ڈینیل پائپس اور اسی قبیل کے دوسرے نیوکونز(یعنی مذہبی بنیاد پر انتہا پسندی کو فروغ دینے والے عیسائی تجزیہ نگار) ایک مدت سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ ایران اور شام سے جنگ لڑی جائے ۔پہلے تو انہوں نے انتہا پسندی اور اسلام فوبیا کا راگ الاپ کر چند گروپ کھڑے کیے اور اب یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ ان گروپوں کو تقویت اسلام نواز ”اوباما“سے ملی ہے ۔

مغرب کے عوام بھی اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ان کی حکومتیں جو کچھ کر رہی ہیں وہ تہذیبوں کے درمیان تصادم کے نام پر اسلامی حکومتو ں سے زیادہ سے زیادہ کشمکش کی راہ ہموار کرنے اور ٹکرانے کی پالیسی کے سوا کچھ نہیں ۔جس القاعدہ کو سابق سوویت یونین کے خلاف بھر پور انداز سے استعمال کیا گیا تھا،اسے بعد میں نظر انداز کردیا گیا۔پھر جب ضرورت پڑی تو اسے مشرق وسطیٰ میں نئی زندگی بخشی گئی اور حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لیے عمدگی سے استعمال کیا گیا ۔
اور اب پھر القاعدہ کو ایسے حالات پیدا کرنے کے لیے دیدہ دلیری سے استعمال کیا جارہا ہے جو مشرق وسطیٰ میں مغربی حکومتوں کی مداخلت کی راہ ہموار کرنے میں اہم ترین کردار ادا کریں گے ۔

بارک اوباما کا دوبارہ صدر منتخب ہونا چین ، روس ، شام اور ایران کی حکومتو ں کے خلاف سر گر م گروپو ں کے لیے مزید فنڈنگ اور ہتھیارو ں کی راہ ہموار کرے گا ۔ امریکا  کسی نہ کسی طور اپنی استعماری حیثیت کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے ۔ اس کی خواہش اور کوشش ہے کہ عالمی امور میں اس کی فیصلہ کن حیثیت  بر قرار رہے ۔ ان چارو ں حکومتو ں کو مختلف محاذوں پر مخالف گروپو ں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

امریکا اور برطانیہ نے مل کر جو بین الاقوامی مالیاتی نظام تیار کیا ہے ۔اس پر وہ پوری طرح متصرف رہنا چاہتے ہیں ۔اس معاملے میں وہ چین ، روس یا کسی اور ملک کے بڑھتے ہوئے اثرات کسی بھی حال میں برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ۔امریکا میں حکومت خواہ کسی پارٹی کی ہو ، قومی ایجنڈا وہی رہتا ہے ، جو رہتا آیا ہے ۔امریکی بالا دستی کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے اور عالمی امور میں امریکا کی بات توجہ سے صرف سنی نہ جائے بلکہ اس پر عمل بھی کیا جائے ۔

 ترجمانی:   اسلامک ریسرچ اکیڈمی ۔(کراچی)
بشکریہ:   معارف فیچر۔کراچی (16،دسمبر2012)



