میرا پیغام محبت ، امن اور مساوات تمام انسانیت کے لیے ۔ منجانب "فرخ صدیقی"

Sunday, March 27, 2011

سچ کی تلاش

’’اس کو مکمل پڑھیے  شاید وہ آپ ھی ھوں‘‘
آج پھر اس نے اپنا وہی دیرینہ سوال دہرایا تھا اور میں آج پھر حسب دستور کنی کترا کے نکل آیا تھا وہ اکثر مجھے اسی طرح ملا کرتا تھا دہراہے پر ،بس اسٹاپ پر ،پان کے کھوکھے پر یا پھر کہیں بھی جہا ں اس کا گمان بھی نہ ہو ایک دفعہ تو حد ہوگئی وہ مجھے مسجد کے دروازے پر نظر آیا لیکن وہ نماز پڑھنے نہیں آیا تھا بس مسجد کے دروازے پر کھڑا لوگوں کو دیکھ رہا تھا اور اس سے زیادہ حیرت مجھے اس وقت ہوئی جب مجھے دیکھنے کے بعد بھی مجھ سے کچھ استفسار تک نہ کیا ورنہ مجال ہے کہ میں اسے نظر آجاؤں اور وہ مجھے یوں ہی جانے دے ..توبہ کرو!
وہ کو ن تھا انسان تھا ،جن تھا ، کوئی مرد قلندر تھا یا کوئی فرشتہ وہ کہاں سے آیا تھا اس کی جائے سکونت کیا تھی اور کہاں تھی اور اس کا ذریعہ معاش کیا تھا حتیٰ کہ مجھے اس کا نام تک پتہ نہیں تھا کہ وہ کون تھا لیکن وہ میرے بارے میں کافی کچھ جانتا تھا مجھے اس پر بھی حیرت تھی کہ اسے میرے بارے میں اطلاعات کون فراہم کرتا تھا جب کہ میری کسی سے دوستی بھی نہیں تھی ۔ایک بات اورکہ جتنی بار میں نے اس کا نام جاننے کی کوشش کی ہر بار الجھ گیا اور کچھ معلوم نہ کر سکا ابھی پچھلی ملاقات میں میں نے پکا ارادہ کر لیا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے میں اس کا نام ضرور معلوم کروں گا اور جب میں نے اس سے اس بات پر اصرار کیا تو کہنے لگا جب بغیر نام کے کام چل رہا ہے تو نام بتانے کا فائدہ اور پھر یوں بھی نام میں کیا رکھا ہے وہ تو ہر جگہ بدلتے رہتے ہیں کوئی ایک ہو تو بتایا بھی جائے اس وقت مجھے لگا کہ وہ اس دنیا کی مخلوق ہی نہ جس اندا ز میں اس نے یہ بات کہی تھی وہ انداز بڑ ا عجیب ساتھا جیسے یہ بات وہ مجھ سے نہیں کسی اور سے کہہ رہا ہو ایک لمحے کے لئے تو مجھے لگا کہ جیسے وہ کوئی جن ہو ۔ جنات کے بھی نام ہوتے ہیں منصور میاں لیکن ہمارا تو سرے سے کوئی نام ہی نہیں ہم بتائیں بھی تو کیا میں اس کی بات سن کے گڑ بڑا گیا کہ اسے کیسے پتہ چلا کہ میں اسے جن سمجھ رہا ہوں۔۔۔لیکن پھر بھی انسان کا کوئی نہ کوئی نام تو ہوتاہی ہے نہ اب بتاؤ کہ اگر ضرورت پڑ جائے تو میں آپ کو کس نام سے پکاروں ؟ اس کی کبھی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی میں تمہاری پکار سے پہلے ہی تمہارے پاس موجود ہوں گا۔
دیکھومیاں! بقول تمہارے تم ایک کمپیوٹر آپریٹر ہو یہ ایک تمہارا پیشہ ور نا م ہے ،دوسرے تم ایک انسان بھی ہو یہ تمہارا ایک نوعی نام ہے تیسرا یہ کہ تم ایک آدمی ہو مرد ہو اسے تم ایک اپنا جنسی نام کہہ لو پھر یہ کہ ایک تمہارا شناختی نام ہے جو تمہار ے بڑوں نے رکھا ہوگا اور بچپن میں بھی تمہیں کسی نہ کسی نام سے پکارا جاتا ہوگا اب بتاؤ کہ تمہارے کتنے نام ہوگئے ؟ لیکن با با۔۔۔بابا نہیں میں ابھی اس قابل نہیں ہوں اس نے فوراً مجھے ٹوک دیا ۔میں نے جھوٹ کہا اب دیکھو تمہارے نام کی ضرورت پیش آئی کہ نہیں ؟ اسی لئے کہتا ہوں مجھے وہ نام بتاؤ جو تمہارے بڑوں نے تمہار ارکھا تھا ؟ لیکن بابو میرا تو کوئی بڑا ہے ہی نہیں بس ایک ہی بڑا ہے اور وہ جس نام سے چاہے پکار لی۔حد ہو گئی یا ر …..مجھے بھی غصہ آگیا ۔۔۔ہاں اب تو حد ہو ہی گئی ۔