میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"

بیت الخلاء نہیں تو شادی نہیں

No toilet No bride !!!
دمکتے  بھارت کے شہروں اور دیہاتوں میں اکثر مشترکہ بیت الخلا میں جانے والوں کی لمبی قطاریں دکھائی دیتی ہیں ، جنہیں دیکھ کر حقوق نسواں اور انسانی حقوق کی تنطیموں نے بھارت میں ایک مہم کا آغاز کردیا ہے ۔

No Toilet No Bride کے نعرے سے حال ہی میں بھارت میں چلائی جانیوالی اس مہم کو’’انقلابی مہم‘‘ بھی کہا جا رہا ہے اور لوگوں میں گھروں کے اندر باتھ روم بنانے کا رواج پیدا ہو رہا ہے ۔
ایک اندازے کے مطابق بھارت کے 660 ملین لوگ اپنے گھروں میں ٹی وی سیٹ تو رکھتے ہیں لیکن ان کے گھروں میں باتھ روم کی سہولت موجود نہیں ہے جبکہ 6 کروڑ 60 لاکھ افراد گھروں میں اس بنیادی سہولت سے محروم ہیں ۔
بھارت میں گھروں کے اندر بیت الخلاءکی عدم موجودگی خواتین کے لئے ایک گھمبیر مسئلہ بن گیا ہے  اور ان کے لئے کمیونٹی ٹوائلٹ استعمال کرنا باعث شرمندگی ہے جس کی وجہ سے اب لڑکیاں ان لڑکوں سے شادی کرنے کے لئے انکار رہی ہیں جنکےگھروں میں بیت الخلا کی سہولت موجود نہیں ہے ۔
بھارتی ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے مطابق حکومتی فنڈز اور سپورٹ سے بھارت کی شمالی ریاست ہریانہ میں تقریبا 4.1 ملین ٹوائلٹ  تعمیر کئے جا چکے ہیں۔
بھارت کے گھروں میں  باتھ روم  نہ ہونے کی  وجہ سے جہاں لڑکیاں  شادی کرنے  سے انکار کرتی ہیں وہاں ان کے ماں باپ بھی ایسے گھر میں اپنی بیٹی کا رشتہ کرنے سے انکار کرتے ہیں جہاں بیت الخلا ءکی سہولت موجود نہ ہو۔
دوسری جانب بھارتی حکومت  نےبھی تقریبا 4 سال سے ٹیلی وژن، ریڈیو، اشتہارات، بوسٹرز اور بینرز کے ذریعے لوگوں میں مسلسل  آگاہی پیدا کرنا شروع کردی ہے جس کی وجہ سے بھارت کے بیشتر صوبوں خاص طور پر ہریانہ میں لوگوں کے اندر یہ شعور بڑھ رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار :  ساگر سہندیرو۔
ادارہ’’سنپ‘‘ صاحب مضمون کا ہمہ تن مشکور و ممنون ہے۔یاد آوری جاری رکھنے کی التماس۔[شکریہ]