اصل مضمون کا انگریزی متن


West Attempts to Trigger
Clash of Civilizations
In France where people are sent to jail for “Holocaust denial,” considered by law a religious hate crime, it seems strange then that well timed, raunchy cartoons designed solely to insult and inflame hate against and amongst Muslims worldwide would be defended vigorously by French politicians who claim, according to the Christian Science Monitor, that “freedom of the press should not be infringed.”With Neo-Conservative warmongers behind a recent inflammatory film titled, “The Innocence of Muslims,” and their counterparts amongst radical sectarian extremists leading violent protests across the Middle East and North Africa, it would almost seem as if the publication of insulting cartoons by a French paper, “Charlie Hebdo,” was part of a grander strategy to create a manufactured conflict between Islam and the West, setting the stage for more overt military operations to take over faltering covert operations in Syria and beyond.France (and the West) Are Playing Both Sides It is a fact that France itself has provided state sponsorship of terrorism from Libya to Syria, arming, funding, and politically backing the very groups taking to the streets, burning Western consulates, and killing bystanders, diplomats, and security forces alike. France had armed, trained, funded, and provided air support for the UN-listed terrorist outfit, the Libyan Islamic Fighting Group (LIFG) last year in Libya, in their bid to overthrow the government of Muammar Qaddafi.
 Image: Libyan Mahdi al-Harati of the US State Department, United Nations, and the UK Home Office (page 5, .pdf)-listed terrorist organization, the Libyan Islamic Fighting Group (LIFG), addressing fellow terrorists in Syria. Harati is now commanding a Libyan brigade operating inside of Syria attempting to destroy the Syrian government and subjugate the Syrian population. Traditionally, this is known as “foreign invasion.” France is one of a handful of nations currently leading state-sponsorship of terrorist groups like LIFG in Syria.


LIFG had merged officially with Al Qaeda, according to a US Army West Point Combating Terrorism Center report in 2007, long before the French knowingly aided and abetted these terrorists in their bid to overthrow and overrun Libya. Currently, the government of France is funding and arming these very same terrorists, who promptly transferred weapons, cash, and fighters to Syria to begin terror operations there.

The report titled, “Al-Qa’ida’s Foreign Fighters in Iraq” stated specifically:
The apparent surge in Libyan recruits traveling to Iraq may be linked the Libyan Islamic Fighting Group’s (LIFG) increasingly cooperative relationship with alQa’ida, which culminated in the LIFG officially joining alQa’ida on November 3, 2007. (page 9, .pdf)
France had recently announced its intentions to overtly arm these terror groups operating in Syria, now exposed by Human Rights Watch as carrying out systematic and widespread atrocities against the Syrian population.

The Hindu, in their article, “France to fund opposition in Syria,” reported:
“Reuters quoted a “diplomatic source” as saying France had started supporting parts of Syria that are apparently being controlled by the armed opposition. More alarmingly, the report pointed out that Paris was considering supplying heavy artillery to anti-government fighters — a move that would harden the possibility of a full-blown civil war in the country.”

Now France, through its media, and the complicity of its politicians’ tacit support, is providing their new terrorist allies with something else – a causus belli for confrontation with the West to reinsert in the public’s mind the adversarial plot device needed to introduce more direct military intervention where the covert support of listed-terrorist groups has now seemingly failed.

The Lie We Are Expected to Believe
What we are now expected to believe is that France, the US, UK, and other nations were benevolently, and unwittingly helping these groups into power, only to be betrayed by extremists.

In reality, the nature of these militant groups was known years in advance, these groups specifically chosen to lead the violent subversion of Western targets across the Arab World – with the possibility of sectarian genocide and significant blowback acknowledged as an acceptable risk.
In 2007, an article by Seymour Hersh published in the New Yorker titled, “The Redirection” admitted that:

“To undermine Iran, which is predominantly Shiite, the Bush Administration has decided, in effect, to reconfigure its priorities in the Middle East. In Lebanon, the Administration has coöperated with Saudi Arabia’s government, which is Sunni, in clandestine operations that are intended to weaken Hezbollah, the Shiite organization that is backed by Iran. The U.S. has also taken part in clandestine operations aimed at Iran and its ally Syria. A by-product of these activities has been the bolstering of Sunni extremist groups that espouse a militant vision of Islam and are hostile to America and sympathetic to Al Qaeda.” -The Redirection, Seymour Hersh (2007)

Hersh’s report would also include:
“the Saudi government, with Washington’s approval, would provide funds and logistical aid to weaken the government of President Bashir Assad, of Syria. The Israelis believe that putting such pressure on the Assad government will make it more conciliatory and open to negotiations.” -The Redirection, Seymour Hersh (2007)

Clearly the West, including the complicit regimes of Nicolas Sarkozy and now François Hollande, knowingly funded terrorists. Hersh’s report admits that all parties involved even in 2007 knew full well the potential dangers involved in funding terrorist groups but believed these forces could be controlled:

“…[Saudi Arabia's] Bandar and other Saudis have assured the White House that “they will keep a very close eye on the religious fundamentalists. Their message to us was ‘We’ve created this movement, and we can control it.’ It’s not that we don’t want the Salafis to throw bombs; it’s who they throw them at—Hezbollah, Moqtada al-Sadr, Iran, and at the Syrians, if they continue to work with Hezbollah and Iran.” -The Redirection, Seymour Hersh (2007)

For the West to feign that evidence Al Qaeda is now overrunning the Middle East is somehow an unintended consequence, when officials in 2007 were on record already implementing such a policy is indeed a bold lie. To help sell that lie, the West is calling on its Neo-Conservative factions, and in particular, dusting off their Islamophobia brigades led by the likes of Daniel Pipes, a Project for a New American Century (PNAC) signatory and a chief proponent for war with Syria and Iran, as well as lesser demagogues such as Robert Spencer, Pamella Geller, and David Horowitz.

The creation of a sectarian extremist front to undermine and destroy the governments of Syria and Iran began under Bush in 2007 – Syria and Iran being the specific targets Neo-Cons like Pipes have ceaselessly advocated war with. That Pipes and his compatriots are now claiming the rise of this terrorist front they themselves helped create  is somehow the result of a “pro-Islam Obama” is immense propaganda designed for the most impressionable minds.

The Plan: Flip the Script (Again)
In reality, Obama provided left-cover for a singular corporate-financier driven agenda, decided upon decades ago, and part of the reoccurring patterns and themes that define all empires past and present.

It appears that the public is becoming increasingly aware that the US has just handed the nation of Libya over to sectarian extremists and is backing brigades of these same terrorists, now operating in Syria. The operation in Syria seems to have reached a stalemate, with the further arming and backing of increasingly visible terrorist forces a politically untenable option.

It appears that the alternative plan is to flip the script once more, turning Al Qaeda – who began as celebrated freedom fighters battling Soviets in the mountains of Afghanistan, to reviled terrorists waging a decade of war on America in Iraq and Afghanistan, to freedom fighters seeking to oust Qaddafi and President Bashar al-Assad, to once again back to reviled, embassy attacking, ambassador-killing thugs.

Seemingly fully committed to tipping off a “clash of civilizations,” the ground is being prepared for false flag attacks and preparing public opinion for more direct military intervention in places like Syria and Iran. The failures of the last four years of corporate-financier driven policy is being compartmentalized around Obama and will be flushed with his presidency either in 2012, or 2016 with the hopes that the agenda itself will survive and carry on.

An Obama win in 2012 would allow the West to continue funding terrorists more openly worldwide against the governments of Syria, Iran, and even Russia and China – blaming it all on “Pro-Islam Obama.” A Romney victory would allow more aggressive, direct military intervention. Either way, the nations of Syria, Iran, Russia, and China will continue to find themselves in the firing line of both covert and overt foreign military aggression.

The overall agenda is global corporate-financier hegemony, the destruction of the nation-state, and the primacy of Wall Street-London dictated “international law” for an “international order” corporate-financier think-tank policy maker Robert Kagan concedes “serves the needs of the United States and its allies, which constructed it.”

By recognizing the singular agenda front-men like Bush, Obama, and Romney cover for, we can expose the corporate-financier special interests truly dictating Western policy. By understanding that it is corporate-financier interests, not politicians, that drive these nefarious, overarching agendas, we can formulate solutions based upon undermining and replacing their power and influence, rather than becoming absorbed in short-sighted political battles that ultimately change only the front-men, not the agenda itself.
*      *      *
Author: -     Tony Cartalucci                      


ادارہ ”سنپ“موصوف کا ہمہ تن مشکور و ممنون ہے۔
یاد آوری جاری رکھنے کی التماس۔[شکریہ]


0 : : : ----- ((( تبصرے جات ))):

Post a Comment

خوش آمدید