اور یہ حد تم نے خود ہی توڑی اور ختم کردی ہے ۔ گمنامی کی حد بے نامی کی حد ابھی ابھی تم نے مجھے کیا کہا ہے ؟ میں پھر پریشان ہوگیا ۔۔۔یار تمہیں غصہ آتا ہے ؟ وہ قہقہ مار کر ہنسا غصہ کس پر تم پر؟ وہ ایک بار پھر ہنسا۔تمہارے اندر غصہ کرنے والی ہے ہی کیا چیز جس پر غصہ آئے بہرحال تم نے جو نام مجھے ابھی ابھی دیا ہے وہ مجھے پسند آیا ہے آئندہ تم مجھے اسی نام سے پکاروگے۔۔۔لیکن میں نے تو کوئی نام نہیں دیا ۔دیا ہے ،دیا ہے، یاد کرو،کیا یاد کروں؟ دیا کو، یاد کرو ،دیا کو الٹا کرو تو یاد آجائے گا۔۔۔دیا کو الٹا!!! اور اک دم مجھے حیر ت کا جھٹکا لگا دیا کو الٹا کرنے سے تو یاد بنتا ہے تو وہ مجھے کیا یاد کروا رہا ہے؟یاد نہیں کروا رہا پڑھا رہا ہوں اسی لئے تو مجھے تم سے انسیت ہے کہ تم بہت بھولے بھالے ہوپھرایک دم وہ میرے بالکل قریب آگیا اور منہ پہ انگلی رکھ کر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے ادھر ادھر دیکھنے لگا پھر بڑے رازدارانہ انداز میں مجھ سے کہنے لگا پتہ ہے یہاں کتنے کم انسان بچے ہیں ۔بہت کم انسان رہ گئے ہیں اور تم بھی ان میں سے ایک ہو اسی لئے میں نے تمہیں تاڑا ہے۔
ہا ہا ہاہا!!!وہ بڑے زور سے ہنساپھر اچانک میرے قریب آیا اور سرگوشی میں کہنے لگا دیکھو تم مجھے اسی نام سے پکارو گے مجھے اچھا لگا !۔۔مگر کس نام سے میں اور الجھ گیا ۔۔۔یا ر یار یار ! تم نے ابھی تو مجھے یار کہا ہے ہاں میں تمہار ا یار ہوں ہاں یہ ٹھیک رہے گا بالکل ٹھیک بس پکا ہوگیا کس سے پوچھ رہے ہو ؟ بس ختم کرو آج سے میں تمہار یار ہو ں مگر یار تو عجیب سا لفظ ہے میں نے کہا ۔میرا یہ مطلب تھوڑی تھا چلو یار کو تھوڑا سا شائستہ کر کے دوست کرلو یہ تو ٹھیک رہے گا ہاں یہ کچھ بہتر ہے میں نے کہا ۔اچھا اب میں چلوں گا وہ نکل رہا ہے کون نکل رہا ہے ؟ لیکن میرے کہنے سے پہلے ہی وہ دوڑ پڑا تھا۔
اس کا آنا اور جانا ایسا ہی تھا وہ اکثر مجھ سے ایک سوال پوچھا کر تا تھا کہ تو یہاں کیوں آیا ہے ؟ اب ظاہر میں اس کو کیا جواب دیتا میں اس سے کہتاتھا مجھے کیا پتا …..پتا کر پتا، ایسے ہی نہ چلے جانا پر کس سے پوچھو ں!!!آپ ہی بتادو با با مجھےحکم  نہیں ہے ابھی یہ کام تمہیں خود ہی کرنا پڑے گا یہ ایک نظام ہے اس میں ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔
پھر ایک دن مجھ سے ایک عجیب بات کہنے لگا پتا ہے دنیا میں کتنے انسان ہیں میں نے کہا ہاں پتا ہے چھ کھرب …کہنے لگا نہیں وہ تو جانور ہیں انسان تو صرف چھ ہزار ہیں اور اس میں سے بھی مردکچھ کم ہی ہیں میں نے کہا یہ اطلاعات تمہیں کہاں سے ملتی ہیں پھر بجائے اس کے کہ وہ میرے سوال کا جواب دیتا الٹا اس نے میرے ذمہ ایک کام لگا دیا کہنے لگا تو مجھے پتا کر کے بتائے گا کہ یہاں کتنے لوگ سچ بولتے ہیں پھر ایک دم میرے پاس آکے بولا تو سچ بولتا ہے ؟ پھر خود ہی کہنے لگا بولے گا بولے گا تو سچ ہی بولے گا ۔بعض دفعہ اس کی باتیں مجھے سخت طیش دلاتی تھیں بعض دفعہ بور کر تی تھیں اب جو کام اس نے میرے ذمہ لگا یا تھا خاصہ مشکل تھا ایک دفعہ تو میں نے سوچا میں یہ سب کچھ اس کے لئے کیوں کر رہا ہوں ؟ جب کہ اس نے آج تک اپنا نام تک نہیں بتا یا اور یہ کام بھی خاصہ مشکل تھا میں کیسے کسی انسان کے سچ جھوٹ کا پتا لگا سکتا ہوں ۔پھر مجھے خود ہی ایک تجسس پیدا ہوا کہ چلو ایک ایڈ ونچر ہی رہے گا دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ٹھیک ہے دوست اس دفعہ تیرا مخبر میں بنوں گا۔
پھر میں نے لوگوں کو کئی زاویوں سے پرکھا ،جانچا، معلومات کیں کئی دن کی بھاگ دوڑ کے بعدبھی مجھے ایک شخص ایسا نہیں ملا جو صرف سچ بولتا ہو پھر دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں بدلنے لگے اور مجھ پر ایک جیسے جنون سا طاری ہوگیا کہ میں اسے کم سے کم ایک ایسے شخص کا پتہ ضرور دوں گا جو سچا ہو مگر اس وقت میرے حواس پر سناٹا چھا گیا جب ہفتوں نہیں مہینوں کی محنت کا پھل مجھے صفر کی صورت میں ملا ۔ وہ مہینوں تک نہیں آیا میں روز اس کا انتظار کرتا مگر اسے شاید میرے انتظار سے لطف آنے لگا تھا ۔ ایک وقت تھا کہ میں اس سے بیزار رہتا تھا اور ایک یہ وقت ہے کہ مجھے اس کا شدت سے انتظار رہنے لگا تھا ۔ مگر وہ نہیں آیا لیکن میں اپنے مشن پر لگا ہوا تھا میں اس کام کے لئے مسجدوں میں گیا ،اماموں سے ملا موذنوں سے ملاقات کی نمازیوں سے ملا لیکن جواب ندارداب میرا اگلا مشن عملیات کے ماہر وہ لوگ تھے جو بڑے بڑے دعوے کرتے تھے اپنی سچائی او ر عملیات کے لیکن سب خالی تھے اب میرے سامنے صرف ایک میدان رہ گیا تھا اور وہ تھے وہ لوگ جو اپنے آپ کو کسی نہ کسی کا گدی نشین کہتے تھے ان میں مجھے بہت اچھے لوگ بھی ملے مگر جس کی مجھے تلاش تھی وہ نہ ملا ۔
یا میرے خدا ایک دن میں حقیقتاً اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔
اور پھر بڑی شدت سے یہ سوال میرے اندر سے ابھرا کہ کیو ںواقعی؟ کیا واقعی اس دنیا میں ایک بھی سچا انسان نہیں بچا مجھے اپنے دوست کی بات شدت سے یاد آنے لگی کہ دنیا میں صرف چھ ہزار انسان ہیں اس کی پرکھ کا معیار کیا تھا اور اسے یہ کس نے بتایا تھا کہ دنیا میں صرف چھ ہزار انسان ہیں اس کا سورس آف انفا رمیشن کیا تھا اس وقت میرے اندر ندامت کا بڑا کثیف احساس پیدا ہوا کہ اپنے دوست کو ایک انسان بھی دینے میں کامیاب نہ ہو سکا کاش ۔۔۔کاش ۔۔۔کوئی ایک تو ہوتا جو سچا ہوتا کوئی ایک بھی نہیں ہے پھر اچانک میں نے ایک عجیب فیصلہ کر ڈالا ۔
آج صبح سے ہی میں اپنے اس فیصلہ پر عمل کرنے کی ٹھان لی تھی اسی لئے آج میں جلدی اٹھا فجر کی نماز جماعت سے پڑھی اور پھر ساری نمازیں لگا تار پڑھتا ہی گیا اور عشاء کے بعد ہلکا کھانے کھا کر جلدی سو گیا کیوں کہ میرا اصل ہدف رات ساڑھے تین بجے کا وقت تھا اور مجھے اپنے مشن کے سب سے آخری حصے پر عمل کرنا تھا یہ ایک انوکھا اور اچھوتا خیال تھا جو مجھے اچانک آیا تھا اور اس تجربے کو بھی میں نے ایک ایڈونچر ہی کے طور پر لیا تھا لیکن شاید اس نے مجھے ایڈونچر کے طور پر قبول نہیں کیا تھا پھر اس خیال کا محرک ایک اور خیال بھی تھا جس نے مجھے اس پر اکسایا تھا کیونکہ میرا ایمان اب ڈگمگانے لگا تھا مجھے شدت سے یہ خیال تنگ کر رہا تھا کہ کیا واقعی خدا ہے بھی (معاذ اللہ ) یا یہ بھی بس لوگوں کا بنایا ہوا ایک امیج ہی ہے اگر ایک بھی شخص دنیا میں سچا نہیں ہے تو خدا کہاں ہے یہ دنیا کیسے چل رہی ہے میں نے تو بچپن میں سنا تھا کہ چالیس ابدال دنیا میں ہر وقت مو جود رہتے ہیں وہ کدھر ہیں ؟ اگر دنیا سے سچ مکمل طور پر ختم ہوگیا ہو تو دنیا کا وجود کیوں کر ممکن ہے ؟ اور ان سارے سوالوں کے جوابات میرے مشن کے اسی حصے پر انحصار کئے ہوئے تھے در اصل میں نے اپنا کام خود خدا کے سر ڈال دیا تھا اس سے مجھے دو فائدے تھے ایک تو میں اس گمان کے ایمان تک پہنچ جاتا کہ آیا خدا کا وجود ہے بھی یا نہیں اور یہ کہ وہ اپنے بندوں کی سنتا بھی ہے کہ نہیں اگر نہیں تو سرے سے اس سوال کی بھاگ دوڑ ہی بیکار تھی ان دونوں چیزوں نے مجھے اپنے مشن کی اس کسوٹی پر لا کھڑا کیا تھا جہاں میں اس سے پہلے کبھی نہیں آیا تھا میں جلدی سو گیا کیوں کہ آج سے مجھے تہجد کی نماز میں اللہ سے ایک ایسے بندے کو مانگنا تھا جو سچا ہو ۔ تھی نہ کیسی انوکھی دعا کیوں کہ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ رات کے آخری پہر اللہ تعالی آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ مانگ میرے بندے مجھ سے کیا مانگتا ہے میں تیرے قریب ہو ں یہی مانگ مجھے اس مقام تک لے آئی تھی لیکن مجھے 90فیصد امید تھی کہ میں ناکام رہوں گا صرف 10فیصدامید کے سہارے چل پڑا تھا آج تہجد کی نماز پڑھتے ہوئے یہ میرا تیسرا دن تھا گو کہ یہ بہت ہی کٹھن کام تھا لیکن میں ایک موہوم سی امید اور ایک چیلنج کے طور پر یہ کام کر رہا تھا لیکن یہ کٹھن کام میر ے لئے آہستہ آہستہ مکھن ہوتا جا رہا تھا اور مجھے اس میں مزا آنے لگا تھا اسی طرح ایک ہفتہ گزر گیا اور مجھے پتہ ہی نہ چلا ایک دن مجھے میرے دوست کی شدت سے یاد آئی اس یاد کے ساتھ ہی اس کا سوال بھی یاد آیا اور اس سوال کی ڈور پکڑ کر میں اپنے موجودہ آج تک پہنچا تو مجھے احساس ہوا کہ مجھے نماز پڑھتے ہوئے کتنا عرصہ گزر گیا ہے یہ حساب تو ہفتوں تک نہیں بلکہ مہینوں تک پہنچ گیا تھا اور اب مجھ پر عجیب سی ایک سرور کی کیفیت ہر وقت چھائی رہتی تھی مجھے اس حالت میں کئی مہینے گزر گئے اور پھر نہ جانے کتنا وقت گزر گیا مجھے اس کا اندازہ بھی نہیں رہا اب میں اپنے اندر ایک واضح تبدیلی محسوس کر رہا تھا مجھے برائی سے جیسے نفرت سی ہو چلی تھی اور عام سی باتوں میں بھی اپنے آپ کو تولنا شروع کر دیا تھا کہ کیا سہی ہے او ر کیا غلط ہے آہستہ آہستہ ایک غیر محسوس انداز سے میں برائیوں سے دور ہوتا جا رہا تھا میرا مشن اور وہ سوال میرے ذہن میں کہیں بہت پیچھے چلا گیا تھا بلکہ شاید میں اسے ایک طرح سے بھول ہی چکا تھا کہ ایک د ن وہ واقعہ ہوا جس نے میری زندگی کا رخ ہی تبدیل کر دیا ۔
آج ہفتہ تھا ہمارا اووٹائم ہر ہفتے کے ہفتے ملا کرتا تھا تنخواہ مہینے بعد ملتی تھی آ ج میں زرا دیر سے آفس سے نکلا تھاکیونکہ مجھے اوورٹائم کے پیسے ملے تھے اس کا حساب کتاب کرنے میں زرا دیر ہوگئی تھی ورنہ میں جلدی فارغ ہو جاتا تھا میں اپنے کام سے فراغت کے بعد گھر آرہا تھا کہ راستہ میں کچھ بھیڑ دیکھی میں رک گیا کہ پتہ نہیں کسی کا ایکسڈنٹ ہوگیا ہو لیکن جب قریب گیا تو مجھے حیرت کا ایک ایک شدید جھٹکا لگا اور میرے لئے یہ منظر دیکھنا جیسے قیامت جیسا تھا میں نے دیکھا کہ میرا دوست وہ بابا لوگوں کے درمیان گِھرا کھڑا تھا اور لوگ اسے مار رہے تھے مجھے اچانک جیسے ہوش آگیا میں بھیڑ کو چیرتا ہوا درمیان میں پہنچا اور چیختے ہوئے لوگوں کو پرے ہٹایا ایک شخص نے کہا کہ یہ چور ہے اس نے میری جیب کاٹی ہے میں نے کہا کہ میں انہیں جانتا ہوں یہ چور نہیں ہیں آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے مگر اور لوگوں نے بھی اس کی تائید کی اور کہنے لگے باؤجی یہ ٹھیک کہ رہا ہے یہ شخص جیب کترا ہے یہ ایسے ہی بنتا ہے ۔میں نے کہا آپ میرے بات کا یقین کریں میں سچ کہ رہا ہوں یہ ایسے نہیں ہیں ..او تو کوئی فرشتہ ہے یا آسمان سے اترکر آیا ہے میری بات کا یقین کریں بڑا آیا سچ بولنے والا ۔اگر تو اتنا ہی سچا بنتا ہے تو اس کا نقصان پورا کردے جس کی اس نے جیب کاٹی ہے ۔۔۔ میری بات کا یقین کریں کا بچہ اور سب لوگ میرے بات پر قہقہے لگاکر ہنسنے لگے اور میں اپنے آپ کو بڑا بودا ، اکیلا اور بے وقوف محسوس کرنے لگا میرے اندر ایک لاوا سا ابلا کہ میں ان لوگوں کا منہ توڑ دوں جو مجھے جھوٹا کہہ رہے ہیں میرا دوست ایسا ہی ہے ،نہیں مگر پھر میں نے اس غصہ کا رخ اپنی طرف ہی موڑ دیا ٹھیک ہے اگر یہ لوگ مجھے جھوٹا کہتے ہیں اور سچا نہیں سمجھتے لیکن میں انہیں سچا بن کے دکھاؤں گا او رمیں نے کھڑے ہی کھڑے دل ہی دل میں اپنے رب سے ایک عہد کیا کہ میرے رب چاہے کچھ ہی ہوجائے تو گواہ رہنا میں آج کے بعد جھوٹ نہیں بولوں گا ۔۔۔ او باؤ جی ۔۔۔کیا سوچ رہے ہو؟؟؟ پیسوں کی بات آئی تو سوچ میں پڑ گئے آپ اس کو سچا کہہ رہے ہو تو اس غریب کے پیسے آپ دے دو ۔۔۔ٹھیک ہے میں نے کہا کتنے پیسے ہیں چھ ہزار روپے ہیں، جی چھ ہزار ….اتفاقاً اس وقت میرے پاس چھ ہزار روپے ہی تھے جو میں میری اوور ٹائم کی کل کمائی تھی میں نے وہ چھ ہزار نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھے او ر بابے کو لے کر گھر آگیا ۔
بڑاسچا بنا پھر تا ہے باہر والوں پر غصہ کرتا ہے اندر والے سے پیار کرتا ہے اندر والے کو مار باہر والے خود ہی مر جائیں گے وہ مجھ پر گرم ہوگیا عجیب انسان تھا بجائے اس کے کہ میرا احسان مانتا الٹا مجھ ہی کو لتاڑ رہا تھا ۔بابا پھر بابا پھر بابا میں نے تجھ سے کہا ہے نہ کہ میں تیرا یار ہوں بس تو مجھے یار کہا کر۔۔۔بھول گیا تھا اتنے دن بعد جو ملے ہو کہاں تھے؟ لوگوں کی جیبیں کاٹ رہا تھا جیبیں کاٹوں گا تو کچھ ملے گا نا۔۔۔کیا کیا تھا آپ نے وہ لوگ آپ کو کیوں مار رہے تھے ؟ جیب کاٹی تھی میں نے اس کی اور کیوں مار رہے تھے سنا نہیں تھا تو نے وہ کیاکہہ رہے تھے چور ،جیب کترا ۔۔۔ ہاہاہاہاہا وہ پھر ہنسنے لگا   ۔۔۔تم نے جیب کاٹی تھی میں حیرت زدہ رہ گیا کیوں کاٹی تھی تم نے اس بے چارے کی جیب؟تیری خاطر ہاں ہاں تیری خاطر پھر وہ اچانک میرے قریب آیا اور بڑے راز دارانہ انداز میں کہنے لگا یہ دیکھ یہ دیکھ پورے چھ ہزار روپے ہیں اس سے تیرا کام چل جائے گا نا ہاں ہا ں چل جائے گا ابھی تجھے کیا پتا چل چھوڑ یہ رکھ لے پور ے چھ ہزار ہیں صرف چھ ہزار انسان ہی بچے ہیں اب شاید وہ راضی ہو جائیں  ۔۔۔ اچھا ابھی مجھے او ر کام بھی کرنے ہیں جا رہا ہوں پھر ملوں گا یہ کہتے ہی وہ فوراً دروازہ کھول کر باہر نکل گیا ۔ میں فوراً دروازہ کھول کر اس کے پیچھے لپکا آج میں اسے ایسے ہی نہیں جانے دینا چاہتا تھا بہت کچھ پوچھنا تھا میں نے اس سے لیکن باہر تو ہو کا سناٹا تھا باہر کسی ذی روح کا نام و نشان تک نہ تھا نہ کوئی دیوار تھی نہ کوئی درخت تھا نہ کوئی مو ڑ تھا یا الٰہی اتنی جلدی وہ گیا کہاں ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہیں تھا اس کے اور میرے باہر آنے میں اور یہ پہلا اتفاق تھا جب وہ باقائدہ میرے ساتھ میرے گھر آیا تھا ورنہ ہمیشہ وہ مجھے باہر ہی ملا کرتا تھا ۔
میں بوجھل قدموں سے واپس اندر آیا میری طبیعت بوجھل ہو گئی تھی اور اب مجھے کچھ کچھ اس کی سمجھ آنے لگی تھی وہ اس دنیا کا باسی تھا ہی نہیں نہ جانے اس کا تعلق کائنات کے کس کس گوشے سے تھا یا شاید وہ پھر کئی کائناتوں کا باسی تھا کئی کائناتوں کا کام اس کے ذمے تھا اور وہ ہر وقت شاید اپنی ڈیوٹی پر ہوتا تھا جبھی وہ اتنی جلدی میں ہوتا تھا مجھے بچپن میں کسی کتاب میں پڑھا ہوا یک مضمون یاد آگیا جس میں ایسے لوگوں کو جن کا تعلق براہ راست اس کائنات کے نظام سے ہوتا ہے اہلِ تکوین کہتے ہیں وہ شاید اہلِ تکوین کے کسی شعبے کا فرد تھا یا اللہ تو کیا اب تک میں کسی ایسے شخص سے ملتا رہا ہوں جو اس کائنات کا کو ئی ایک بہت اہم رکن ہے کوئی ابدال، قطب یا پھر غوث میرا دماغ سن ہونے لگا اور میں اندر آکر بیٹھ گیا میرے سامنے اس کے دئیے ہوئے چھ ہزار روپے رکھے تھے وہ کہیں سے بھی جیب سے نکالے ہوئے نہیں لگ رہے تھے اس میں کچھ ریز گاری بھی تھی کوئی جیب کترا جیب سے ریز گاری کیسے نکال سکتا ہے میں نے سوچا ۔بہر حال کچھ نہ کچھ بھید تو تھا میں نے آج رات جاگ کر گزارنے کا فیصلہ کیا کیوں کہ کل ویسے بھی اتوار تھا چھٹی تھی میں نے وہی ریز گاری اٹھائی جو تقریباً 50 روپو ں پر مشتمل تھی اور باہر نکل آیا میں نے ایک ڈبل روٹی اور دودھ لیا اور واپس آگیا دودھ سے ڈبل روٹی کھانے بیٹھا تو ایک عجیب سا احساس ہوا کہ جیسے یہ دودھ اور ڈبل روٹی مجھے کسی نے بھیجی ہے اس میں میری اپنی مرضی شامل نہیں ہے اور اس کا مزہ مجھے غیر معمولی لگا ورنہ وہی دودھ تھا جو میں روز استعما ل کرتا تھا اور وہی ڈبل روٹی تھی جسے میں اکثر خریدتا تھا مگر آج اس کے مزے میں زمین آسمان کا فرق تھا یا خدا یہ کیا اسرار ہے بہر حال یہ سب میں نے اپنے اللہ پر چھوڑ دیا اور چائے پینے کے بعد میں نوافل پڑھنے کھڑا ہوگیا ۔۔۔
وہ لطف اور وہ سرور اور وہ کیفیت الفاظ اور قیل و قال سے بال تر تھی جس میں میں آج گرفتار ہوگیا تھا نوافل تو میں روز ہی پڑھتا تھا مگر یہ لذت کبھی بھی پیدا نہیں ہوئی تھی جو آج مجھے محسوس ہو رہی تھی جی چاہتا تھا کہ کائنات کی رفتار تھم جائے اور میں ابد تک اسی طرح اپنے رب کے سامنے موجود رہوں اور مناجات کرتا رہوں نماز سے زیادہ لطف مجھے مناجات کرنے میں آرہا تھا میں اپنے ر ب سے باتیں کر رہا تھا او ر جیسے وہ میری باتیں سن رہا تھا سارے پردے گر چکے تھے بس وہ تھا اور میں اور کائنات تھم چکی تھی اس کائنات میں کچھ تھا ہی نہیں میرے اور اس کے سوا ….اللہ بس باقی ہوس کا مطلب مجھے آج حقیقی طور پر معلوم ہو گیا تھا میں اپنی اس کیفیت پر جتنا غور کرتا گیا بس ایک ہی جگہ پر سوئی آکر اٹک جاتی تھی کہ یہ سب کچھ انہیں پیسوں کی برکت ہے جو مجھے میرے دوست نے دئیے ہیں اور جن سے میں نے اپنا پیٹ بھرا ہے رزقِ حلال صدقِ منال تو بچپن سے سنتے آئے تھے لیکن آج اس کا تجربہ ہو رہا تھا کہ رزق حلال کی اس راہ میں کیا اہمیت ہے ۔اور اس شعر کی باز گشت یکایک میرے ذہن میں گونجی   ؎   
اے طائرلاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
ابھی میں اس کیفیت سے پوری طرح لطف اندوز بھی نہیں ہو پا یا تھا کہ مجھے دو ر کہیں سے اذان کی آواز سنائی دی میں بڑا حیران ہوا کہ ابھی کون سی اذان کا وقت ہوا ہے میں نے گھڑی پر نظر ڈالی تو میرے پیروں کے نیچے سے زمیں نکلتی ہوئی محسوس ہوئی یہ تو فجر کا وقت ہو چکا تھا اور فجر کی اذان کی آواز تھی میں اپنے پورے ہوش و ہواس سے یہ بات کہہ سکتا تھا کہ ابھی ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ ہی میں نے گزارہ تھا یہ باقی درمیان کا وقت کہاں گیا میرا اضطراب تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا اور وقت تھا کہ رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا ابھی تو تشنگی بھی پوری نہیں ہوئی تھی پیاس بھی نہیں بجھی تھی کہ رات تمام ہوگئی ۔؎
عشق میں رات ہی کا رونا ہے ………رات دیکھی تو رات کچھ بھی نہ تھی
عشق کی واردات کچھ بھی نہ تھی ………بڑھ گئی بات بات کچھ بھی نہ تھی
مجھے بہت دیر بعد یہ بات سمجھ آئی کہ میرے دل میں اتنی حلاوت اور نرمی اس وجہ سے آئی تھی کہ میرے کھانے میں اس مردِ قلندر کے پیسے استعمال ہوئے تھے جو وہ چھوڑ گیا تھا تو کیا یہ سارا ڈرامہ صرف میرے لئے کھیلا گیا تھا اس کے یہ الفاظ میرے کانوں میں گونجنے لگے کہ تیری خاطر ہاں ہاں تیری خاطر اب مجھے سمجھ آیا در اصل مجھے چلایا جا رہا تھا دوسرے دن میری کیفیت اس سے بھی مختلف تھی پھر ہر گزرنے والا کل مجھے میرے آج سے ہلکا ہی لگا اس میں روز افزوں اضافہ ہی ہوتا گیا میری ہر گزرنے والی رات میرے اضطراب میں اضافہ ہی کرتی جاتی تھی میرے دل کی حالت ہر روز تبدیل ہوتی جارہی تھی ۔ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن کے مصداق ۔
ایک رات اچانک میرے دل کے اندر ایک چھناکا سا ہواا ور مجھے بڑی پرانی بات اچانک یاد آگئی یا یاد دلائی گئی اور بہت ساری گتھیاں ایک ساتھ سلجھ گئیں سچ سچ سچ وہ سچا انسان کون ہے وہ سچا انسان کون ہے تلاش کر تلاش کر کیا خدا نے مجھے ابھی تک اس سے نہیں ملوایا جس کے لئے میں نے نماز شروع کی تھی اس سوال کے لیے ہی تو میں اس در پر آیا تھا اور وہی سوال ابھی تک لا جواب تھا میں اسے کہاں تلاش کروں یا اللہ اب تو مجھے اس نیک انسان سے ملوادے اور اب مجھے% 100یقین تھا کہ میں اس سے مل لوں گا مگر کیسے یہ کیسے ابھی ایسے ہی تھا کہ اچانک مجھے اپنے اندر سے ایک گونج سی سنائی دی ہاں یہ سو فیصد میری ہی آواز تھی جو میرے اندر سے آرہی تھی ہاں یہ اپنی آواز ہی ہوتی ہے سب کچھ تیرے اندر ہی ہے باہر تو صرف تیرے اند ر کا عکس ہے جو تجھے پریشان کئے رہتا ہے اگر تو اپنے اندر کو پہچا ن لے تو باہر کچھ بھی نہیں جو تجھے تلاش کرنا پڑے یہ کائنات تیر ا ہی عکس ہے۔۔۔
من عرفَ نفسہ فقد عرفَ ربّہ
جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا
تو ایک جہانِ اصغر ہو اپنے اندر داخل ہوجا سب کچھ پالے گا اپنے اندر غور کرو تلاش کر جس چیز کی تجھے تلاش ہے مل جائے گی اگر نہ ملے تو پھر کہنا اور جب میں نے اپنے آپ کو ٹٹولا تو مجھ پر حیرتوں کا ایک اور جہاں وا ہوگیا میں اس کے اندر ہی اندر اترتا گیا یہاں تک کہ میں نے اس سچے انسا ن کو پا لیا جس کی تلاش مجھے اس مقام تک لے آئی تھی وہ وہاں بڑی شان سے بیٹھا تھا اور وہ میں ہی تھا یہ میں ہی تھا جس نے اپنے رب سے عہد کیا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے آج کے بعد میں جھوٹ نہیں بولوں گا وہ بے خبری میں کیا ہوا عہد مجھے یاد آگیا اور میرا سر احساسِ تشکر سے احساسِ احسان سے اور احساسِ محبت سے جھک گیا ۔
آج اس نے مجھ پر اپنے راز کے وہ خزانے نچھاور کیے تھے کہ جس کے بعد میرے آنسو تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے واہ میرے مولا تیرے بلانے کے انداز بھی نرالے ہی ہیں تو تو اپنے بندوں کے منہ میں نوالے بنا بنا کے ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ بس تم چباتے جاؤ اور باقی مجھ پر چھوڑ دو ہم کتنے بد نصیب ہیں کہ تجھ کو اتنا دو ر سمجھ بیٹھے ہیں تجھے آسمانوں میں سجا رکھا ہے تو تو اتنا قریب ہے کہ اتنی قربت کا انسان تصور بھی نہیں کرسکتا ۔
یہ تیسرا دن تھا کہ میرا دوست مجھے بڑی شدت سے یاد آ رہا تھا مجھے میرے باس نے اپنے کمرے میں بلایا تھا لیکن میرا دل جانے کو نہیں چاہ رہا تھا میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں اڑ کے کسی طرح اپنے محسن کے پاس پہنچ جاؤں لیکن باس کی بات سننا بھی ضروری تھی مجھے جاتے جاتے ایک بات اچانک یاد آئی کہ اس نے ایک بار کہا تھا کہ اس کی کبھی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی میں تمہاری پکار سے پہلے ہی تمہارے پاس ہوں گا لیکن آج مجھے اس کو پکارنے کی ضرورت پیش آگئی تھی اسی شش و پنج میں ،میں باس کے آفس میں داخل ہوا تو وہ محوِ گفتگو تھا مجھے اس بار بالکل حیرت نہیں ہوئی بلکہ اچانک ہی علامہ اقبال کے ایک شعر کے معنی سمجھ آگئے ’’حالات کا مرکب نہیں راکب ہے قلندر ‘‘یعنی قلندر وہ ہے جو حالات کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ حالات اس کے اشارے کے محتاج ہوتے ہیں ۔اس نے اچانک گردن موڑ کے میری طرف دیکھا اور بڑے معنی خیز انداز میں مسکرایا اور کہنے لگا بڑی دیر لگادی ایک سچ کو تلاش کرنے میں ۔۔۔لیکن مجھے تلاش کرنے میں تو دیر نہیں لگی ؟
 any wayاب اس سچ کی حفاظت کرنا اچھا سر اب میں چلتا ہوں اور باس سے ہاتھ ملا کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا دفتر سے نکل گیا میں پتھر کا بت بنا گم سم اسے دیکھتا ہی رہ گیا ۔عرصہ بیت گیا اس واقعہ کو لیکن آج بھی میں یہ نہیں جان سکا کہ وہ کون تھا اس کے آخری الفاظ آج بھی میرے کانوں میں اسی پہلے دن کی طرح گونجتے ہیں any way، any wayیہ الفاظ اس نے جس انگریزی انداز میں کہے تھے اور باس کا اس بات پر اصرا ر کہ وہ انگریز تھا انگریزی میں گفتگو کر رہا تھا اور اس کا وہ انگلش ایکسینٹ کسی اردو بولنے والے کا تھا ہی نہیں باس کا کہنا تھا کہ وہ کسی کام کے سلسلے میں آیا تھا اور مجھے تو یہ بھی یاد نہیں کہ میں نے تمہیں بلایا کیوں تھا اس دن ۔۔۔بہر حال میں نے باس کو کچھ نہیں بتایا سب بیکار تھا ۔
دوستو ں یہ سوال مجھے آج بھی پریشان کئے ہوئے ہے کہ وہ کون تھا؟ کوئی انگریز تھا ، کوئی انسان تھا، مسلمان تھا، جن تھا ،فرشتہ تھا، کوئی مردِقلندر تھا، بابا تھا، کیا تھا اور کیا کوئی انگریز بابا ہو سکتا ہے میرا جواب تو ہاں میں ہے آپ کیا کہتے ہیں۔۔۔ اگر آپ کوکبھی وہ ملے تو مجھے ضرور بتانا مجھے انتظار رہے گا ۔

اے خدا میرے تخیل کو توانا کردے

اس لکھے کو میری بخشش کا بہانہ کردے

یہ تصور و خیالات کا پیہم سنگم

ہو بہو اسکو حقیقت کا فسانہ کردے

یہی منصور ہو اور ہو تیری یادوں کا جہاں

میرے دل میں اپنی یادوں کاخزانہ بھر دے

[[[[[ آمین ]]]]]

مضمون نگار :  منصور بھائی ۔
ادارہ’’سنپ‘‘ صاحب مضمون کا ہمہ تن مشکور و ممنون ہے۔یاد آوری جاری رکھنے کی التماس۔[شکریہ]

0 : : : ----- ((( تبصرے جات ))):

Post a Comment

خوش آمدید